اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

شنگھائی تعاون تنظیم اور مسائل کا حل

کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پانی اس خطے کی لائف لائن ہے اور کسی بھی ملک کو اسے بطور سیاسی ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل ہی بین الاقوامی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے کی بالادستی کو تسلیم کرتے ہوئے بھارت کو کہا ہے کہ وہ اس معاہدے کی پابندی کرے۔ پانی پر سیاست یا اسے بطور ہتھیار استعمال کرنا ایسا خطرناک رجحان ہے جو نہ صرف کروڑوں افراد کی زندگیوں‘ زراعت اور خوراک کے تحفظ کو خطرے میں ڈالتا بلکہ یہ دو جوہری ممالک کے درمیان ہولناک جنگ کا نقطۂ آغاز بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ باہمی مسائل کے حل کیلئے بین الاقوامی معاہدوں پر ان کی روح کے مطابق عملدرآمد ہونا چاہیے‘ کیونکہ ان معاہدوں کا احترام ہی خطے کو کسی بڑے انسانی اور ماحولیاتی المیے سے بچا سکتا ہے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پائیدار امن اور علاقائی استحکام کے بغیر دنیا کا کوئی بھی خطہ ترقی نہیں کر سکتا۔

شنگھائی تعاون تنظیم کا بنیادی فلسفہ ہی یہ ہے کہ جب تک علاقائی اور رکن ممالک کے درمیان پائیدار امن قائم نہیں ہوگا‘ تب تک باہمی تجارت‘ سرمایہ کاری اور ترقی کا خواب ادھورا رہے گا۔ موجودہ دور میں ریاستی چیلنجز کی نوعیت یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ آج کے دور میں ماحولیاتی مسائل‘ سرحدی تنازعات‘ تجارت ‘ سمگلنگ‘ انسدادِ دہشت گردی اور پانی سمیت متعدد ایسے معاملات ہیں جن میں تمام ممالک اپنے ہمسایوں پر انحصار کرتے ہیں۔ کوئی بھی ملک باقی دنیا سے کٹ کر یا تنہائی میں نہیں رہ سکتا۔ جب خطے کے تمام ممالک باہمی انحصار کی اس حقیقت کو تسلیم کریں اور ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کرتے ہوئے آگے بڑھیں‘ تبھی پائیدار ترقی کے سفر کا آغاز ہو سکتا ہے۔ اگرچہ مختلف ملکوں کے مابین سرحدی و دیگر مسائل موجود ہیں تاہم ان پیچیدہ اور سنگین مسائل کا حل مذاکرات اور سفارتکاری میں پنہاں ہے۔ پائیدار امن واستحکام کیلئے عالمی معاہدوں پر ان کی روح کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔ مسائل خواہ کتنے ہی دیرینہ اور پیچیدہ کیوں نہ ہوں‘ بامقصد اور سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے انہیں حل کیا جا سکتا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کا پلیٹ فارم رکن ممالک کو یہی موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ میز پر بیٹھیں‘ ایک دوسرے کے تحفظات کو سنیں اور بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے منصفانہ حل تلاش کریں۔

اگر شنگھائی تعاون تنظیم کی ساخت اور اسکے اثر و رسوخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ بلاک غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ چار ایٹمی ریاستوں؛ چین‘ روس‘ پاکستان اور بھارت سمیت دس مستقل ممالک پر مشتمل یہ بلاک دنیا کی سب سے بڑی آبادی اور عالمی معیشت کے ایک چوتھائی حصے کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس بلاک کے اثر و رسوخ کا تقاضا ہے کہ اسے عالمی امن اور اقتصادی تعاون کیلئے ایک تعمیری قوت کے طور پر بروئے کار لایا جائے۔ اس ضمن میں پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی یہ ہے کہ ایس سی او سربراہانِ مملکت کونسل کی صدارت آئندہ سال کیلئے پاکستان نے سنبھال لی ہے۔ یہ پیشرفت پاکستان کے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی اور سفارتی قد کا واضح ثبوت ہے۔ صدارت کا یہ منصب پاکستان کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ اگلے ایک سال تک تنظیم کے ایجنڈے کی سمت کا تعین کرے‘ علاقائی روابط کو فروغ دے اور بیلٹ اینڈ روڈ جیسے منصوبوں کے ذریعے یوریشیائی رابطوں کے وژن کو عملی جامہ پہنائے۔بھارت سمیت تمام رکن ممالک کیلئے یہ ایک بڑا موقع ہے کہ وہ روایتی دشمنیوں اور یکطرفہ اقدامات کو ترک کر کے ایک ایسے نئے دور کا آغاز کریں جہاں قانون کی بالادستی اور باہمی معاہدوں کا احترام ہو۔ ترقی کا سفر تبھی طے کیا جا سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں