مشرقِ وسطیٰ کا سنگین ہوتا بحران
وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب میں ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل اور عیسر صوبے میں ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر میزائل حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری‘ علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کیلئے پُرعزم ہے۔ حرمین شریفین کی نسبت سے سعودی عرب کو عالم اسلام میں دل کی حیثیت حاصل ہے اور اس پہ ہوئے جارحانہ حملوں پر پورا عالم اسلام کرب میں مبتلا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کا خطہ طویل عرصے سے پراکسی جنگوں کا اکھاڑا بنا ہوا ہے اور اب اس جنگ کے شعلے سرزمین حرمین تک پہنچ گئے ہیں۔ یہ امر بلاشبہ پورے عالم اسلام کیلئے سخت تشویشناک ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بحران اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کیلئے عالمی ادارے اور علاقائی ومغربی قوتیں فوری طور پر اپنا فعال کردار ادا کریں اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلوں کو بجھانے کی تدبیر کریں۔ مشرقِ وسطیٰ کا بحران محض ایک خطے کا بحران نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کی معاشی شہ رگ پر حملہ ہے۔

ایک طرف خلیج فارس میں آبنائے ہرمز تو دوسری جانب بحیرہ احمر میں باب المندب اور ملحقہ ساحلی پٹی تک جنگ وسیع ہونے سے بحیرہ احمر کی یہ شہ رگ ایک ایسے بحران کی زد میں آ گئی ہے جو پورے عالمی تجارتی نظام کو مفلوج کر سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب محض دو آبی گزرگاہیں نہیں بلکہ عالمی توانائی اور سپلائی چین کے وہ دو بازو ہیں جن سے عالمی معاشی نظام فعال ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ دونوں راستے بیک وقت بند یا شدید متاثر ہوتے ہیں تو دنیا کو 25 سے 30 فیصد توانائی کی ترسیل رک سکتی ہے اور عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 150سے 200 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح کو چھو سکتی ہیں۔ پاکستان کیلئے یہ بحران دہری مشکلات کا سبب ہے۔ عالمی منڈی کی قیمتوں اور رسد کی بندش کے اثرات ایک طرف‘ پاکستان کی تیل اور گیس کی تقریباً تمام درآمدات آبنائے ہرمز اور باب المندب کے راستوں ہی سے آتی ہیں جبکہ علاقائی ہمسائیگی کے سبب بھی پاکستان مشرقِ وسطیٰ کے بحران سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
پاکستانی دفترِ خارجہ برادر اسلامی ملک سعودی عرب کیساتھ کھڑے رہنے‘ اس کی سالمیت‘ خودمختاری اور سٹرٹیجک مفادات کے تحفظ کے غیر متزلزل عزم کا اظہار کر چکا ہے جبکہ پاکستان اپنے بحری مفادات کے تحفظ کیلئے بھی پوری طرح تیار ہے‘ تاہم خطے کا ایک ذمہ دار ملک ہونے کے ناتے پاکستان کسی قسم کی جنگ یا عسکری تصادم کے حق میں نہیں ہے۔ پاکستان کی اولین اور مخلصانہ خواہش ہے کہ یہ معاملہ خوش اسلوبی سے مذاکرات کے ذریعے حل ہو۔ پاکستان کا دیرینہ مؤقف رہا ہے کہ طاقت کا استعمال مسائل کو مزید الجھاتا ہے۔ لہٰذا جہاں پاکستان سعودی عرب کی سکیورٹی کے معاملے پر کوئی سمجھوتا نہ کرنے کے عزم پر قائم ہے وہیں سفارتی چینلز کو فعال کرنے اور ڈائیلاگ کے ذریعے بحیرہ احمر کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کیلئے بھی کوشاں ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری بالخصوص مغربی طاقتیں بھی اس تنازع کو حل کرنے کیلئے سفارتی کوششیں تیز کریں۔