"KNC" (space) message & send to 7575

تخلیقی اقلیت کہاں ہے؟

فیض صاحب کا یہ شعر تو سب نے سن رکھا ہے:
ہر چارہ گر کو چارہ گری سے گریز تھا
ورنہ ہمیں جو دکھ تھے بہت لا دوا نہ تھے
25کروڑ کے ایک ملک میں کیا کوئی ایک فرد ایسا نہیں ہے جو چارہ گر ہو؟ جس پر قوم اجتماعی طور پر اعتماد کرتی ہو؟ فرد نہ سہی کوئی گروہ؟ کیا ہماری اجتماعی دانش بانجھ ہو گئی ہے؟ کیا ہم میں اتنی بصیرت باقی نہیں رہی کہ ہم اپنے تنازعات کو حل کر سکیں؟
ٹوائن بی نے تہذیبوں کے عروج و زوال کے باب میں ایک ''تخلیقی اقلیت‘‘ (Creative Minority) کا ذکر کیا ہے۔ یہ جب بروئے کار آتی ہے تو تہذیب عروج کی طرف گامزن ہو جاتی ہے۔ میرا خیال ہے یہ بات ہر اجتماعیت کے لیے درست ہے۔ نہ صرف تہذیب بلکہ قوم اور ملک بھی اگر تخلیقی اقلیت سے محروم ہو جائیں تو زوال کے راستے پر چل پڑتے ہیں۔ میں مدت سے اس پر سوچ رہا ہوں کہ مذہب ہو یا سیاست‘ ہمارا ہر اختلاف تصادم پر کیوں منتج ہوتا ہے؟ ایسا کیوں ہے کہ ہم کسی ایسے حل پر متفق نہیں ہو پاتے جو عقلِ عام کے مطابق ہو اور جو سب کے لیے قابلِ قبول ہو۔
ہماری ریاست مسلسل حالتِ اضطراب میں ہے۔ قوم میں کوئی نقطۂ اتصال نہیں۔ ریاست اور ایک طبقے میں خلیج حائل ہے۔ پاکستان میں 25کروڑ افراد رہ رہے ہیں۔ ان کے معاملاتِ زندگی رواں دواں ہیں۔ لوگ خواہشات اور ضروریات کے مابین ایک توازن قائم کر لیتے ہیں۔ حقیقت پسندی کے ساتھ زندگی کے سفر کو جاری رکھتے ہیں۔ پسند کی شادی نہ ہو سکے تو عمر بھر کنوارے نہیں بیٹھے رہتے‘ جو میسر ہوتا ہے اس کے ساتھ زندگی گزار دیتے ہیں۔ خواہش کے مطابق نوکری نہ ملے تو بیروزگاری کو قبول نہیں کرتے‘ جو ملازمت ملے اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ لوگ مگر جیسے ہی قومی معاملات کی بات کرتے ہیں‘ حقیقت سے کوسوں دور ہو جاتے ہیں۔ اگر حکومت اور ریاست کی بحث ہو تو وہ مثالیت پسند بن جاتے ہیں۔ یہ رویہ مذہب اور سیاست دونوں میں دکھائی دیتا ہے۔ یہاں عقل کا کوئی کردار نہیں ہے۔ سراب کے پیچھے دوڑتے اور ایک ایسے سفر میں زندگی بِتا دیتے ہیں جس کی کوئی منزل نہیں ہوتی۔ انفرادی اور اجتماعی زندگی کا یہ تضاد کیوں ہے؟
اس سوال کا جواب تلاش کرنا ''تخلیقی اقلیت‘‘ کا کام ہے۔ یہ اقلیت بھی اس وقت مؤثر ہو گی جب ریاست کے معاملات اس کے ہاتھ میں آئیں گے یا ان کے ہاتھ میں‘ جو اس اقلیت کی بات کو اہمیت دینے پر آمادہ ہوں۔ ہمارا معاملہ یہ ہے کہ اول تو وہ تخلیقی اقلیت موجود نہیں ہے اوراگر کہیں ہے بھی تو اربابِ حل و عقد اس کی اہمیت کو نہیں سمجھتے۔ وہ خود ہی کو اس کا مصداق سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ عقل کے سوتے ان کے آنگن سے پھوٹتے اور انہی کے گھر کو سیراب کرتے ہیں۔ وہی تخلیقی اقلیت ہیں اور انہی کو فیصلہ کرنے کا حق ہے۔ اب ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ لوگ پڑھتے نہیں ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ اقتدار پر فائز گروہ کے لیے جن مصنفین کی کتابیں بطورِ خاص شائع کی جاتی ہیں‘ ان میں ٹوئن بی اور پال کینیڈی جیسے دانشور اور تاریخ دان موجود ہیں۔ یہ کتابیں ان کی سوچ پر کوئی اثر نہیں ڈالتیں۔ عشروں سے پاکستان میں آزمودہ فارمولوں کو اپنایا جا رہا ہے اور ان لوگوں کی باتوں پر کوئی کان دھرنے پر آمادہ نہیں ہوتا جو تاریخ اور علمِ تاریخ کے شناور ہیں۔
آج ریاست کا سامنا ایک ایسے گروہ سے ہے جو نیم سیاسی‘ نیم انقلابی اور نیم خواندہ ہے۔ ناخواندگی اتنی بری چیز نہیں جتنی نیم خواندگی۔ اس لیے کہاوت ہے کہ نیم حکیم خطرہِ جان‘ نیم ملا خطرہِ ایمان۔ ادھورا علم بہت خطرناک ہوتا ہے۔ آج ریاست کوان کے ساتھ معاملہ کرنا ہے۔ اس کے سامنے سوال یہ ہے کہ وہ اس گروہ سے کیسے نمٹے؟ میں جب ریاست کے ذمہ داران کی گفتگو سنتا ہوں‘ مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں معاملات کو ان کے درست تناظر میں سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ ابلاغ کا ایسا خلا ہے جو ختم نہیں ہو رہا۔ یہ المیہ اس وقت دو چند ہو جاتا ہے جب ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ آج ہمارے پاس نہ کوئی ایسا فرد موجود ہے اور نہ ادارہ جس پر قوم اجتماعی طور پر اعتماد رکھتی ہو۔ جو ادارے کبھی یہ حیثیت رکھتے تھے‘ آج فریق ہیں۔ جب قوموں میں ارتداد پھیل جائے تو انہیں کسی ابو بکر صدیقؓ کی ضرورت ہوتی ہے۔ مولانا علی میاں کہتے تھے کہ آج ارتداد تو ہے‘ ابوبکر صدیقؓ کوئی نہیں۔
عقلی طور پر یہ بات قابلِ قبول نہیں ہے کہ 25کروڑ کے ایک ملک میں چند افراد بھی ایسے موجود نہ ہوں جو درپیش مسائل کا قابلِ عمل حل بتا سکیں۔ یہ عقلاً محال ہے۔ جب مرض ہوتا ہے تو لازماً اس کی دوا بھی ہوتی ہے۔ یہ دوا دریافت کرنا پڑتی ہے۔ کووڈ کی تباہی کو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ بستیوں کی بستیاں موت کی وادی میں اُتر گئیں۔ اب کچھ ایسے بھی تھے جو علاج کی تلاش میں نکلے اور ویکسین دریافت کر لائے۔ اسی طرح دنیا سے چیچک کا خاتمہ ہوا۔ اسی طرح پولیو ختم ہوا۔ سیاست کا معاملہ بھی یہی ہے۔ کبھی اقتدار کے فیصلے میدانِ جنگ میں ہوتے تھے۔ تلوار فیصلہ کن تھی۔ آج پولنگ بوتھ پر ہوتے ہیں۔ آج ووٹ فیصلہ کن ہے۔ یہ تبدیلی کیسے آئی؟ وہی تخلیقی اقلیت کام آئی ہے۔ کچھ اہلِ دانش نے غور کیا۔ تاریخ کو سمجھا‘ عقلِ عام کو استعمال کیا اور مسئلے کا حل نکل آیا۔ یہ اقلیت قدرت کی طرف سے زمین پر بکھیر دی گئی ہے۔ یہ کسی ایک خطے میں مرتکز نہیں۔ یہ ترقی یافتہ ممالک میں پائی جاتی ہے اور ترقی پذیر معاشروں میں بھی۔ وہ ترقی یافتہ اس لیے کہلاتے ہیں کہ وہاں یہ تخلیقی اقلیت بروئے کار آتی ہے۔ اس کی سنی جاتی ہے۔ جو ترقی پذیر ہیں‘ وہ اس لیے ترقی پذیر ہیں کہ وہاں اقلیت غیر فعال ہے۔ اور اگرکہیں فعال ہے تو معاملہ ساز اس سے بے نیاز ہیں۔
میں برسوں سے لکھ رہا ہوں کہ جب ایک فرد یا گروہ کو سیاسی عصبیت حاصل ہو جاتی ہے تو اس کے ساتھ معاملہ کرنے کے لیے مختلف حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ بھی عرض کیا تھا کہ طاقت ہر مسئلے کا حل نہیں ہوتی۔ طاقت کے استعمال سے ہم بعض اوقات ایک مسئلے کو دبا لیتے ہیں لیکن وہ زیر زمین سلگتا رہتا ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ آتش فشاں بن کر پھٹ پڑتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے درد کو درد کش (Pain killer)دوائی سے دبا دیتے ہیں۔ درد ختم نہیں ہو جاتا‘ جسم میں موجود رہتا ہے۔ وہ اسی وقت ختم ہوتا ہے جب اس کے سبب کو دریافت کرکے اس کا خاتمہ کیا جاتا ہے۔
پاکستان کو آج چارہ گر کی ضرورت ہے۔ ہمارا درد لا دوا نہیں ہے۔ ریاست کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے کہ منصوبہ سازی اور قوت اس کے ہاتھ میں ہے۔ ساری عقل و بصیرت‘ اس وقت درد کو دبانے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ اس کی افادیت اپنی جگہ مگر کسی کو اصل بیماری کے سراغ کے لیے بھی کوشش کرنی چاہیے۔ میرے لیے یہ بات قابلِ قبول نہیں کہ 25کروڑ عوام یہ مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔اگر ہم بانجھ ہوتے تو کسی شعبے میں زندگی کے آثار نہ ہوتے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں

Comments / رائے دیں

Share your thoughts. Comments are reviewed before they appear publicly.

Your comment will remain hidden until approved by admin.

Approved Comments

Loading comments...