اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مفاہمانہ طرزِ سیاست کی ضرورت

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان سیاسی ڈیڈ لاک ختم کرانے کیلئے متحرک ہونا سیاسی حبس میں تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن‘ دونوں جانب سے مولانا فضل الرحمن سے رابطہ کیا گیا ہے اور مذاکراتی سلسلے کو جاری رکھنے کیلئے کردار ادا کرنے کا کہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب حکومت خیبر پختونخوا کے سیاسی مستقبل سے متعلق آج (ہفتے کو) اعلیٰ سطحی اجلاس میں حتمی فیصلہ کرنے جا رہی ہے۔ اس وقت فریقین میں پائی جانے والی بداعتمادی ہی ان کی راہ کی بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے اور سیاست کو بند گلی سے نکالنے کیلئے ایک ایسے قابلِ قبول چہرے کی ضرورت ہے جو فریقین کے درمیان ایک پُل کا کردار ادا کر سکے۔ امید ہے کہ مولانا فضل الرحمن اپنے والد محترم مفتی محمود الرحمن کی سیاسی روایت کو زندہ کرتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے اور مفاہمتی عمل کا نتیجہ خیز بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ جس طرح 1973ء کے آئین کی تیاری کے دوران مفتی محمود نے تمام تر سیاسی تحفظات کے باوجود ملک کو ایک متفقہ آئین دینے کیلئے حکومتی وفود کیساتھ طویل مذاکرات کیے اور لچک کا مظاہرہ کیا‘ آج بھی پاکستان کو اسی روایت کو زندہ کرنے اور مفاہمت کی سیاست کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی سیاستدانوں نے ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے‘ نقصان ہمیشہ جمہوریت اور ریاست کا ہوا ہے۔

سیاست تو بند راستوں پر پُل بنانے‘ تضادات کو مکالمے کی شکل دینے اور ناممکنات کے حصول کے فن کا نام ہے۔  موجودہ صورتحال میں جب سیاسی تلخی اپنی انتہا کو چھو رہی ہے اور منقسم سیاسی منظرنامے میں جہاں ہر فریق اپنے مؤقف پر اڑا ہوا ہے‘ وطنِ عزیز کو نوابزادہ نصر اللہ خان جیسے مفاہمت پسند اور طرفین کیلئے یکساں قابلِ قبول افراد کی کمی شدت سے محسوس ہو رہی ہے‘ جو متضاد نظریات کی حامل سیاسی قوتوں کو ایک میز پر بٹھانے اور سیاسی اختلافات کو ذاتی عناد میں بدلنے سے روکنے کا ہنر جانتے تھے۔ آج جب سیاست میں برداشت ختم ہو چکی ہے اور مکالمے کی جگہ دھمکیوں نے لے لی ہے‘ مفاہمانہ طرزِ سیاست کو زندہ کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ سیاسی مصالحت اور رواداری کی ایک مثال ہمارے سامنے میثاقِ جمہوریت کی صورت میں بھی موجود ہے‘ جب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) جیسی دو روایتی حریف سیاسی جماعتوں نے نوے کی دہائی کی تلخیوں اور سیاسی انتقام کے روایتِ بد کو پسِ پشت ڈال کر ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس نے نہ صرف ملک میں جمہوریت کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا بلکہ سیاسی رواداری اور بقائے باہمی کے ایک نئے دور کی بنیاد بھی رکھی۔ اگرچہ بعد ازاں سیاسی قیادت اس معاہدے پر اسکی روح کے مطابق عمل نہ کر سکی اور جمہوریت کی بنیادیں کھودنے کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا‘ مگر آج کی قیادت کو اسی سیاسی تدبر اور وسیع القلبی کو اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ سیاسی تعطل کو ختم کر کے مذاکرات کے ذریعے سیاسی معاملے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ اس کیلئے ملک کے دیگر سنجیدہ فکر رہنماؤں کو بھی آگے آنا چاہیے۔

محمود خان اچکزئی‘ علامہ راجا ناصر عباس سمیت دیگر سیاسی قیادت‘ جس کا اپنا ایک سیاسی وزن اور ساکھ ہے‘ انکی شمولیت سے اس مفاہمتی عمل کو مزید وسعت اور استحکام مل سکتا ہے۔ سیاسی قائدین کو چاہیے کہ گروہی مفادات اور وقتی سیاسی نفع و نقصان سے بالاتر ہو کر ملک کو درپیش آئینی و سیاسی ہیجانی کیفیت سے نجات دلانے کی سعی کریں۔ مذاکرات کی کامیابی کا سب سے بڑا اصول یہ ہے کہ فریقین ایمانداری‘ خلوص اور نیک نیتی کیساتھ بغیر کسی کڑی شرط کے مذاکرات کی میز پر بیٹھیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ خلوصِ دل سے کی جانیوالی کوششیں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں اور جہاں نیت صاف ہو وہاں راستے خود بخود بنتے چلے جاتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں