اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

ریلوے کی زبوں حالی

گزشتہ روز قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر ریلوے کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2022ء سے ستمبر 2026ء تک ملک میں ٹرینوں کے پٹری سے اترنے کے 349 واقعات پیش آئے۔ ان میں 95 واقعات عملے کی غلطی اور 64 رولنگ سٹاک کی خرابی کے باعث ہوئے‘ جبکہ سب سے بڑی وجہ ریلوے ٹریک کی خرابی بتائی گئی۔ ملک میں تواتر سے پیش آنیوالے ریلوے حادثات حفاظتی انتظامات اور دیکھ بھال کے نظام کا ازسرنو جائزہ لینے کی متقاضی ہیں۔ قیامِ پاکستان کے بعد ملک میں ریلوے کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے پر مطلوبہ توجہ نہیں دی جا سکی۔ نئے ٹریک بچھانا تو دور کی بات موجودہ پٹریوں کی بروقت مرمت اور دیکھ بھال بھی ایک بڑا چیلنج دکھائی دیتی ہے۔

ٹریک‘ سگنل نظام‘ انجنوں اور بوگیوں کی حالت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے؛ ان میں سے کسی ایک حصے کی خرابی بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔حکام کو چاہیے کہ خطرناک ریلوے ٹریکس کی فوری نشاندہی‘ باقاعدہ تکنیکی معائنے‘ بروقت مرمت اور حفاظتی آلات کی تنصیب کیلئے اقدامات کریں۔ عملے کی غلطیوں کی روک تھام کیلئے تربیت‘ قواعد پر سختی سے عملدرآمد اور غفلت کے مرتکب افراد کیخلاف شفاف کارروائی بھی ضروری ہے۔ ریلوے کی بحالی کیلئے مسلسل سرمایہ کاری اور مؤثر انتظام ضروری ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں