دہشت گردی کے خلاف مصمم عزم
گورنر ہاؤس پشاور میں نیشنل ایکشن پلان کی اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کر کے امن و ترقی کو بحال کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے باعث وفاقی حکومت صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ پر مجبور ہوئی۔ وزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے 160 ارب روپے فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا۔ اس بات میں کچھ شک نہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کا سنگین ہوتا مسئلہ غیر معمولی اور سخت فیصلوں کا تقاضا کر رہا ہے۔ اس وقت ملک میں امن وامان کی دگرگوں صورتحال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ سکیورٹی سے متعلق ایک ملکی ادارے کی رپورٹ کے مطابق صرف ستمبر کے مہینے میں ملک بھر میں دہشت گردی کے 225 سنگین واقعات ریکارڈ کیے گئے اور یہ تعداد گزشتہ 12 سالوں میں کسی بھی ایک مہینے کے دوران ہونے والے حملوں کی سب سے بڑی شرح ہے۔ ستمبر کے اس خونیں مہینے میں 259 اموات اور 242 افراد زخمی ہوئے۔ گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026ء کی رپورٹ میں بھی پاکستان کو دہشت گردی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پر رکھا گیا جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ماضی قریب میں دہشت گردی کے خلاف حاصل کی گئی کامیابیاں اب ہاتھ سے پھسل رہی ہیں اور اس حوالے سے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ دہشت گردی کی نئی لہر کا عمیق جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کے مغربی صوبے‘ خیبر پختونخوا اور بلوچستان اس عفریت کا سب سے زیادہ شکار ہیں۔

اور اس کا سبب ان صوبوں کی افغانستان کیساتھ طویل اور دشوار گزار سرحد ہے۔ 2021ء میں کابل میں افغان طالبان کی واپسی کے بعد یہ توقع کی جا رہی تھی کہ اب دہشت گردوں کی سرپرستی اور سرحد پار سے ہونے والی دراندازی کا سلسلہ تھم جائے گا لیکن عملاً صورتحال اس کے عین برعکس نکلی۔ کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر شرپسند عناصر کو افغانستان میں نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں‘ جہاں سے وہ پاکستان پر حملہ آور ہوتے ہیں بلکہ پیچیدہ‘ دشوار گزار اور غیر ہموار سرحدی علاقے میں دراندازی کا سلسلہ بھی کسی نہ کسی طور جاری ہے۔ اب وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف تمام وسائل فراہم کرنے‘ پولیس کی تربیت اور استعدادِ کار میں اضافے‘ کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کو مؤثر بنانے کی جو ہدایات کی ہیں‘ اور وفاق کی جانب سے جو فنڈز کا اعلان کیا ہے‘ ان پر لفظ بہ لفظ فوری عمل کرنا ہو گا۔ نیز دہشت گردی کے خلاف عسکری آپریشنز کو تیز کرنے کیساتھ ساتھ ایک منظم‘ ٹھوس اور طویل المیعاد سیاسی منصوبہ بندی بھی ناگزیر ہے۔ ٹارگٹڈ آپریشنز سے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کو توڑا جا سکتا ہے لیکن جب تک اُن فکری‘ معاشی اور سیاسی محرکات کا خاتمہ نہیں کیا جاتا جو نوجوانوں کو انتہا پسندی کی طرف راغب کرتے ہیں‘ اس ناسور کو جڑ سے نہیں اکھاڑ پھینکا جا سکتا۔
وفاق اور صوبوں کے درمیان سکیورٹی حکمتِ عملی پر مکمل ہم آہنگی‘ پسماندہ علاقوں کی ترقی اور مقامی قیادت کو اعتماد میں لینا اس سیاسی منصوبے کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔ یہ محض سکیورٹی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ سماج کے تحفظ اور اس کی سلامتی کی جنگ ہے۔ سماج کے تمام طبقات کو مل کر انتہا پسندی اور دہشت گردی کے بیانیے کا فکری توڑ کرنا ہو گا۔ جب تک عوام اور ریاست ایک پیج پر کھڑے ہو کر دہشت گردوں کو پناہ دینے اور ان کی سہولت کاری کرنے والوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار نہیں بنیں گے اس عفریت کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں ہو سکے گا۔ اپیکس کمیٹی کا عزم تبھی حقیقت کا روپ دھار سکتا ہے جب عسکری قوت‘ سیاسی بصیرت اور عوامی اتحاد مل کر اس چیلنج کا مقابلہ کریں۔ اسی طرح ہم پاکستان کو پُرامن اور ایک محفوظ ملک بنا سکتے ہیں۔