مہنگائی خدشات اور حکومتی ذمہ داریاں
آئی ایم ایف نے اپنی حالیہ علاقائی اقتصادی رپورٹ میں پاکستان کی مجموعی معاشی پیداوار میں رواں سال 1.3 فیصد کمی اور مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق اس کی وجہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ہے۔ عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق بھی پاکستان میں مہنگائی کی شرح مالی سال 2027ء میں 8.2 فیصد تک پہنچ سکتی ہے‘ جو گزشتہ مالی سال میں 7.1 فیصد رہی۔ عالمی بینک نے بلند توانائی و اجناس کی قیمتوں اور خوراک کی قیمتوں کے دباؤ کو معاشی بحالی کیلئے خطرہ قرار دیا ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں کی یہ رپورٹیں محض اعدادوشمار نہیں بلکہ حکومت کیلئے ایک تنبیہ ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ عالمی منڈیوں اور علاقائی صورتحال پر مسلسل نظر رکھتے ہوئے ایسے اقدامات کرے جن سے بیرونی جھٹکوں کا بوجھ کم سے کم عوام پر منتقل ہو۔

حکومت ممکنہ مہنگائی کی روک تھام‘ کمزور طبقات کے تحفظ اور پائیدار معاشی اصلاحات کو ایک مربوط حکمت عملی کا حصہ بنائے۔ عالمی بینک نے واضح کیا ہے کہ سٹرکچرل اصلاحات پر تیز رفتار اور مستقل عملدرآمد سے پاکستان کی فی کس آمدنی 2050ء تک تین گنا ہو سکتی ہے۔ قیمتوں میں استحکام کیلئے ٹھوس اور مربوط نظام‘ پیداواری صلاحیت بڑھانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے سخت معاشی اصلاحات کے نفاذ کی ضرورت ہے۔ اصلاحات کا عمل ہی عالمی بحرانوں کے اثرات کم کرنے اور معاشی ترقی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ مگر یہ کام سنجیدہ عملی اقدامات کا متقاضی ہے۔