تازہ اسپیشل فیچر

فروغِ رواداری اور قیام امن کیلئے اسلامی تعلیمات

لاہور: (مفتی ڈاکٹرمحمد کریم خان) ’’اسلام امن و سلامتی کا دین ہے، جس میں جبر و اکراہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے (البقرہ)، یہ مذہب تبلیغی ہے اور اس وقت دنیا کے تقریباً تمام ممالک میں اقلیت و اکثریت کی صورت میں اس کے ماننے والے موجود ہیں۔

تقریباً اٹھاون ممالک کا ریاستی مذہب اسلام ہے، ازمنہ سابقہ اور حالیہ میں صلیبیوں، ترکوں اور تاتاریوں نے مسلمانوں کو سختی کے ساتھ کچلنے کی کوششیں بھی کیں، لیکن اکثر ایسا ہوا کہ فاتحین نے ہی اسلام قبول کیا اور پھر اس کی تقویت کا باعث بنے، اسی حقیقت کے بارے میں پروفیسر تھامس آرنلڈ نے کہا تھا: اگرچہ عظیم الشان اسلامی سلطنت کے حصے بکھر گئے اور اسلام کی سیاسی قوت کو زوال آ گیا، لیکن دین اسلام کی روحانی فتوحات بدستور، بے روک ٹوک جاری رہیں۔ (He preaching of Islam, P24)

یہ امر قابل غور ہے کہ اسلام نے اپنے سیاسی زوال اور انحطاط کے زمانے میں بھی بعض نہایت شاندار روحانی فتوحات حاصل کیں، مثلاً اسلام کی تاریخ میں دو مواقع ایسے آئے ہیں جب وحشی کفار نے مسلمانوں کو سختی کے ساتھ پامال کیا، سلجوق ترکوں نے گیارہوں صدی اور تاتاریوں نے تیرہویں صدی میں، مگر ان دونوں موقعوں پر فاتحین نے اسی قوم کا مذہب اختیار کر لیا جس کو انہوں نے مغلوب کیا تھا، مسلمان مبلغین نے اپنا مذہب وسطی افریقہ، چین اور جزائر ہند چین میں بھی پھیلایا، حالانکہ ان کو وہاں کسی دنیوی حکومت کی امداد حاصل نہ تھی۔

یہی اسلامی تعلیمات، جو ہمیشہ اسلام کی تقویت کا باعث بنی ہیں، اسی لیے حکومتیں مسلم ہوں یا غیر مسلم، مسلمانوں نے اپنے کردار و عمل سے روا داری کو فروغ دیا اور مختلف مذاہب و قومیتوں کے باوجود امن قائم کیا، اس لیے اسلام کے پھیلاؤ کا اصل سبب یہی اسلامی تعلیمات اور مسلمانوں کا کردار ہے، عصر حاضر میں روا داری کو فروغ دینے اور امن قائم کرنے کیلئے اسی کردار کو اپنانے کی ضرورت ہے، اس بارے میں قرآن وحدیث کی تعلیمات کیا ہیں؟ اور مسلمانوں کا کردارو عمل کیا ہے؟ اس مضمون میں اختصار کے ساتھ بیان کیا جائے گا۔

فریضہ تبلیغ

اسلام کی تاریخ میں فریضہ تبلیغ ایسی چیز نہیں کہ اس کا خیال بعد کے زمانے میں پیدا ہو ا ہو، یہ وہ فرض ہے جو مسلمانوں پر ابتداء ہی سے عائد کر دیا گیا تھا، جیسا کہ قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیات سے ثابت ہے ’’اے رسولؐ لوگوں کو اپنے پروردگار کے راستے کی طرف دانائی اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان کے ساتھ ایسے طریق پر مباحثہ کرو، جو بہت اچھا ہو (سورۃ النحل: 125)، دوسری جگہ ارشاد ربانی ہے ’’ہم نے ہر اُمت کیلئے ایک طریقہ مقرر کر دیا ہے جس پر وہ چلتی ہے، پس اس بارے میں تجھ سے کوئی نہ جھگڑے اور تو اپنے پروردگار کی طرف بُلا، بے شک تو سیدھے راستے پر ہے اور اگر لوگ تجھ سے جھگڑیں تو کہہ دے کہ جو تم کرتے ہو اس کو اللہ خوب جانتا ہے۔ (سورہ توبہ)

جبر وا کراہ کی ممانعت

ان آیات سے معلوم ہوا کہ اسلام ابتداء ہی سے نظریہ اور عمل دونوں کے اعتبار سے ایک تبلیغی مذہب رہا ہے، چنانچہ رسول اللہﷺ کی سیرت اس امر کی روشن مثال ہے اور آپﷺ خود مبلغین اسلام کے اس طویل سلسلے کے سرخیل ہیں، جنہوں نے کفار کے دلوں میں اپنے دین کیلئے راہ پیدا کی، اگر اسلام کے تبلیغی جوش کا ثبوت تلاش کرنا ہو تو اسے کسی جابر شخص کی ایذا رسانی یا متعصب آدمی کے غیظ و غضب میں ڈھونڈنا عبث ہے، اسی طرح مسلم مجاہد کی وہ خیالی تصویر بھی حقیقت سے بہت دور ہے جس کے ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے میں قرآن دکھایا گیا ہے۔( تاریخ اسلام ، ج2 ، ص831)

اسلام کی صحیح روح کا مظہر وہ مسلمان مبلغ اور تاجر ہیں، جنہوں نے نہایت خاموشی کے ساتھ اپنے دین کو روئے زمین کے ہر خطے میں پہنچایا ہے، تبلیغ دین کے یہ پر امن طریقے صرف اس زمانے میں ہی اختیار نہیں کیے گئے جبکہ سیاسی حالات نے جبروا کراہ کے استعمال کو ناممکن یا خلاف مصلحت بنا دیا تھا، بلکہ قرآن شریف کی بہت سی آیات میں ایسے پر امن طریقوں کی سخت تاکید آئی ہے۔

پرامن تبلیغ کی تاکید

دین اسلام پُرامن تبلیغ کا داعی ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: ’’اہل کتاب کے ساتھ، سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے ان میں سے ظلم کیا ہے، جھگڑا مت کرو، مگر ایسے طریقے سے جو بہت اچھا ہو اور کہہ دو کہ ہم اس پر جو ہم پر اتارا گیا ہے اور تم پر اتارا گیا ہے، ایمان رکھتے ہیں اور ہمارا اللہ اور تمہارا اللہ ایک ہے، اور ہم اسی کو مانتے ہیں۔ (العنکبوت)

فروغِ رواداری اور قیام امن کیلئے حضورﷺ کی تعلیمات

امام بخاری حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: ’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، اور مہاجر وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی منع کردہ چیزوں کو چھوڑ دے‘‘(دعوتِ اسلام، ص 25-30)۔

مسلمان اور سلامتی

دائرہ اسلام میں مکمل طور پر داخل ہونے کیلئے ارکان اسلام نماز، روزہ، زکوٰۃ اور شہادتین کی ادائیگی ضروری ہے، جسے آیت مبارکہ ’’اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ‘‘(البقرہ) نے ’’سلم‘‘ میں داخل ہونے سے تعبیر کیا ہے، یعنی وہ سلامتی کے سمندر میں اپنا باد باں کھول کر اپنی کشتی چلاتا ہے، ایسا شخص ہر دم ہر سو سلامتی کی مہک پھیلاتا ہے، لوگ اس میں صرف بھلائی پاتے اور اس سے خیر ہی کی توقع رکھتے ہیں۔

تین حقوق

اللہ کا حق، ریاست کا حق اور دین کا حق (دعوتِ اسلام، ص 30-25)، حضرت عرباض بن ساریہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ آقا کریمﷺ نے فرمایا: ’’میں تمہیں اللہ سے ڈرنے اور سمع و اطاعت کی وصیت کرتا ہوں، اگرچہ تم پر حبشی غلام امیر بنا دیا جائے، تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا، وہ بہت سے اختلاف دیکھے گا لہٰذا میری اور خلفائے راشدین کی سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھنا اور نئی نئی باتوں سے بچنا، کیونکہ وہ بدعت گمراہی ہے‘‘(الجامع الصحیح، رقم الحدیث 10، ص 16)

اس حدیث مبارکہ میں رسول اللہﷺ نے تین حقوق کا ذکر فرمایا ہے، اوّل تقوٰی جو اللہ تعالیٰ کا حق ہے، دوم سننا اور اطاعت اختیار کرنا، جو حکومت چلانے والوں کا حق ہے، سوم سنت کے ساتھ تعلق قائم رکھنا، جو دین کاحق ہے۔

مسجد میں پیشاب کرنیوالے بدوی کے ساتھ آپﷺ کا برتاؤ

حضرت انس بن مالکؓ کا بیان ہے کہ ہم مسجد میں رسول اللہﷺ کے ہمراہ بیٹھے تھے کہ ایک بدوی مسجد میں آیا اور اس نے کھڑے ہو کر پیشاب کرنا شروع کر دیا، صحابہ کرامؓ نے اسے روکنا چاہا لیکن رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’اسے نہ روکو بلکہ اسے (اپنے حال پر) چھوڑ دو‘‘، چنانچہ صحابہ کرامؓ نے اسے کچھ نہ کہا، یہاں تک کہ وہ پیشاب سے فارغ ہوگیا، پھر رسول اللہﷺ نے اسے بلا کر ارشاد فرمایا: ’’یہ مساجد پیشاب اور گندگی کیلئے نہیں ہیں، یہ تو اللہ کے ذکر، نماز اور تلاوت قرآن کیلئے ہیں‘‘، پھر رسول اللہﷺ نے ایک آدمی کو حکم دیا، جس نے پانی کا ایک ڈول لا کر اس پر بہا دیا۔ (جامع ترمذی:2676)

عیسائی وفد کو مسجد نبویﷺ میں ٹھہرانا

فتح مکہ کے بعد آنحضورﷺ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ ثقفیؓ کو تبلیغ اسلام کیلئے نجران بھیجا مگر ان کی تبلیغی مساعی کا نجران کے نصاریٰ نے کوئی اثر قبول نہ کیا، بلکہ الٹا ان پر طرح طرح کے اعتراضات کئے، حضرت مغیرہ بن شعبہؓ نے واپس آ کر حضورﷺ کو صورت حال سے آگاہ کیا تو آپﷺ نے اسقف نجران کے نام ایک مکتوب ارسال فرمایا، جس کے موصول ہونے پر اہل نجران نے ساٹھ آدمیوں پر مشتمل ایک وفد مدینہ منورہ بھیجا، اس وفد میں نجران کے بڑے بڑے معززین اور شرفاء شامل تھے۔

ان لوگوں کیلئے مسجد نبویؐ کے صحن میں خیمے لگائے گئے، اور انہوں نے وہیں قیام کیا، یہ لوگ غالباً اتوار کے دن مدینہ منور پہنچے تھے جو ان کا یوم عبادت تھا، چنانچہ انہوں نے اپنے طریقے پر مسجد نبویؐ میں نماز پڑھنی چاہی تو صحابہ کرامؓ نے اعتراض کیا، حضورﷺ نے فرمایا: ’’پڑھنے دو‘‘۔ اجاز ت ملنے پر انہوں نے مشرق کی طرف منہ کر کے اپنی نماز پڑھی، ان لوگوں نے خاصی مدت مدینہ منورہ میں قیام کیا، اس دوران حضورﷺ ان کو برابر حق کی طرف بلاتے رہے اور ان کے سوالوں کا جواب وحی کی رو سے دیتے رہے۔

حضرت عمر فاروقؓ کا عیسائی غلام

سیدنا عمرفاروقؓ کا ایک نصرانی غلام تھا، اس کا نام ’’اشق‘‘ تھا اس کا بیان ہے کہ میں حضرت عمرؓ کا نصرانی غلام تھا، آپؓ نے مجھ سے کہا مسلمان ہو جاؤ تاکہ مسلمانوں کے بعض معاملات میں تم سے میں مدد لیا کروں، کیونکہ ہمارے لئے یہ مناسب نہیں کہ مسلمانوں کے معاملے میں ان لوگوں سے مدد لوں، جو غیر مسلم ہیں، لیکن میں نے انکار کر دیا، آپؓ نے فرمایا: ’’دین اسلام میں زبردستی نہیں‘‘ (البقرہ)۔ اور جب آپؓ کی وفات قریب ہوئی تو آپؓ نے مجھے آزاد کر دیا اور کہا تمہاری جہاں مرضی ہو، چلے جاؤ۔ (الفاروق عمر بن خطابؓ شخصیت وعمرہ،ص 184)

مفتی ڈاکٹر محمد کریم خان صدر اسلامک ریسرچ کونسل ہیں، 40 سے زائد کتب کے مصنف ہیں، ان کے ایچ ای سی سے منظور شدہ 55 مقالے بھی شائع ہو چکے ہیں۔