لوہڑی…. پنجابی ثقافت، لوک گیتوں اور رسومات کا تہوار
لاہور: (محمد علی) جنوری کی ٹھنڈی رات، کھلے آسمان تلے دہکتا الاؤ، ڈھول کی تھاپ اور لوک گیتوں کی گونج‘ یہ منظر پنجاب کے قدیم تہوار لوہڑی کا ہے جو ہر سال 13 جنوری کو منایا جاتا ہے،لوہڑی محض ایک موسمی یا تفریحی تقریب نہیں بلکہ پنجابی تہذیب، زرعی سماج، اجتماعی خوشی اور شکرگزاری کی ایک زندہ علامت ہے۔
پنجاب ایک زرعی خطہ رہا ہے اور یہاں کے بیشتر تہوار فصلوں اور موسموں سے جڑے ہوئے ہیں، لوہڑی کا تعلق خاص طور پر گندم کی فصل سے ہے، یہ وہ وقت ہوتا ہے جب گندم کھیتوں میں جوان ہو رہی ہوتی ہے اور کسان آنے والی فصل کی امید میں قدرت کا شکر ادا کرتے ہیں، اسی لیے لوہڑی کو کسانوں کا تہوار بھی کہا جاتا ہے۔
قدیم زمانے میں سورج کو زندگی کی علامت سمجھا جاتا تھا اور لوہڑی دراصل سورج کی حرارت، روشنی اور نئے زرعی چکر کے آغاز کا جشن ہے، لوہڑی کی سب سے نمایاں اور مرکزی رسم الاؤ جلانا ہے، شام کے وقت گاؤں، محلوں اور کھلے میدانوں میں لکڑیاں جمع کر کے آگ جلائی جاتی ہے، مونگ پھلی، مکئی کے دانے اور گڑ ڈال کا مرونڈا بنایا جاتا ہے جو فصل کی برکت اور خوشحالی کی علامت کے طور پر تقسیم کیا جاتا ہے جبکہ الاؤ سردی کے خاتمے اور نئی امید کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
لوہڑی کا ذکر لوک گیتوں کے بغیر ادھورا ہے، اس موقع پر گایا جانے والا سب سے مشہور گیت پنجابی لوک ہیرو دلا بھٹی سے منسوب ہے جسے بچے اور بڑے سب مل کر گاتے ہیں: سندریے مندریے ؍تیرا کون وچارہ ؍دلا بھٹی والا ہو؍دلے دی دھی ویاہی؍ سیر شکّر پائی۔ یہ گیت دلا بھٹی کی بہادری، سخاوت اور مظلوموں کی مدد کی یاد دلاتا ہے۔
روایت کے مطابق بچے ٹولیوں کی صورت میں گھروں کے دروازوں پر جا کر یہ گیت گاتے ہیں اور بدلے میں مونگ پھلی، گجک، ریوڑیاں یا کچھ رقم وصول کرتے ہیں، یہ روایت نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہے بلکہ بچوں میں اجتماعی سرگرمی اور ثقافتی شعور کو بھی فروغ دیتی ہے، لوہڑی کے موقع پر ڈھول اور بھنگڑا خاص اہمیت رکھتے ہیں، نوجوان الاؤ کے گرد بھنگڑا ڈال کر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں جبکہ خواتین مخصوص پنجابی بولیاں گاتی ہیں، دیہی علاقوں میں بزرگ لوک کہانیاں سناتے ہیں، جن میں دلا بھٹی، ہیر رانجھا اور دیگر لوک کرداروں کا ذکر ملتا ہے، اس طرح لوہڑی نسل در نسل ثقافت کی منتقلی کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔

لوہڑی کی ایک اہم روایت نئی شادی یا بچے کی پیدائش پر خصوصی لوہڑی منانا ہے، جن گھروں میں نئی دلہن آئی ہو یا پہلا بچہ پیدا ہوا ہو وہاں لوہڑی بڑے اہتمام سے منائی جاتی ہے، دلہن کو مٹھائیاں، کپڑے اور تحائف دیئے جاتے ہیں جبکہ نومولود کے لئے دعائیں کی جاتی ہیں، اس رسم کا مقصد خوشی کو خاندان اور برادری کے ساتھ بانٹنا ہوتا ہے، کھانے پینے کے بغیر لوہڑی کا تصور ممکن نہیں، اس دن مکئی کی روٹی اور سرسوں کا ساگ خصوصی طور پر تیار کیا جاتا ہے جبکہ گجک، ریوڑیاں، مونگ پھلی، تل اور گڑ ہر دسترخوان کا حصہ ہوتے ہیں، یہ غذائیں سرد موسم کے مطابق توانائی بخش سمجھی جاتی ہیں اور پنجابی ذائقوں کی پہچان ہیں۔
دیہی پنجاب میں لوہڑی آج بھی اپنی اصل روح کے ساتھ منائی جاتی ہے، شہری علاقوں میں اگرچہ لوہڑی کی شکل کچھ حد تک بدل گئی ہے تاہم ثقافتی تنظیمیں، تعلیمی ادارے اور پنجابی برادری اس تہوار کو ثقافتی دن کے طور پر مناتی ہے، لوہڑی کے پروگرام، بھنگڑا، لوک گیت اور پنجابی لباس اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ روایت اب بھی زندہ ہے۔
پاکستان میں لوہڑی کو سرکاری سطح پر وہ مقام حاصل نہیں جو بھارتی پنجاب میں ہے مگر اس کے باوجود یہ تہوار پنجابی شناخت کی علامت کے طور پر منایا جاتا ہے، یہ ہمیں اپنی جڑوں، زمین اور اجتماعی اقدار کی یاد دلاتا ہے، لوہڑی کا اصل پیغام اتحاد، شکرگزاری اور خوشی بانٹنے کا ہے، ایک ہی الاؤ کے گرد امیر و غریب، چھوٹے بڑے سب کا اکٹھا ہونا معاشرتی ہم آہنگی کی خوبصورت مثال ہے، آج کے تیز رفتار اور مادہ پرستی کے دور میں لوہڑی جیسے تہوار انسان کو سادگی، روایت اور رشتوں کی اہمیت یاد دلاتے ہیں۔
لوہڑی صرف ایک رات کا جشن نہیں بلکہ پنجاب کی روح، کسان کی محنت اور لوک ثقافت کا آئینہ ہے، جب تک الاؤ جلتے رہیں گے اور لوک گیت گونجتے رہیں گے، تب تک لوہڑی زندہ رہے گی اور اس کے ساتھ پنجابی تہذیب کی گرمائش بھی۔
محمد علی تاریخی موضوعات میں دلچسپی رکھتے ہیں، ان کے مضامین مختلف جرائد اور ویب سائٹوں پر شائع ہوتے ہیں۔