تازہ اسپیشل فیچر

بہتر نیند، بہتر تعلیمی کارکردگی

لاہور: (محمد علی) ہم اکثر تعلیمی کامیابی کو زیادہ گھنٹے پڑھنے، اضافی ٹیوشن لینے، مشکل سوالات حل کرنے اور امتحان سے پہلے رات دیر تک جاگنے سے جوڑتے ہیں، والدین اور طلبہ کے درمیان یہ تصور عام ہے کہ اگر امتحان قریب ہو تو نیند کم کر کے پڑھائی کا وقت بڑھا دینا فائدہ مند ہوگا، لیکن نئی سائنسی تحقیق اس سوچ پر سوال اٹھاتی ہے۔

تحقیق سے سامنے آنے والے شواہد بتاتے ہیں کہ نیند میں معمولی بہتری بھی تعلیمی کارکردگی پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے، ’’سائنس الرٹ‘‘ میں شائع ہونے والی رپورٹ میں ایک تجرباتی تحقیق کا حوالہ دیا گیا ہے جس میں یونیورسٹی کے طلبہ کی نیند بہتر بنانے کی کوشش کی گئی، اس تحقیق کی خاص بات یہ تھی کہ محققین نے صرف یہ نہیں دیکھا کہ اچھی نیند اور بہتر گریڈز کے درمیان کوئی تعلق موجود ہے یا نہیں بلکہ یہ جاننے کی کوشش کی کہ اگر طلبہ کی نیند بہتر بنائی جائے تو کیا ان کی تعلیمی کارکردگی بھی بہتر ہوتی ہے؟

صرف زیادہ پڑھنا کامیابی کی ضمانت نہیں

طلبہ عام طور پر سمجھتے ہیں کہ کامیابی کا بنیادی راز زیادہ سے زیادہ وقت کتابوں کے ساتھ گزارنا ہے، بلاشبہ پڑھائی کے لئے وقت دینا ضروری ہے لیکن دماغ اس وقت بہترین کارکردگی دکھاتا ہے جب اسے مناسب آرام بھی ملے، نیند کے دوران دماغ دن بھر حاصل ہونے والی معلومات کو منظم اور محفوظ کرنے کے اہم مراحل سے گزرتا ہے، نئی معلومات، الفاظ، تصورات اور سیکھے گئے اسباق کو یادداشت میں مستحکم کرنے کیلئے مناسب نیند اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اگر کوئی طالب علم مسلسل کم سوتا ہے تو وہ بظاہر زیادہ وقت پڑھائی کو دے رہا ہوتا ہے مگر تھکا ہوا دماغ معلومات کو اتنی مؤثر طریقے سے حاصل اور یاد نہیں رکھ پاتا، اسی لیے امتحانات کے دوران رات بھر جاگ کر پڑھنے کی عادت بظاہر اضافی محنت محسوس ہوتی ہے، لیکن ضروری نہیں کہ اس سے امتحانی کارکردگی بھی اسی تناسب سے بہتر ہو، نئی تحقیق کا اہم پہلو یہی ہے کہ اس میں نیند کو محض ایک عادت نہیں بلکہ تعلیمی کارکردگی کو متاثر کرنے والے قابلِ تبدیلی عنصر کے طور پر دیکھا گیا۔

چند منٹ زیادہ نیند، قابلِ ذکر نتائج

تحقیق میں امریکہ کی یونیورسٹی آف پیٹس برگ کے طلبہ کو اپنی نیند بہتر بنانے کی ترغیب دینے کیلئے ایک نسبتاً سادہ طریقہ استعمال کیا گیا، طلبہ کو ان کیلئے موزوں وقت پر سونے کی یاد دہانی کرائی گئی، اگلی صبح ان کی نیند کے بارے میں فیڈ بیک دیا گیا اور جب وہ راتوں میں کم از کم سات گھنٹے کی نیند پوری کرتے تو انہیں فوری انعام بھی دیا گیا، چار ہفتوں کے دوران اس کے نتیجے میں طلبہ کی سات یا اس سے زیادہ گھنٹے سونے والی راتوں کے تناسب میں تقریباً 26 فیصد اضافہ ہوا، اوسطاً طلبہ کی نیند میں تقریباً 19 منٹ فی رات کا اضافہ ہوا۔

یہ اضافہ بظاہر بہت معمولی لگ سکتا ہے، 19 منٹ کسی طالب علم کے لیے شاید اتنی بڑی تبدیلی محسوس نہ ہو لیکن تحقیق کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس معمولی اضافے کے ساتھ تعلیمی کارکردگی میں بہتری دیکھی گئی، تحقیق کے مطابق نیند بہتر بنانے سے طلبہ کے کورس پرفارمنس میں اضافہ ہوا۔

نیند دماغ کو سیکھنے کیلئے تیار کرتی ہے

نیند اور تعلیمی کارکردگی کے درمیان تعلق کو سمجھنے کیلئے یہ جاننا ضروری ہے کہ نیند صرف جسمانی آرام کا نام نہیں، دماغ کیلئے بھی یہ ایک فعال مرحلہ ہے،دن کے دوران طالب علم جب نئی معلومات حاصل کرتا ہے تو دماغ میں بے شمار یادیں اور معلومات جمع ہوتی ہیں، نیند کے دوران دماغ ان معلومات کو ترتیب دینے، اہم معلومات کو مضبوط کرنے اور غیر ضروری معلومات کو نظرانداز کرنے کے عمل سے گزرتا ہے، مناسب نیند توجہ، ارتکاز، فیصلہ سازی اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت کیلئے بھی اہم ہے۔

دوسری طرف نیند کی کمی سے طالب علم کلاس میں توجہ کھو سکتا ہے، پڑھا ہوا یاد رکھنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے اور مشکل سوالات حل کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے، اسی لیے اگر ایک طالب علم رات کو دو گھنٹے اضافی پڑھتا ہے لیکن اس کے نتیجے میں اس کی نیند بہت کم ہوجاتی ہے، تو ضروری نہیں کہ اسے مجموعی طور پر فائدہ ہی ہو، بعض حالات میں بہتر حکمتِ عملی یہ ہوسکتی ہے کہ طالب علم مناسب وقت پر سوئے اور اگلے دن تازہ دم ہوکر زیادہ مؤثر انداز میں پڑھے۔

طلبہ اور والدین کیلئے عملی سبق

اس تحقیق کا مطلب یہ نہیں کہ صرف زیادہ سونے سے ہر طالب علم کے گریڈز بڑھ جائیں گے، تعلیمی کامیابی میں پڑھائی کا معیار، استاد، تعلیمی ماحول، ذہنی توجہ، مطالعے کی تکنیک اور بہت سے دوسرے عوامل بھی اہم ہیں، لیکن تحقیق ایک اہم پیغام ضرور دیتی ہے کہ نیند کو پڑھائی کا مخالف سمجھنے کے بجائے پڑھائی کا حصہ سمجھنا چاہیے۔

خاص طور پر امتحانات کے دنوں میں والدین کو بچوں سے یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ وہ رات دیر تک جاگ کر مسلسل پڑھتے رہیں، بہتر حکمتِ عملی یہ ہوسکتی ہے کہ طالب علم کیلئے مستقل سونے اور جاگنے کا وقت مقرر کیا جائے، رات کو موبائل فون اور دیگر توجہ بھٹکانے والی چیزوں کا استعمال کم کیا جائے اور امتحان سے پہلے پوری رات جاگنے کے بجائے مناسب نیند کو ترجیح دی جائے۔