حضرت سیّدنا علی ہجویری رحمۃ اللہ علیہ
لاہور: (صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی) لاہور کی مٹی میں اگر روحانیت کی مہک بسی ہے تو اس کے پیچھے ایک قدسی نفس ہستی کی شبینہ بیداریوں اور ریاضتوں کا فیضان کارفرما ہے۔
حضرت ابوالحسن سید علی بن عثمان الجلابی الہجویریؒ کا نامِ نامی صرف ایک صوفی کا نہیں، بلکہ برصغیر میں اسلام کی فکری اور اخلاقی بنیادوں کو استوار کرنے والے ایک عظیم معمار کا ہے، آپؒ کی ذاتِ گرامی اس خطے کیلئے اس چراغ کی مانند ہے جس نے نہ صرف کفر و شرک کے اندھیروں کو مٹایا، بلکہ انسانی دلوں کو عشقِ مصطفیٰﷺ کی حرارت سے زندہ کیا۔
ایک ایسی ہستی جس کے وجودِ مسعود نے لاہور کو ’’داتا کی نگری‘‘ کے نام سے ایک ایسی شناخت دی جو تا قیامِ قیامت قائم و دائم رہے گی، آپؒ کی تعلیمات اور کردار نے صدیوں تک برصغیر کے مسلمانوں کی اخلاقی اور ملی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔
آپؒ کی ولادتِ باسعادت غزنی کے محلے جلاب میں ہوئی اور بعدازاں ہجویر میں قیام کی نسبت سے آپؒ جلابی اور ہجویری کہلائے، آپؒ حسنی و حسینی نجیب الطرفین سیّد ہیں اور نسبتاً امیرالمؤمنین حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم سے جا ملتے ہیں۔
آپ کا اسم گرامی حضرت سیّد علی ہجویریؒ، کنیت ابو الحسن ہے، آپؒ کا شمار ان بزرگان دین میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی عملی زندگی اور افعال و کردار سے انسانیت کی بجھی ہوئی شمع کو پھر سے جگمگایا اور پانچویں صدی ہجری میں برصغیر پاک و ہند میں دین اسلام کی وہ شمع روشن فرمائی جس کی ضیاء باریوں سے زنگ آلود دلوں کو نورایمانی اور عشق رسولﷺ سے منور کر دیا، آپؒ کے والد محترم کا اسم گرامی عثمان بن علی بن عبدالرحمان ہے، آپؒ کا پورا گھرانہ زہد و تقویٰ میں مشہور ہے، بچپن ہی سے اللہ نے آپؒ کو اپنے خصوصی فضل و کرم انعامات اکرام سے نوازا، عالم شباب میں ہی آپؒ تمام علوم ظاہری و باطنی کی تکمیل کر چکے تھے۔
آپؒ نے تحصیلِ علم اور تزکیۂ باطن کی تشنہ کامی مٹانے کیلئے اس دور کے تمام عظیم الشان علمی مراکز کا سفر کیا، جن میں شام، عراق، فارس، فرغانہ، آذربائیجان، خوزستان اور خراسان کے تاریخی خطے شامل ہیں، آپؒ کے سفرِ علم کی طوالت اور گہرائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپؒ نے اپنے وقت کے تقریباً تین سو جلیل القدر علماء اور مشائخ سے استفادہ کیا۔
آپؒ سلسلہ عالیہ جنیدیہ کے عظیم شیخ حضرت ابوالفضل محمد بن الحسن ختلیؒ کے دستِ حق پرست پر بیعت ہوئے، جنہوں نے آپؒ کی تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، آپؒ نے تصوف کو یونانی فلسفے کی پیچیدگیوں، عجمی افکار کی آمیزش اور جذباتی کیف و مستی کے دائرے سے نکال کر قرآن و سنت کی ٹھوس علمی اور شرعی بنیادوں پر استوار کیا۔
تصوف و عرفان کی تاریخ میں حضرت علی ہجویریؒ کا مقام ایک مصلحِ اعظم اور شارحِ شریعت کا ہے، آپؒ ایک ایسے دور میں جلوہ گر ہوئے جب تصوف میں ناخواندہ صوفیا اور گمراہ کن رجحانات داخل ہو رہے تھے، آپؒ نے ان تمام باطل افکار کا قلع قمع کرنے اور تصوف کو علمی طہارت و شرعی وقار عطا کرنے کیلئے اپنی معرکہ الآرا تصنیف ’’کشف المحجوب‘‘ تحریر فرمائی، جو فارسی زبان میں تصوف و حکمت پر لکھی جانے والی سب سے پہلی اور مستند ترین کتاب سمجھی جاتی ہے۔
اس کتاب کا علمی مقام یہ ہے کہ حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ فرمایا کرتے تھے کہ جس کا کوئی ظاہری مرشد نہ ہو، اس کیلئے ’’کشف المحجوب‘‘ کا مطالعہ ہی پیرِ کامل کی رہنمائی فراہم کر دیتا ہے، آپؒ نے اس کتاب میں نفس، خلوت، جلوت، سماع اور محبت کے تمام مفاہیم کو قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کیا ہے، جو آج بھی متلاشیانِ حق کیلئے دستورالعمل ہے۔
آپؒ کی حیاتِ مبارکہ زہد و تقویٰ اور طہارتِ باطن کا ایک عملی شاہکار تھی، تاریخی کتب میں آپؒ کی خودداری کا ایک مستند واقعہ یہ مذکور ہے کہ جب آپؒ لاہور تشریف لائے تو سلطان ابراہیم غزنوی نے آپؒ کی علمی شہرت سن کر آپؒ کی خدمت میں نذرانے پیش کیے تاکہ آپؒ کو حکومتی وظائف سے نوازا جائے، آپؒ نے نہایت جاہ و جلال سے وہ نذرانے واپس کر دیئے اور فرمایا: ’’جو شخص اپنی کمائی میں حلال و حرام کا فرق روا نہیں رکھتا، اس کا دیا ہوا تحفہ دل کی روشنی کو سلب کر کے باطن کو تاریک کر دیتا ہے، اور مجھے اللہ کی عطا کردہ قناعت کافی ہے‘‘، یہ آپؒ کا وہ اسوہ تھا جس نے لاہور کے لوگوں کو محنت، دیانت اور توکل کا عملی درس دیا۔
آپؒ کی زندگی کا ایک اور درخشاں باب آپؒ کی مسجد کا قیام ہے، جب آپؒ لاہور میں مقیم ہوئے تو آپؒ نے ایک مسجد کی بنیاد رکھی، تاریخ میں مذکور ہے کہ کچھ مقامی لوگ اور علماء اس مسجد کی سمتِ قبلہ پر معترض ہوئے، حضرت داتا گنج بخشؒ نے جب یہ دیکھا کہ لوگ بحث و تکرار میں پڑ گئے ہیں، تو آپؒ نے دعا فرمائی اور اللہ تعالیٰ نے ان پر حجاب اٹھا دیا اور وہ مسجد کے صحن سے کعبۃ اللہ کا براہِ راست مشاہدہ کرنے لگے، جس پر تمام معترضین نے آپؒ کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا اور توبہ کی۔
اسی طرح ایک مشہور واقعہ آپؒ کی تبلیغ کا ہے کہ ایک طاقتور ہندو جوگی جو لاہور میں اپنے کفر کے نظریات پھیلا رہا تھا، وہ آپؒ سے مناظرے کی غرض سے آیا، لیکن آپؒ کے تبحرِ علمی اور روحانی کلمات نے اس کے دل کی زمین کو نرم کر دیا اور وہ اسی وقت اسلام میں داخل ہوگیا اور آپؒ کے حلقۂ ارادت میں شامل ہو کر ’’شیخ ہندی‘‘ کے لقب سے پکارا جانے لگا۔
آپؒ کی عظمت کا اعتراف تاریخ کے ہر دور کے جلیل القدر اولیاء نے کیا ہے، برصغیر میں سلسلے معینیہ کے بانی حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ نے آپؒ کے مزارِ اقدس پر چلہ کشی کی اور رخصت ہوتے وقت یہ تاریخی الفاظ کہے:
گنج بخشِ فیضِ عالم، مظہرِ نورِ خدا
ناقصاں را پیرِ کامل، کاملاں را رہنما
اسی طرح شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبالؒ نے آپؒ کی روحانی اور علمی عظمت کو اپنے منظوم کلام میں یوں خراجِ عقیدت پیش کیا:
سیدِ ہجویر مخدومِ اُمم
مرقدِ او پیرِ سنجر را حرم
خاکِ پنجاب از دمِ او زندہ گشت
صبحِ ما از مہرِ او تابندہ گشت
آپؒ کا یہ روحانی فیضان آج بھی لاہور کی گلیوں اور یہاں بسنے والوں کے دلوں کو گرمائے ہوئے ہے، اسی روحانی نسبت کو تروتازہ کرنے اور آپؒ کے فکرِ جمیل کی تجدید کیلئے، حضرت علی ہجویریؒ کا 983 واں سالانہ تین روزہ عرسِ مبارک 2، 3 اور 4 اگست کو داتا کی نگری لاہور میں نہایت عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے۔
یہ سہ روزہ تقریبات ملک بھر سے آنے والے مشائخ اور اہلِ علم کا اجتماع اس امر کا متقاضی ہے کہ ہم آپؒ کے پیغامِ امن، اخوت اور شریعت کی پاسداری کو اپنا شعار بنائیں، آج کے پرآشوب دور میں داتا صاحب کی تعلیمات ہی وہ واحد نسخۂ کیمیا ہیں جو معاشرتی بگاڑ کو درست کر سکتی ہیں، دُعا ہے کہ اللہ رب العزت ہمیں آپؒ کے فیضان سے اپنے قلوب کو منور کرنے اور آپؒ کے بتائے ہوئے اسوۂ حسنہ پر استقامت کے ساتھ کاربند رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
ارشــــادات
٭… فقیر درویش وہ ہے کہ اس کے پاس کچھ نہ ہو اور کوئی چیز اسے خلل انداز نہ کرے۔ نہ وہ دنیاوی اسباب کی موجودگی سے غنی ہو اور نہ اس کے نہ ہونے سے محتاج ہو، جو علم کو دنیاوی عزت اور وجاہت کیلئے حاصل کرتا ہے، در حقیقت وہ عالم کہلانے کا ہی مستحق نہیں، کیوں کہ دنیاوی عزت و جاہ کی خواہش کرنا بجائے خود جہالت ہے۔
٭… سارے ملک کا بگاڑ ان تین گروہوں کے بگڑنے پر ہے، حکمران جب بے علم ہوں، علماء جب بے عمل ہوں اور فقیر جب بے توکل ہوں۔
٭… رضا کی دو قسمیں ہیں، خدا کا بندے سے راضی ہونا، بندے کا خدا سے راضی ہونا۔
٭… صوفی وہ ہے جس کے ایک ہاتھ میں قرآن ہو اور دوسرے ہاتھ میں سنت رسولﷺ ہو۔
٭…جس کام میں نفسانی غرض آ جائے، اس سے برکت اٹھ جاتی ہے۔
٭…دین دار لوگوں کو خواہ وہ کیسے ہی غریب و نادار ہوں، چشم حقارت سے نہ دیکھو۔
٭… ایثار یہ ہے کہ تو اپنے بھائی کا حق نگاہ میں رکھے اور اس کے آرام کی خاطر خود تکلیف اٹھائے۔
٭… فقیر کو چاہیے کہ بادشاہوں کی ملاقات کو سانپ اور اژدھے کی ملاقات کے برابر سمجھے خصوصاً جب ملاقات اپنے نفس کیلئے ہو۔