تازہ اسپیشل فیچر

نوجوانوں کا عالمی دن

لاہور: (تصور اقبال) 12 اگست کو دنیا بھر میں نوجوانوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے، یہ دن نوجوانوں کے مسائل، صلاحیتوں، حقوق اور معاشرے کی تعمیر میں ان کے کردار کو اجاگر کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

نوجوان کسی بھی ملک کا سب سے متحرک، باصلاحیت اور توانائی سے بھرپور طبقہ ہوتے ہیں، اگر انہیں معیاری تعلیم، مناسب تربیت، روزگار کے مواقع اور مثبت ماحول فراہم کیا جائے تو وہ ملک کی ترقی کا سب سے اہم ذریعہ بن سکتے ہیں، پاکستان کیلئے نوجوانوں کا عالمی دن اس لیے بھی بہت اہم ہے کہ ہماری آبادی میں نوجوانوں کا حصہ بہت نمایاں ہے، نوجوانوں کے عالمی دن منانے کا تصور اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم پر نوجوانوں سے متعلق عالمی مسائل کو اجاگر کرنے کی کوششوں سے پیدا ہوا۔

1995ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ورلڈ پروگرام آف ایکشن فار یوتھ منظور کیا جس کا مقصد دنیا بھر میں نوجوانوں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے حکومتوں اور عالمی اداروں کو ایک جامع فریم ورک فراہم کرنا تھا، اس کے بعد 1999ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 12 اگست کو باقاعدہ طور پر نوجوانوں کا عالمی دن قرار دیا۔ پہلی مرتبہ یہ دن 12 اگست 2000ء کو منایا گیا۔

اس دن کا بنیادی مقصد نوجوانوں کے مسائل اور ان کی ضروریات کو عالمی سطح پر نمایاں کرنا، نوجوانوں کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا اور حکومتوں کو نوجوان نسل کیلئے بہتر پالیسیاں بنانے کی طرف متوجہ کرنا ہے، ہر سال نوجوانوں کے عالمی دن کیلئے ایک مخصوص تھیم مقرر کیا جاتا ہے تاکہ نوجوانوں سے متعلق کسی اہم مسئلے پر دنیا کی توجہ مرکوز کی جا سکے، اس سال کا تھیم  Different Contexts, Common Aspirations‘‘ ہے یعنی ہمارے حالات مختلف ہیں مگر خواہشات ایک سی۔

نوجوان آبادی، بڑا اثاثہ

پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں نوجوان آبادی کا بڑا حصہ ہیں، لاکھوں نوجوان ہر سال سکول، کالج اور جامعات سے تعلیم مکمل کر کے عملی زندگی میں داخل ہوتے ہیں، یہ صورتحال پاکستان کیلئے ایک بڑا موقع بھی ہے اور ایک بڑا چیلنج بھی، اگر نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور روزگار نہ ملے تو یہی بڑی نوجوان آبادی بے روزگاری، مایوسی اور سماجی مسائل میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔

اس کے برعکس اگر نوجوانوں کو مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تو یہی نسل پاکستان کی معیشت، سائنس، ٹیکنالوجی، صنعت، زراعت اور سماجی ترقی میں بنیادی کردار ادا کر سکتی ہے، پاکستانی نوجوانوں میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں، ہمارے نوجوان دنیا بھر میں تعلیم، طب، انجینئرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، کھیل، فنون اور کاروبار کے میدان میں کامیابیاں حاصل کر رہے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ انفرادی کامیابیوں کو قومی ترقی کی منظم قوت میں تبدیل کیا جائے۔

نوجوانوں کیلئے کیا کرنا چاہیے؟

پاکستان میں نوجوانوں کے مستقبل کو بہتر بنانے کیلئے سب سے پہلے معیاری اور جدید تعلیم پر توجہ دینا ضروری ہے، صرف ڈگری حاصل کرنا کافی نہیں بلکہ تعلیم کو روزگار اور عملی زندگی کی ضروریات سے جوڑنا ہوگا، سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تنقیدی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، تحقیق اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینا چاہیے۔

دوسرا اہم شعبہ فنی اور پیشہ ورانہ تربیت ہے، ہر نوجوان کا یونیورسٹی جانا ضروری نہیں، بہت سے نوجوان ٹیکنیکل تعلیم اور ہنر سیکھ کر باعزت روزگار حاصل کر سکتے ہیں، الیکٹریشن، مکینک، سولر ٹیکنیشن، گرافک ڈیزائنر، پروگرامر، ڈیجیٹل مارکیٹر اور دیگر جدید شعبوں میں تربیت کے مواقع بڑھانے چاہئیں، تیسرا بڑا مسئلہ روزگار ہے، حکومت اور نجی شعبے کو مل کر نوجوانوں کیلئے نئے روزگار پیدا کرنے چاہئیں۔

چھوٹے کاروبار شروع کرنے والے نوجوانوں کو آسان قرضے، کاروباری تربیت اور مارکیٹ تک رسائی فراہم کی جائے، نوجوانوں کو صرف سرکاری ملازمتوں کا منتظر رکھنے کے بجائے انہیں کاروبار اور انٹرپرینیورشپ کی طرف بھی راغب کرنا چاہیے، ڈیجیٹل معیشت پاکستان کے نوجوانوں کیلئے ایک بہت بڑا موقع ہے، فری لانسنگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور ای کامرس جیسے شعبوں میں نوجوان عالمی مارکیٹ سے منسلک ہو سکتے ہیں، حکومت کو تیز رفتار انٹرنیٹ، ڈیجیٹل تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی کو عام کرنا چاہیے۔