پاکستان میں اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں، مراعات میں کئی دہائیوں کے دوران ہوشربا اضافہ
لاہور: (دنیا نیوز) پاکستان کا معاشی سفر قیام پاکستان سے اب تک مختلف مسائل کا شکار رہا ہے، ہر سال وفاقی بجٹ خسارے کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے جبکہ پاکستان اکنامک سروے 2025-26 کے مطابق تقریباً 29 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
ایک طرف عوام مہنگائی اور غربت کی چکی میں پس رہے ہیں تو دوسری جانب اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے، قیام پاکستان سے اب تک پارلیمنٹیرینز کی تنخواہیں اور مراعات کہاں سے کہاں پہنچیں، اس کا جائزہ لیتے ہیں۔
قیام پاکستان کے وقت پہلی دستور ساز اسمبلی کے اراکین کو ماہانہ تنخواہ نہیں ملتی تھی، کانسٹی ٹیونٹ اسمبلی ممبرز الاؤنس ایکٹ 1947 کے تحت اسمبلی اجلاس کے دنوں میں 21 روپے یومیہ ڈیلی الاؤنس دیا جاتا تھا، ٹریول الاؤنس ملا کر یہ رقم 45 روپے یومیہ بنتی تھی۔
اراکین کو ماہانہ تنخواہ دینے کا باقاعدہ سلسلہ ممبرز آف نیشنل اسمبلی سیلریز اینڈ الاؤنسز ایکٹ 1956 کے نفاذ سے شروع ہوا، جس کے تحت ماہانہ تنخواہ 400 روپے مقرر کی گئی۔
صدر ایوب خان کے دور میں 1966 کے قانون کے تحت تنخواہ میں 100 روپے اضافہ ہوا اور یہ رقم 500 روپے ماہانہ ہوگئی، اراکین کو اسمبلی اجلاس کے دوران ٹریول الاؤنس کے علاوہ سالانہ 6 ہزار 500 روپے کے فری ٹریول واؤچرز بھی ملتے تھے، جن پر رکن اسمبلی اور ان کے اہل خانہ سفر کرسکتے تھے، یوں تنخواہ اور الاؤنسز ملا کر ماہانہ رقم تقریباً ایک ہزار 41 روپے بنتی تھی۔
1973 میں موجودہ آئین کے نفاذ کے بعد سینیٹ آف پاکستان قائم ہوا اور سینیٹرز کو بھی قومی اسمبلی ارکان کے برابر تنخواہ، الاؤنسز اور مراعات دی گئیں۔
1974 میں ممبرز آف پارلیمنٹ سیلریز اینڈ الاؤنسز ایکٹ کے تحت تنخواہ تین گنا بڑھا کر ایک ہزار 500 روپے ماہانہ کردی گئی، فری ٹریول واؤچرز 6 ہزار 600 روپے سالانہ، زمینی سفر کا الاؤنس ایک روپیہ فی میل اور سالانہ 2 ہزار 400 روپے ٹیلی فون الاؤنس بھی دیا جانے لگا، یوں مجموعی ماہانہ رقم تقریباً 2 ہزار 250 روپے ہوگئی۔
1985 میں سفری واؤچرز کی مالیت بڑھا کر 15 ہزار روپے سالانہ، زمینی سفر کا الاؤنس 2 روپے فی کلومیٹر، ٹیلی فون الاؤنس 500 روپے اور دفتری الاؤنس 750 روپے ماہانہ کردیا گیا، تنخواہ اور الاؤنسز ملا کر ماہانہ رقم 4 ہزار روپے تک پہنچ گئی۔
1988 میں بنیادی تنخواہ 3 ہزار روپے ماہانہ کردی گئی، فری ٹریول واؤچرز 30 ہزار روپے سالانہ، ٹیلی فون الاؤنس 2 ہزار اور آفس الاؤنس 3 ہزار روپے ماہانہ ہوگیا، مجموعی رقم 10 ہزار 500 روپے ماہانہ تک جاپہنچی۔
1993 میں 2 ہزار روپے ماہانہ سمچوری الاؤنس، 4 ہزار روپے ٹیلی فون اور 5 ہزار روپے آفس الاؤنس شامل ہوا اور مجموعی رقم 14 ہزار روپے ماہانہ ہوگئی۔
1996 میں بنیادی تنخواہ 5 ہزار روپے ماہانہ، سالانہ سفری واؤچرز 50 ہزار روپے اور ٹیلی فون الاؤنس 4 ہزار 600 روپے ماہانہ کردیا گیا، یوں مجموعی رقم تقریباً 13 ہزار 766 روپے ماہانہ ہوگئی۔
اکیسویں صدی میں داخل ہوتے ہی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کی رفتار تیز ہوگئی۔
2003 میں بنیادی تنخواہ 15 ہزار روپے ماہانہ مقرر ہوئی، 5 ہزار روپے سمچوری الاؤنس، ایک لاکھ روپے سالانہ فری ٹریول واؤچرز، 10 ہزار روپے ٹیلی فون اور 8 ہزار روپے آفس الاؤنس دیا جانے لگا، مجموعی رقم تقریباً 46 ہزار 333 روپے ماہانہ ہوگئی۔
2004 میں 15 فیصد ایڈہاک الاؤنس کے بعد یہ رقم 48 ہزار 583 روپے، 2005 میں 50 ہزار 833 روپے، 2007 میں 53 ہزار 420 روپے اور 2008 میں 57 ہزار 387 روپے ماہانہ تک پہنچ گئی۔
2009 میں مجموعی ماہانہ رقم 60 ہزار 957 روپے اور 2010 میں 72 ہزار 859 روپے ہوگئی۔
2012 میں بنیادی تنخواہ 27 ہزار 377 روپے کردی گئی، جبکہ مختلف الاؤنسز، سفری واؤچرز، ٹیلی فون اور آفس الاؤنسز شامل کیے جانے کے بعد مجموعی ماہانہ رقم 96 ہزار 324 روپے تک پہنچ گئی۔
2013 میں یہ رقم 99 ہزار 61 روپے اور 2014 میں ایک لاکھ ایک ہزار 798 روپے ہوگئی۔
2016 میں بنیادی تنخواہ بڑھا کر 44 ہزار 631 روپے کی گئی اور مجموعی ماہانہ رقم ایک لاکھ 8 ہزار 997 روپے تک پہنچ گئی۔
2018 میں پارلیمانی ترمیم کے ذریعے بنیادی تنخواہ یکمشت بڑھا کر ایک لاکھ 50 ہزار روپے کردی گئی، جو 236 فیصد اضافہ تھا، 15 ہزار روپے ایڈہاک الاؤنس کے ساتھ مجموعی ماہانہ رقم 2 لاکھ 13 ہزار روپے ہوگئی۔
پھر 2025 میں ممبرز آف پارلیمنٹ سیلریز اینڈ الاؤنسز ایکٹ 1974 کے سیکشن 3 میں ترمیم کے ذریعے ماہانہ تنخواہ میں چار گنا اضافہ کر دیا گیا، بنیادی تنخواہ ایک لاکھ 50 ہزار سے بڑھ کر 6 لاکھ روپے ماہانہ ہوگئی۔
ہر رکن پارلیمنٹ کو سالانہ 3 لاکھ روپے کے ٹریول واؤچرز، 30 بزنس کلاس ریٹرن ٹکٹس، 35 ہزار روپے ماہانہ ٹیلی فون الاؤنس، 35 ہزار روپے آفس مینٹیننس الاؤنس اور 35 ہزار روپے ماہانہ سمچوری الاؤنس بھی دیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ رکن پارلیمنٹ اور ان کے اہل خانہ کے لیے تاحیات بلیو پاسپورٹ اور گریڈ 22 کے سرکاری افسر کے برابر طبی سہولیات بھی دستیاب ہیں۔
اجلاس کے دنوں میں 2 ہزار روپے یومیہ ہاؤسنگ الاؤنس، ہوائی سفر کی صورت میں بزنس کلاس ٹکٹ، بذریعہ سڑک سفر پر 25 روپے فی کلومیٹر، 11 ہزار 400 روپے ڈیلی الاؤنس اور 2 ہزار روپے کنوینس الاؤنس بھی ملتا ہے۔
تمام تنخواہوں اور مراعات کو ملا کر ایک رکن پارلیمنٹ کو ماہانہ تقریباً 9 لاکھ 88 ہزار 500 روپے ملتے ہیں۔
قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں میں شرکت پر بھی اراکین کو پارلیمانی اجلاس کے برابر الاؤنسز دیے جاتے ہیں، کمیٹی اجلاس سے دو روز قبل اور دو روز بعد کے الاؤنسز بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی مثال لی جائے تو پارلیمانی سال 2025-26 میں مرکزی اور ذیلی کمیٹیوں کے 140 اجلاس ہوئے، اجلاسوں میں شرکت کرنے والے ہر رکن نے سفر کی مد میں تقریباً 31 لاکھ 50 ہزار روپے جبکہ الاؤنسز کی مد میں 21 لاکھ 56 ہزار روپے سالانہ حاصل کیے، جو ماہانہ اوسطاً 4 لاکھ 42 ہزار 166 روپے بنتے ہیں۔
خطے کے دیگر ممالک میں پارلیمنٹیرینز کی تنخواہوں اور مراعات کا جائزہ لیا جائے تو نیپال میں رکن اسمبلی کو تقریباً 600 ڈالر، سری لنکا میں ایک ہزار 180 ڈالر، بنگلہ دیش میں ایک ہزار 400 ڈالر جبکہ بھارت میں تقریباً 2 ہزار 913 ڈالر ماہانہ ملتے ہیں۔
پاکستان میں ایک رکن پارلیمنٹ کو 3 ہزار 530 ڈالر سے زائد رقم ملتی ہے، جو خطے کے ان ممالک میں سب سے زیادہ ہے۔
پارلیمانی سال 2025-26 کے دوران قومی اسمبلی نے 46 بل منظور کیے جبکہ سینیٹ نے 91 بل پاس کیے، صدر مملکت کی منظوری کے بعد 40 بل قانون بن گئے۔
بھارت کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے قانون بننے والے بلز کی تعداد 39 رہی، بنگلہ دیشی پارلیمنٹ نے 2026 کے دوران اب تک 101 بل منظور کیے جو قانون بن گئے، سری لنکن پارلیمنٹ نے 2025 میں 25 بلز پاس کیے جبکہ نیپالی پارلیمان نے تحلیل ہونے سے قبل 9 ماہ کے دوران 34 بلز منظور کیے جو قوانین بن گئے۔
بھاری مراعات کے باوجود اکثر اراکین پارلیمنٹ کی کارکردگی سے عوام مطمئن نظر نہیں آتے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق کئی اراکین قانون سازی میں کم دلچسپی لیتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ بعض متنازع بل بھی قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور ہوئے جنہیں بعد میں ترامیم کے ذریعے درست کرنا پڑا۔
ٹیلی کام اینڈ انفرااسٹرکچر بل بھی اس کی ایک مثال ہے، جو متنازع شقوں کے باوجود قومی اسمبلی سے منظور ہوکر سینیٹ پہنچا اور وہاں اراکین کی نشاندہی پر اسے روک دیا گیا۔
یوں ایک طرف عوام معاشی مشکلات، مہنگائی اور غربت سے دوچار ہیں تو دوسری طرف اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات میں مسلسل اضافہ سوالات کو جنم دے رہا ہے کہ مراعات میں اضافے کے ساتھ قانون سازی اور عوامی نمائندگی کا معیار بھی اسی رفتار سے بہتر ہوا یا نہیں۔