14 کروڑ کا روس 89 اکائیوں میں، 24 کروڑ کا پاکستان صرف چار صوبوں میں کیوں؟
ماسکو: (شاہد گھمن) دنیا کے سب سے بڑے ملک روس میں رہتے ہوئے اس کے انتظامی نظام کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے تو ایک سوال بار بار ذہن میں آتا ہے کہ تقریباً 14 کروڑ 61 لاکھ آبادی رکھنے والا روس اگر 89 وفاقی اکائیوں کے ذریعے چلایا جا سکتا ہے تو 24 کروڑ سے زیادہ آبادی رکھنے والا پاکستان بنیادی طور پر صرف چار صوبوں کے ذریعے کیوں چلایا جا رہا ہے؟ یہ سوال محض صوبوں کی تعداد کا نہیں بلکہ گورننس، عوام تک ریاست کی رسائی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مستقبل کے پاکستان کا ہے۔
روس کی سرکاری شماریاتی ایجنسی روسٹٹ کے مطابق یکم جنوری 2025 کو روس کی مستقل آبادی تقریباً 146.12 ملین، یعنی 14 کروڑ 61 لاکھ تھی، روسی فیڈریشن 89 وفاقی اکائیوں پر مشتمل ہے، ان میں 24 جمہوریائیں، 48 اوبلاست، 9 کرائے، 3 وفاقی شہر، 4 خودمختار اضلاع اور ایک خودمختار اوبلاست شامل ہیں، عام فہم زبان میں اوبلاست اور کرائے کو صوبائی یا علاقائی اکائیوں کے قریب سمجھا جا سکتا ہے۔
روس کی بیشتر وفاقی اکائیوں میں انتظامی سربراہ گورنر ہوتا ہے، جبکہ جمہوریاؤں میں عموماً اسے سربراہِ جمہوریہ کہا جاتا ہے، ان علاقوں کے اپنے قانون ساز ادارے، علاقائی حکومتیں اور بجٹ ہوتے ہیں، روس کو مزید آٹھ وفاقی اضلاع میں بھی تقسیم کیا گیا ہے، جہاں صدر کے نمائندے مرکز اور علاقائی حکومتوں کے درمیان رابطے اور وفاقی پالیسی پر عمل درآمد کی نگرانی کرتے ہیں۔
یہاں ایک وضاحت ضروری ہے، پاکستان کو روس کی نقل کرتے ہوئے 89 صوبے بنانے کی قطعاً ضرورت نہیں، روس رقبے کے اعتبار سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے اور اس کے جغرافیائی حالات پاکستان سے بالکل مختلف ہیں، لیکن روس کا انتظامی ڈھانچہ ہمیں ایک بنیادی اصول ضرور سمجھاتا ہے کہ بڑے ملک اور بڑی آبادی کو قابلِ انتظام اکائیوں میں تقسیم کرنا وفاق کو کمزور کرنا نہیں ہوتا۔
اب پاکستان کی طرف آئیں۔
پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی 2023 کی مردم شماری کے مطابق پاکستان کی آبادی 241.50 ملین، یعنی تقریباً 24 کروڑ 15 لاکھ تھی۔ اس میں پنجاب کی آبادی 12 کروڑ 77 لاکھ، سندھ کی 5 کروڑ 57 لاکھ، خیبر پختونخوا کی 4 کروڑ 9 لاکھ، بلوچستان کی ایک کروڑ 49 لاکھ اور اسلام آباد کی تقریباً 24 لاکھ تھی۔
یہ اعداد سامنے رکھ کر روس اور پاکستان کا موازنہ انتہائی دلچسپ بلکہ غور طلب ہو جاتا ہے۔
روس کی پوری آبادی تقریباً 14 کروڑ 61 لاکھ ہے جبکہ صرف پنجاب کی آبادی تقریباً 12 کروڑ 77 لاکھ ہے، یعنی ایک پاکستانی صوبے کی آبادی پورے روس سے صرف تقریباً ایک کروڑ 84 لاکھ کم ہے، لیکن روس میں 89 وفاقی اکائیاں ہیں جبکہ پنجاب کی تقریباً 13 کروڑ آبادی ایک وزیراعلیٰ، ایک صوبائی کابینہ، ایک چیف سیکرٹری اور ایک مرکزی صوبائی انتظامیہ کے تحت چل رہی ہے۔
اگر صرف ریاضی کی اوسط نکالی جائے تو روس کی 89 وفاقی اکائیوں پر فی اکائی اوسط آبادی تقریباً 16 لاکھ بنتی ہے۔ پاکستان کے چار صوبوں کی 2023 کی مجموعی آبادی کو دیکھا جائے تو اوسط تقریباً 6 کروڑ فی صوبہ بنتی ہے، یقیناً انتظامی اکائیاں صرف آبادی تقسیم کرکے نہیں بنائی جاتیں، لیکن دونوں اعداد کے درمیان یہ غیر معمولی فرق ہمیں سوچنے پر مجبور ضرور کرتا ہے۔
اسی پس منظر میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا حالیہ بیان غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے، پاکستان اکنامک سمٹ میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے موجودہ نظامِ حکمرانی کو "کولیپس" قرار دیتے ہوئے نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کی ضرورت کی بات کی، ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو اس معاملے پر مل بیٹھ کر سوچنا چاہیے کہ موجودہ نظام کے بجائے ملک کو زیادہ مؤثر انتظامی اکائیوں کے ذریعے کیسے چلایا جا سکتا ہے، ان کے بیان کے بعد نئے صوبوں کا معاملہ ایک بار پھر قومی بحث کا حصہ بن گیا۔
یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ پاکستان میں انتظامی بنیادوں پر زیادہ صوبوں کے قیام کی بحث نئی نہیں، چیئرمین پنجاب گروپ میاں عامر محمود طویل عرصے سے اس مؤقف کے حامی رہے ہیں کہ پاکستان کے موجودہ ڈویژنوں کو صوبوں کا درجہ دے کر حکومت اور انتظامیہ کو عوام کے قریب لایا جائے، ان کا بنیادی استدلال یہ رہا ہے کہ کروڑوں افراد پر مشتمل بڑے صوبوں کے بجائے چھوٹی اور قابلِ انتظام اکائیاں بہتر گورننس، وسائل کی مؤثر تقسیم اور عوامی مسائل کے فوری حل میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں، موجودہ حالات میں جب ملک کی آبادی 24 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور نئے صوبوں کی بحث ایک بار پھر قومی سطح پر سامنے آئی ہے، میاں عامر محمود کی برسوں پہلے پیش کی گئی ہر ڈویژن کو صوبہ بنانے کی تجویز بھی سنجیدہ قومی بحث اور تقابلی جائزے کی متقاضی ہے۔
محسن نقوی کے حالیہ بیان کے بعد سوشل میڈیا پر پاکستان کے مختلف مجوزہ انتظامی نقشے بھی زیر گردش آئے، بعض نقشوں میں موجودہ صوبوں کو کئی چھوٹی انتظامی اکائیوں میں تقسیم دکھایا گیا ہے جبکہ گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کو ان کی الگ حیثیت کے ساتھ دکھایا گیا ہے، ایسے نقشوں کو کسی سرکاری منصوبے یا منظور شدہ حکومتی تجویز کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، یہ غیر سرکاری تصورات ہیں، لیکن ان کا سامنے آنا اس بات کی علامت ضرور ہے کہ نئے صوبوں کی بحث اب محض چند علاقوں کے دیرینہ مطالبات تک محدود نہیں رہی۔
میرے نزدیک اصل سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان میں آٹھ صوبے بنیں، دس بنیں، بارہ بنیں یا ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے دیا جائے، اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ ایک انتظامی اکائی کتنی بڑی ہونی چاہیے کہ حکومت واقعی اپنے شہری تک پہنچ سکے؟
پاکستان کا موجودہ انتظامی نقشہ اس وقت تشکیل پایا تھا جب آبادی آج کے مقابلے میں بہت کم تھی، آج پاکستان کی آبادی 24 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور مسلسل بڑھ رہی ہے، آبادی کے نئے مراکز پیدا ہو چکے ہیں، تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ، پولیس، روزگار، ماحولیات اور شہری منصوبہ بندی کے مسائل کئی گنا پیچیدہ ہو گئے ہیں، ایسے میں یہ تصور کہ چار صوبائی حکومتیں آنے والی کئی دہائیوں تک پورے ملک کی علاقائی ضروریات مؤثر طور پر سنبھال لیں گی، ازسرنو جائزے کا تقاضا کرتا ہے۔
لیکن نئے صوبے صرف اس لیے نہیں بننے چاہییں کہ کسی علاقے کی زبان الگ ہے یا کسی سیاسی جماعت کو ایک نیا وزیراعلیٰ چاہیے، اگر ہم نے نئے صوبوں کو صرف لسانی، نسلی یا سیاسی بنیادوں پر تقسیم کیا تو انتظامی اصلاح ایک نئے تنازع میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
نئے صوبوں کی بنیاد کم از کم چھ عوامل پر ہونی چاہیے: آبادی، جغرافیہ، انتظامی فاصلے، معاشی استعداد، تاریخی و ثقافتی شناخت اور عوامی رضامندی۔
بلوچستان جیسے وسیع صوبے کو صرف آبادی کی عینک سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ وہاں فاصلے اور رقبہ بنیادی مسئلہ ہیں۔ اسی طرح انتہائی گنجان آباد علاقوں میں رقبہ چھوٹا ہونے کے باوجود آبادی کا دباؤ انتظامی تقسیم کا جواز پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے پورے پاکستان پر ایک ہی فارمولا لاگو نہیں کیا جا سکتا۔
میری رائے میں حکومت کو آج یہ اعلان نہیں کرنا چاہیے کہ پاکستان کو لازماً دس یا بارہ صوبوں میں تقسیم کردیا جائے۔ زیادہ دانشمندانہ راستہ یہ ہوگا کہ پارلیمنٹ ایک قومی کمیشن برائے انتظامی تشکیل نو قائم کرے۔
اس کمیشن میں آئینی ماہرین، سابق ججز، ماہرین معیشت، مردم شماری کے ماہرین، جغرافیہ دان، پانی اور قدرتی وسائل کے ماہرین، چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے نمائندے، بلدیاتی نظام کے ماہرین اور تمام بڑی سیاسی جماعتوں کو نمائندگی دی جائے۔
اس کمیشن کو مختلف ماڈلز تیار کرنے چاہییں۔ ایک آٹھ صوبوں کا پاکستان، دوسرا دس صوبوں کا، تیسرا بارہ صوبوں کا اور اس کے ساتھ میاں عامر محمود کی ہر ڈویژن کو صوبہ بنانے کی تجویز کا بھی انتظامی اور مالیاتی بنیادوں پر باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔ پھر قوم کے سامنے بتایا جائے کہ ہر ماڈل میں آبادی، رقبہ، محصولات، پانی، قدرتی وسائل، سرکاری ملازمین، ترقیاتی اخراجات اور پارلیمانی نمائندگی کی صورت کیا ہوگی۔
اگر پاکستان 12 قابلِ انتظام صوبائی اکائیوں کی طرف جاتا ہے تو موجودہ آبادی کے حساب سے اوسط تقریباً دو کروڑ افراد فی صوبہ بنتی ہے۔ اگر آٹھ صوبے ہوں تو اوسط تقریباً تین کروڑ بنتی ہے۔ دونوں صورتوں میں موجودہ تقریباً چھ کروڑ فی صوبہ کی اوسط سے انتظامی بوجھ نمایاں طور پر کم ہو سکتا ہے۔
البتہ نئے صوبے بنانے سے پہلے ایک بہت اہم سوال حل کرنا ہوگا کہ کیا ہم نئے صوبے عوام کے لیے بنائیں گے یا سیاست دانوں اور بیوروکریسی کے لیے؟
اگر ہر نئے صوبے کے ساتھ نیا عالی شان گورنر ہاؤس، وزیراعلیٰ ہاؤس، اربوں روپے کا اسمبلی کمپلیکس، وزرا کی لمبی فوج، مشیر، نئی گاڑیاں، نئی رہائش گاہیں اور ہزاروں اضافی سرکاری عہدے پیدا کرنے ہیں تو ایسے صوبوں کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوگا۔
نئے صوبوں کے قیام کے ساتھ قانون بنا دیا جائے کہ کم از کم پہلے دس سال کوئی نیا گورنر ہاؤس یا وزیراعلیٰ ہاؤس تعمیر نہیں ہوگا۔ موجودہ سرکاری عمارتیں استعمال کی جائیں۔ صوبائی اسمبلیاں مختصر ہوں، کابینہ محدود ہو اور زیادہ سے زیادہ سرکاری خدمات ڈیجیٹل ہوں۔
نئے صوبوں کا مقصد نئی حکومتیں پیدا کرنا نہیں بلکہ حکومت کو چھوٹا اور قریب کرنا ہونا چاہیے۔
اس سے بھی زیادہ ضروری بلدیاتی نظام ہے۔ اگر موجودہ صوبائی دارالحکومتوں کے اختیارات تقسیم کرکے نئے صوبائی دارالحکومتوں کو دے دیے گئے اور نئے صوبے بھی اختیارات اپنے پاس رکھ بیٹھے تو عام شہری کی زندگی میں زیادہ فرق نہیں آئے گا۔
ہر نئے صوبے کے ساتھ ضلع، تحصیل، ٹاؤن اور یونین کونسل کی سطح پر منتخب اور مالی طور پر بااختیار حکومت ہونی چاہیے۔ پانی، صفائی، مقامی سڑکیں، بنیادی صحت، پرائمری تعلیم، مقامی ٹرانسپورٹ، پارک، تعمیراتی کنٹرول اور متعدد شہری خدمات مقامی حکومتوں کے پاس ہونی چاہییں۔
نئے صوبوں کے معاملے میں ایک اور بڑا سوال وسائل کا ہوگا۔ پانی کس کا ہوگا؟ گیس اور معدنیات سے آمدن کیسے تقسیم ہوگی؟ سرکاری ملازمین کس صوبے میں جائیں گے؟ صوبائی قرضے اور اثاثے کیسے تقسیم ہوں گے؟ قومی مالیاتی کمیشن کا فارمولا کیا ہوگا؟
یہ تمام معاملات صوبے بنانے کے بعد نہیں بلکہ صوبے بنانے سے پہلے حل ہونے چاہییں۔
نئے قومی مالیاتی فارمولے میں صرف آبادی نہیں بلکہ غربت، رقبہ، پسماندگی، محصولات، بنیادی سہولتوں کی کمی اور سرحدی ضروریات کو بھی وزن ملنا چاہیے۔ قدرتی وسائل پیدا کرنے والے ضلع کو بھی براہ راست رائلٹی ملنی چاہیے تاکہ مقامی آبادی دیکھ سکے کہ اس کی زمین سے نکلنے والے وسائل کا فائدہ اس کے اپنے علاقے تک پہنچ رہا ہے۔
گلگت بلتستان کو بھی اس پوری بحث سے باہر نہیں رکھا جا سکتا۔ اس کی جغرافیائی، سرحدی، آبی اور اقتصادی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ اس کی مخصوص آئینی حیثیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے قومی مالیاتی اور فیصلہ سازی کے نظام میں زیادہ مؤثر مقام دینے کی ضرورت ہے۔
اسی طرح آزاد جموں و کشمیر کی اپنی مخصوص تاریخی، سیاسی اور قانونی حیثیت ہے۔ اسے عام صوبائی تقسیم میں شامل کرنے کے بجائے اس کی موجودہ حیثیت کا احترام کرتے ہوئے وہاں حکمرانی، مالی شفافیت، مقامی حکومت اور پاکستان کے قومی ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ رابطے کو مزید مضبوط کیا جا سکتا ہے۔
اس پورے معاملے کو پنجاب بمقابلہ باقی پاکستان، شہری بمقابلہ دیہی، یا کسی ایک قومیت بمقابلہ دوسری قومیت بنانے سے بچانا ہوگا۔ نئے صوبوں کا مقصد کسی موجودہ صوبے کی طاقت توڑنا نہیں ہونا چاہیے۔ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ریاست کا انتظام بہتر ہو۔
یہ بھی ضروری ہے کہ کسی زیر گردش سوشل میڈیا نقشے کو پاکستان کا مستقبل تصور نہ کر لیا جائے۔ نقشہ آخر میں بننا چاہیے، پہلے اصول طے ہونے چاہییں۔ پہلے یہ فیصلہ ہونا چاہیے کہ ایک قابلِ انتظام صوبے کا معیار کیا ہوگا، اس کے بعد مردم شماری، معیشت، جغرافیہ، وسائل اور عوامی رائے کی بنیاد پر سرحدیں متعین ہوں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان نے کم از کم ایک اہم قومی سوال دوبارہ ہمارے سامنے رکھ دیا ہے۔ اختلاف اس بات پر ہو سکتا ہے کہ نئے صوبے کتنے ہوں، ان کی حدود کیا ہوں اور انہیں کب بنایا جائے، لیکن اس سوال سے نظریں چرانا مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ 24 کروڑ سے زیادہ آبادی والے پاکستان کا موجودہ انتظامی ڈھانچہ آنے والی کئی دہائیوں کے لیے کافی ہے یا نہیں۔
روس ہمارے سامنے صرف ایک تقابلی مثال ہے۔ تقریباً 14 کروڑ 61 لاکھ آبادی، 89 وفاقی اکائیاں اور متعدد سطحوں پر علاقائی انتظام۔ دوسری جانب پاکستان کی 24 کروڑ سے زیادہ آبادی اور صرف چار بنیادی صوبے، جبکہ اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر اپنی الگ انتظامی و آئینی حیثیت رکھتے ہیں۔
ہمیں 89 صوبے نہیں چاہییں۔ ہمیں اتنی انتظامی اکائیاں ضرور چاہییں جتنی ایک جدید، تیزی سے بڑھتی ہوئی 24 کروڑ کی ریاست کو مؤثر طریقے سے چلانے کے لیے درکار ہیں۔
پاکستان کو اب نقشے پر نئی لکیریں کھینچنے سے پہلے ایک نیا انتظامی فلسفہ اپنانا ہوگا۔ ایسا نظام جس میں وفاق مضبوط ہو، صوبے قابلِ انتظام ہوں، سینیٹ متوازن ہو، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی مخصوص حیثیت اور ضروریات کا احترام ہو، وسائل منصفانہ تقسیم ہوں اور بلدیاتی حکومتیں حقیقی معنوں میں بااختیار ہوں۔
آخرکار نئے صوبوں کی کامیابی کا فیصلہ ان کی تعداد سے نہیں ہوگا۔ اصل سوال یہ ہوگا کہ کیا ایک عام پاکستانی کو اپنے بچے کے سکول، علاج، زمین، روزگار، پولیس، انصاف، صاف پانی اور بنیادی سرکاری سہولت کے لیے پہلے سے بہتر اور تیز نظام ملا یا نہیں۔
اگر جواب ہاں میں ہے تو نئے صوبے پاکستان کو تقسیم نہیں کریں گے، بلکہ اختیارات، وسائل اور ذمہ داری کو تقسیم کرکے پاکستان کے وفاق کو زیادہ مضبوط کر سکتے ہیں۔