تازہ اسپیشل فیچر

انتظامی بحران اور نئے صوبے!

اسلام آباد: (عدیل وڑائچ) شہباز شریف حکومت اپنی پانچ سالہ آئینی مدت کا تقریباً نصف مکمل کرنے کے قریب پہنچ چکی ہے، حکومت کے پاس ابھی کافی وقت باقی ہے لیکن اس کی کارکردگی اور مجموعی طرز حکمرانی پر سوالات اٹھنا شروع ہوگئے ہیں۔

وزارتوں کی کارکردگی، آڈٹ کے مطالبات حکومتی صفوں سے ہی سامنے آ رہے ہیں، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حال ہی میں یہ کہہ کر بحث کو نئی سمت دی کہ آپ مانیں یا نہ مانیں، نظام گر چکا ہے، ان کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس اور نئے صوبوں کے معاملے پر سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھنا چاہیے اور اس مسئلے کو پارلیمان میں لے کر آنا چاہیے۔ ان کے اس بیان کے بعد وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، وفاقی وزیر تجارت جام کمال اور وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال سمیت بعض دیگر رہنماؤں کی جانب سے بھی نئے صوبوں کی ضرورت کی حمایت میں آوازیں سنائی دیں۔

حزب اختلاف تو ویسے ہی غیر مؤثر ہے جس نے خود کو اپنے مسائل میں الجھا رکھا ہے، کابینہ اراکین کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آنے سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ ملک میں حکمرانی کا بحران کسی ایک حکومت کی کارکردگی کا مسئلہ نہیں بلکہ اس پورے انتظامی ڈھانچے سے متعلق ہے جو کئی دہائیوں سے تبدیل ہوتے ہوئے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے میں ناکام رہا ہے۔

یہ درست ہے کہ موجودہ حکومت کو پاکستان کے تمام مسائل کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا، آج کے مسائل کئی دہائیوں کی سیاسی، معاشی اور انتظامی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ حکومت اس وقت اقتدار میں ہے اور عوام کو درپیش مشکلات کا فوری جواب دینا اسی کی ذمہ داری ہے۔

عام شہری کیلئے یہ بحث زیادہ اہم نہیں کہ خرابی کب شروع ہوئی، اس کیلئے اہم سوال یہ ہے کہ اسے بہتر تعلیم کہاں سے ملے گی، علاج کہاں ہوگا، روزگار کیسے حاصل ہوگا، بچوں کا مستقبل کیسے محفوظ ہوگا اور اس کی جان و مال کی حفاظت کون کرے گا، یہ تمام چیزیں گورننس سے جڑی ہیں مگر اس وقت ملک کے موجودہ انتظامی یونٹس گورننس کے مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے کیونکہ ان کا حجم قابو سے باہر ہو چکا ہے۔

معاشی مشکلات میں اضافہ، صحت اور تعلیم کی ناقص صورت حال، امن وامان کے مسائل، آبادی میں تیز رفتار اضافہ، پانی کی کمی اور مستقبل میں خوراک کے ممکنہ بحران جیسے مسائل ریاستی صلاحیت کیلئے بڑے چیلنج بن چکے ہیں، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بدامنی نے بھی اس سوال کو مزید سنگین بنا دیا ہے کہ کیا موجودہ انتظامی ڈھانچہ اتنے پیچیدہ مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے، بلوچستان رقبے کے لحاظ سے اتنا بڑا صوبہ ہے کہ وہاں کی مقامی مشینری امن و امان کی موجودہ صورتحال میں کچھ کر ہی نہیں سکتی، خیبر پختونخوا کا بھی یہی حال ہے، صوبائی حکومتیں امن و امان کی صورتحال قابو سے باہر ہونے کے بعد سکیورٹی فورسز کی جانب دیکھتی ہیں۔

پاکستان میں 2010ء کی اٹھارہویں آئینی ترمیم کو صوبائی خودمختاری کے حوالے سے ایک تاریخی پیش رفت سمجھا جاتا ہے، تعلیم، صحت، کھیلوں اور دیگر کئی شعبوں کی ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل کی گئیں، صوبوں کو زیادہ مالی وسائل بھی دستیاب ہوئے لیکن آج 16 سال گزرنے کے بعد بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ان اختیارات کا فائدہ عام شہری تک پہنچا؟ بلکہ ان شعبوں میں صورتحال اور خراب ہوگئی کیونکہ ان صوبوں کا حجم اتنا غیر حقیقی ہے کہ اس سے عام شہری کو ریلیف مل ہی نہیں سکتا۔

گنے چنے چند شہروں کو تو توجہ مل سکتی ہے مگر مرکز سے دور شہر کسی اور ہی دنیا کا منظر پیش کر رہے ہیں، میاں عامر محمود صاحب کی تحقیق اس وقت کئی تھنک ٹینکس میں موضوع بحث ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پنجاب آبادی کے لحاظ سے دنیا کے 182 ممالک سے بڑا ہے، سندھ آبادی کے لحاظ سے 162 ممالک، خیبر پختونخوا 152 ممالک جبکہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے 172 ممالک سے بڑا ہے، صوبوں کے اس غیر حقیقی سائز کے ساتھ گورننس کو کیسے بہتر کیا جا سکتا ہے؟

اس تحقیق میں عالمی اداروں کے اعداد و شمار کا حوالہ دیا گیا ہے جن کے مطابق پاکستان پائیدار ترقی کے اہداف کے انڈیکس میں 169 میں سے 131 نمبر پر ہے، انسانی ترقی کی رینکنگ میں 193 میں سے 168 نمبر پر ہے، گلوبل ہنگرانڈکس میں پاکستان کا نمبر 123 میں سے 106 ہے، قانون کی حکمرانی میں 143 میں سے 130 جبکہ کرپشن سے متعلق تاثر کی رینکنگ میں ہم 182 میں سے 136 نمبر پر ہیں، پاکستان میں ہر دس میں سے چار بچے نشونما میں کمی کا شکار ہیں، 55 فیصد سے زائد عوام کے پاس پینے کا صاف پانی نہیں، دنیا کے کئی ترقی یافتہ مغربی ممالک کی کل آبادی سے زیادہ تو پاکستان میں آؤٹ آف سکول بچوں کی تعداد ہے جہاں اڑھائی کروڑ بچے سکول سے باہر ہیں۔

اس بحرانی کیفیت سے نکلنے کیلئے میاں عامر محمود صاحب نے 33 فیڈریٹنگ یونٹس بنانے کی تجویز دی ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ اس میں پہلے سے موجودہ ڈویژن کی سطح پر یونٹس کو نئے صوبوں کا درجہ دے دیا جائے، اس سے ہر صوبے کی حکومت کو عوام پر حقیقی توجہ دینے میں آسانی ہوگی، ملک کے انتظامی اخراجات میں کمی آئے گی، عوام کو حکمرانوں کے قریب آنے کا موقع ملے گا۔

تھنک ٹینکSDPI نے اسلام آباد میں ایک پالیسی ورکشاپ کا انعقاد کیا جس میں سوال اٹھایا گیا کہ کیا پاکستان کو مزید انتظامی یونٹس بنانے چاہئیں؟ اس ورکشاپ میں پاکستان کی سیاستدانوں، ٹیکنوکریٹس اور ماہرینِ معاشیات نے شرکت کی، اس میں بھی شرکا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبوں کے موجودہ حجم کو کنٹرول کرنا ممکن نہیں، اگر عوام کی زندگی آسان بنانی ہے تو نئے انتظامی یونٹس بنانے ضروری ہیں۔

(ن) لیگ اور پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنماؤں نے کہا کہ ملک میں صوبے بنانے کی بجائے مقامی حکومتوں کے نظام کو مضبوط کیا جائے، مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ انہیں جماعتوں کی جانب سے کبھی بھی مضبوط بلدیاتی نظام دیا ہی نہیں گیا، جب سے نئے صوبوں کی بحث آگے بڑھنے لگی ہے حکومتی حلقوں میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کرانے کے معاملے میں سنجیدگی دکھائی دینے لگی ہے۔

لوکل گورنمنٹ کے انتخابات کرانا تو ویسے ہی آئینی تقاضا ہے جس میں بڑی سیاسی جماعتوں اور حکومتوں کی جانب سے تاخیر کی گئی، انتخابات کرائے بھی گئے تو مقامی حکومتوں کو اختیارات نہیں دیئے گئے، مقامی حکومتوں کا نظام لانا ہر لحاظ سے خوش آئند ہے کیونکہ اتنے بڑے صوبوں کے ساتھ فوائد حاصل نہیں کئے جا سکتے۔