روس کی انتظامی مشینری کیسے چلتی ہے، پاکستان کیا سیکھ سکتا ہے؟
ماسکو: (شاہد گھمن) گزشتہ کالم میں، میں نے ایک سادہ سا سوال اٹھایا تھا کہ 14 کروڑ سے کچھ زیادہ آبادی والا روس اگر 89 وفاقی اکائیوں میں تقسیم ہو کر چل سکتا ہے تو 24 کروڑ سے زیادہ آبادی رکھنے والا پاکستان صرف چار صوبوں کے سہارے کیوں چل رہا ہے؟ قارئین نے اس سوال کو خاصی سنجیدگی سے لیا۔
بہت سے دوستوں نے رابطہ کیا، کچھ نے اتفاق کیا، کچھ نے اختلاف کیا، لیکن تقریباً ہر گفتگو آخر میں ایک ہی سوال پر آ کر رک گئی کہ روس میں 89 اکائیاں تو بنا دی گئی ہیں، مگر آخر یہ نظام چلتا کیسے ہے؟
یہ سوال میرے لیے بھی زیادہ اہم ہے، کیونکہ نقشے پر لکیریں کھینچ دینا آسان ہے، اصل امتحان ان لکیروں کے اندر حکومت چلانے کا ہے۔
روس میں رہتے ہوئے یہاں کے نظام کو دیکھیں تو پہلی بات جو سمجھ آتی ہے وہ یہ ہے کہ ہر کام کیلئے ماسکو کی طرف نہیں دیکھا جاتا، روس ایک مضبوط مرکزی ریاست ضرور ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملک کے کسی دور دراز علاقے میں سکول، ہسپتال، علاقائی سڑک یا مقامی ترقی کا معاملہ ہو تو فائل اٹھا کر کریملن پہنچ جائے۔
روس کی 89 وفاقی اکائیوں کے نام بھی ایک جیسے نہیں، کہیں اوبلاست ہے، کہیں کرائے، کہیں جمہوریہ، کہیں خودمختار علاقہ اور ماسکو جیسے بڑے شہروں کی اپنی وفاقی حیثیت ہے، لیکن عام پاکستانی قاری کیلئے ان پیچیدہ روسی اصطلاحات سے زیادہ اہم یہ سمجھنا ہے کہ یہ ملک مختلف انتظامی اکائیوں میں تقسیم ہے اور ان اکائیوں کے اپنے حکومتی ڈھانچے موجود ہیں۔
زیادہ تر علاقوں کا انتظامی سربراہ گورنر ہوتا ہے، جبکہ جمہوریاؤں میں اسے سربراہِ جمہوریہ کہا جاتا ہے، یہاں ایک غلط فہمی دور کرنا بھی ضروری ہے، روس کا گورنر ہمارے ہاں کے گورنر جیسا رسمی عہدہ نہیں، انتظامی لحاظ سے اس کا کردار زیادہ ہمارے وزیراعلیٰ کے قریب ہے، اس کے ساتھ علاقائی حکومت ہوتی ہے، قانون ساز ادارہ ہوتا ہے، بجٹ ہوتا ہے اور مختلف محکمے ہوتے ہیں۔
یعنی ماسکو میں بیٹھا وفاق یہ طے نہیں کرتا کہ روس کے ہر شہر اور ہر علاقے کی ہر سڑک کہاں بنے گی یا ہر ہسپتال کا روزمرہ انتظام کیسے چلے گا، یہیں سے پاکستان کے لیے پہلا سبق نکلتا ہے۔
ہر کام دارالحکومت کا کام نہیں ہوتا۔
پاکستان میں مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ہمارے صوبے بہت بڑے ہیں، اصل مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم نے اختیار کو اوپر جمع کرنے کی عادت بنا لی ہے، اسلام آباد اختیارات اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے، صوبہ وفاق سے اختیارات مانگتا ہے لیکن جب وہی اختیار ضلع اور بلدیاتی حکومت کو دینے کی باری آتی ہے تو صوبائی حکومت بھی اسے اپنے سینے سے لگا لیتی ہے۔
نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اختیارات کی منتقلی کی ہماری گاڑی اسلام آباد سے چلتی ہے اور صوبائی دارالحکومت پہنچ کر رک جاتی ہے۔
روس میں علاقائی حکومت کے بعد معاملہ مزید نیچے جاتا ہے۔ مقامی اور میونسپل حکومتوں کا اپنا دائرۂ کار ہے۔ مقامی بجٹ، مقامی املاک، مقامی ٹیکس اور روزمرہ شہری نوعیت کے کئی معاملات وہیں طے کیے جاتے ہیں۔ ایک اصول خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ اگر کسی مقامی ادارے کو ریاست کی طرف سے اضافی ذمہ داری دی جائے تو اس ذمہ داری کے ساتھ مالی اور مادی وسائل کی فراہمی بھی قانون کا حصہ ہے، سادہ الفاظ میں کہیں تو کام دو گے تو پیسہ بھی دینا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: 14 کروڑ کا روس 89 اکائیوں میں، 24 کروڑ کا پاکستان صرف چار صوبوں میں کیوں؟
پاکستان میں اکثر اس کے برعکس ہوتا ہے، ذمہ داری نیچے دے دی جاتی ہے، اختیار اوپر رہتا ہے اور پیسہ کہیں درمیان میں رک جاتا ہے، پھر عوام اپنے منتخب میئر، چیئرمین یا بلدیاتی نمائندے سے سوال کرتے ہیں اور وہ جواب دیتا ہے کہ میرے پاس اختیار نہیں، اختیار رکھنے والا افسر عوام کے ووٹ سے آیا نہیں ہوتا اور جسے عوام نے ووٹ دیا ہوتا ہے اس کے پاس اختیار نہیں ہوتا، یہ گورننس کی وہ گرہ ہے جسے نئے صوبے بنا کر بھی نہ کھولا گیا تو کچھ زیادہ حاصل نہیں ہوگا۔
روس میں ایک اور سطح وفاقی اضلاع کی ہے، پورا ملک آٹھ وفاقی اضلاع میں تقسیم ہے، یہاں بھی ایک بات واضح رہنی چاہیے کہ یہ آٹھ نئے صوبے نہیں اور ان کے سربراہ کوئی ’’سپر گورنر‘‘ نہیں ہوتے، ان میں روسی صدر کے نمائندے ہوتے ہیں، جن کا بنیادی کام وفاق اور مختلف علاقوں کے درمیان رابطہ، وفاقی فیصلوں پر عمل درآمد کی نگرانی اور علاقائی حالات سے مرکز کو باخبر رکھنا ہے۔
پاکستان کو یہ نظام نقل کرنے کی ضرورت نہیں، لیکن اس کے پیچھے موجود سوچ ہمارے کام آ سکتی ہے۔
مثلاً پانی کسی صوبے کی سرحد دیکھ کر بہنا بند نہیں کرتا، دریا ایک صوبے سے دوسرے میں جاتا ہے، موٹروے، ریلوے، بجلی کی ترسیل، گیس، ماحولیات اور تجارتی راہداریاں بھی صوبائی سرحدوں کی پابند نہیں، ایسے معاملات کے لیے ہمارے پاس مشترکہ مفادات کونسل جیسے آئینی ادارے موجود ہیں، مگر انہیں زیادہ مستقل، فعال اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔
اب ذرا پاکستان کی طرف واپس آئیں۔
ہم نئے صوبوں کی بات تو کر رہے ہیں، لیکن اس سے پہلے ہمیں ایک بنیادی سوال کا جواب دینا ہوگا، فرض کریں کل پاکستان میں آٹھ، دس یا بارہ صوبے بن جاتے ہیں، کیا ہر نئے صوبے میں وہی پرانا نظام کھڑا کر دینا ہے؟ ایک نیا گورنر ہاؤس، نیا وزیراعلیٰ ہاؤس، نئی اسمبلی، نیا سیکرٹریٹ، وزیروں اور مشیروں کی نئی فوج، نئی گاڑیاں اور پھر تمام اختیارات ایک نئے صوبائی دارالحکومت میں جمع؟ اگر یہی کرنا ہے تو ہم نے مسئلہ حل نہیں کیا، صرف اس کا پتا تبدیل کیا ہے۔
نئے صوبوں کا مقصد نئی سیاسی نوکریاں پیدا کرنا نہیں ہونا چاہیے، مقصد حکومت کو عوام کے قریب لانا ہونا چاہیے، میرے نزدیک پاکستان کے لیے نظام بہت پیچیدہ بنانے کی ضرورت نہیں، اصول سیدھا ہونا چاہیے، قومی نوعیت کا کام وفاق کرے، علاقائی نوعیت کا کام صوبہ کرے، ضلع اپنے معاملات خود چلائے اور محلے، شہر اور تحصیل کے روزمرہ مسائل منتخب مقامی حکومت حل کرے۔
جو کام یونین کونسل کر سکتی ہے اسے ضلع کے پاس نہ بھیجیں، جو ضلع کر سکتا ہے اسے صوبائی دارالحکومت نہ بھیجیں، جو صوبہ کر سکتا ہے اسے اسلام آباد نہ بھیجیں، اور جس سطح کو کام دیں، اسے اختیار، افسر اور پیسہ بھی دیں، یہی وہ جگہ ہے جہاں نئے صوبوں کی موجودہ بحث سنجیدہ شکل اختیار کر سکتی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حال ہی میں موجودہ نظام کی کمزوری کا ذکر کرتے ہوئے نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر بات کی ہے، دوسری طرف چیئرمین پنجاب گروپ میاں عامر محمود برسوں سے ہر ڈویژن کو صوبہ بنانے کی تجویز پیش کرتے آئے ہیں، ان کی اس تجویز سے اتفاق یا اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے پیچھے موجود بنیادی سوال کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ آخر ایک صوبہ انتظامی لحاظ سے کتنا بڑا ہونا چاہیے؟
یہ فیصلہ سیاست دان اکیلے نہ کریں، آئینی ماہر کو ساتھ بٹھائیں، معیشت دان کو بلائیں، پانی کے ماہر سے پوچھیں، مردم شماری سامنے رکھیں، محصولات دیکھیں، رقبہ دیکھیں، فاصلے دیکھیں اور سب سے بڑھ کر متعلقہ علاقوں کے لوگوں سے پوچھیں۔
پھر آٹھ، دس، بارہ صوبوں اور موجودہ ڈویژنوں کو صوبائی اکائیوں میں تبدیل کرنے سمیت مختلف ماڈل میز پر رکھ دیئے جائیں، ہر ماڈل کے ساتھ قوم کو بتایا جائے کہ اس پر خرچ کتنا آئے گا، آمدن کہاں سے ہوگی، پانی کیسے تقسیم ہوگا، ملازمین کا کیا ہوگا اور عوام کو عملی فائدہ کیا ملے گا۔
مجھے روسی نظام کی ایک بات پاکستان کے تناظر میں خاص طور پر اہم لگتی ہے، یہاں مختلف علاقوں کا ایک ہی سانچے میں ہونا ضروری نہیں سمجھا گیا، روس کی کسی اکائی کو جمہوریہ کہا جاتا ہے، کسی کو اوبلاست، کسی کو کرائے اور کسی بڑے شہر کی اپنی وفاقی حیثیت ہے، اس کی تاریخی وجوہات اپنی جگہ، مگر انتظامی سبق یہ ہے کہ ایک بڑے ملک کے ہر علاقے کو لازماً ایک ہی پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔
پاکستان میں بھی بلوچستان کو پنجاب کے پیمانے سے نہیں دیکھا جا سکتا، بلوچستان میں آبادی کم ہے مگر فاصلے بہت بڑے ہیں، پنجاب میں رقبے سے زیادہ آبادی کا دباؤ اہم ہے، گلگت بلتستان میں پہاڑی جغرافیہ، فاصلے اور سرحدی اہمیت الگ نوعیت کے مسائل پیدا کرتے ہیں، آزاد جموں و کشمیر کی اپنی مخصوص تاریخی، قانونی اور سیاسی حیثیت ہے۔
اس لیے اگر ہم واقعی انتظامی اصلاح چاہتے ہیں تو ہمیں ایک ایسا پاکستانی ماڈل بنانا ہوگا جو پاکستان کی زمین، آبادی اور ضروریات سے نکلے، کسی دوسرے ملک کی فوٹو کاپی نہ ہو اور ایک بات جس پر میں خاص طور پر زور دینا چاہوں گا، نئے صوبوں کے ساتھ بلدیاتی حکومتوں کو آئینی اور مالی تحفظ دیئے بغیر یہ پوری مشق ادھوری رہے گی۔
ہم پاکستان میں ایک عجیب چکر بار بار دیکھتے ہیں، جمہوریت آتی ہے تو قومی اور صوبائی اسمبلیاں قائم ہو جاتی ہیں، لیکن بلدیاتی انتخابات کبھی وقت پر ہوتے ہیں اور کبھی برسوں انتظار کرتے رہتے ہیں، حالانکہ ایک عام شہری کا واسطہ خارجہ پالیسی سے روز نہیں پڑتا، اس کا واسطہ گلی، پانی، سیوریج، صفائی، ٹرانسپورٹ، سکول، بنیادی ہسپتال اور مقامی پولیس سے پڑتا ہے، یعنی جس حکومت کی شہری کو روز ضرورت ہے، وہی ہماری جمہوریت کی سب سے کمزور کڑی ہے۔
نئے انتظامی نظام میں یہ غلطی نہیں دہرانی چاہیے۔
ہر صوبے کو پابند کیا جائے کہ مقامی حکومتوں کے انتخابات مقررہ مدت پر ہوں، ان کا حصہ صوبائی مالیاتی کمیشن کے ذریعے خودکار انداز میں منتقل ہو، صوبائی وزیراعلیٰ اپنی مرضی سے میئر کے اختیارات واپس نہ لے سکے اور میئر بھی عوام کے سامنے اپنے شہر کی کارکردگی کا جواب دہ ہو، تب جا کر نئے صوبوں کا فائدہ گورنر ہاؤس سے نکل کر عام آدمی کی گلی تک پہنچے گا۔
روس سے ہمیں 89 کا ہندسہ نہیں سیکھنا، نہ روسی نظام کو اٹھا کر پاکستان میں رکھ دینا مسئلے کا حل ہے، سیکھنے کی چیز یہ ہے کہ ایک بڑی ریاست میں ہر فیصلہ مرکز نہیں کرتا، اختیار مختلف سطحوں تک جاتا ہے، ذمہ داری متعین ہوتی ہے، اس کے ساتھ وسائل جاتے ہیں اور پھر اسی سطح سے جواب بھی مانگا جاتا ہے۔
پاکستان میں نئے صوبے ضرور زیر بحث آنے چاہئیں، لیکن اس بحث کا آغاز نقشے سے نہیں بلکہ اختیار کی تقسیم سے ہونا چاہیے، پہلے طے کریں اسلام آباد کیا کرے گا، صوبہ کیا کرے گا، ضلع کیا کرے گا اور مقامی حکومت کیا کرے گی، پھر ہر سطح کے وسائل اور جواب دہی طے کریں، اس کے بعد نقشہ بنانا نسبتاً آسان ہوگا، ورنہ خدشہ یہی ہے کہ چار بڑے صوبوں کی جگہ دس یا بارہ چھوٹے صوبے تو بن جائیں گے، لیکن عام پاکستانی پھر بھی اپنی ایک فائل لئے کسی نئے دارالحکومت کے چکر لگا رہا ہوگا۔
اصل اصلاح نئے صوبے بنانا نہیں، حکومت کو عوام کے دروازے تک پہنچانا ہے، نئے صوبے اس منزل تک پہنچنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں، منزل خود نہیں۔