رحمتِ دوعالمﷺ کا عفو عام
لاہور: (صاحبزادہ پیرمختار احمد تونسوی) حضور سیدِ عالم حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی اس دنیائے رنگ و بو میں آمد کا تذکرہ آپﷺ کے بیشمار روشن پہلوؤں میں سے ایک انتہائی خاص پہلو ’’عفو و کرم‘‘ پر کرتے ہیں کہ جس کی وجہ سے آپﷺ کا مقام و مرتبہ سب سے جداگانہ اور منفرد ہے، یقینا آپﷺ کی ذاتِ گرامی صورت میں اجمل اور سیرت میں اکمل ہے۔
عربی زبان میں عفو کے معنی چھوڑ دینا کے ہیں یعنی قصور کرنے والے کو سزا نہ دیتے ہوئے اسے معاف کر دینا عفو کہلاتا ہے، خداوند قدوس کے اسمائے پاک میں سے ایک ’’العفو‘‘ بھی ہے یعنی معاف کر دینے والا، معاف کر دینا اللہ رب العزت کی صفت ہے، اللہ تعالیٰ نے اس بارے ارشاد فرمایا ’’اور اگر تم معاف کرو اور درگزر کرو اور بخش دو تو اللہ بھی بخشنے والا نہایت رحم والا ہے‘‘ (التغابن: 14) ۔
حضور اقدسﷺ کی سیرتِ طیبہ ہمارے لیے ایک بہترین نمونہ ہے، پروردگارِ عالم کی پاک ذات نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا کہ ’’یعنی تمہارے لیے نبی کریمﷺ کی زندگی مبارک میں بہترین نمونہ ہے‘‘ (الاحزاب:21)۔ رحمت عالمﷺ کا فرمانِ مقدس ہے کہ ’’مجھے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اس قدر ڈرایا گیا کہ کوئی (دوسرا انسان) اس قدر نہیں ڈرایا گیا، اور مجھے اس قدر ایذا پہنچائی گئی کہ کسی(دوسرے انسان) کو اس قدر ایذا نہیں پہنچائی گئی‘‘، اعلانِ نبوت سے لے کر فتح مکہ تک رحمت دوعالم ﷺ کی ذاتِ مقدس پر مصائب کے اس قدر پہاڑ توڑے گئے کہ تاریخ انسانی، جس کی مثال دینے سے قاصر ہے۔
اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک روز میں نے رسولِ عربیﷺ سے پوچھا کہ یا رسول اللہﷺ! کیا احد کے دن سے بھی زیادہ سخت اور پریشان کن دن آیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا ’’ہاں وہ یوم العقبہ ہے، جب میں ابن عبدیالیل کے پاس گیا، میں نے اسے توحید کی دعوت دی لیکن اس نے میری بات کو رد کر دیا، میں غمزدہ وہاں سے چل پڑا، میں نے سر اُٹھایا تو بادل کا ایک ٹکڑا مجھ پر سایہ کئے ہوئے تھا، اس میں سے جبرائیل امینؑ نے مجھے پکار کر کہا: بیشک اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کی قوم کی گفتگو(جو انہوں نے آپﷺ کے ساتھ کی) سن لی، اور جو سلوک انہوں نے کیا، وہ بھی دیکھ لیا۔
اب خداوند قدوس نے پہاڑوں پر متعین فرشتے ملک الجبال کو بھیجا ہے، آپﷺ اپنی قوم کو جو سزا دینا چاہیں، اس کا انہیں حکم دیں، (اتنے میں) ملک الجبال نے مجھے سلام کر کے کہا اللہ تعالیٰ نے مجھے آپﷺ کی خدمت میں بھیجا ہے، آپﷺ حکم دیں تو میں ان دو پہاڑوں کے بیچ میں ان سب کو پیس ڈالوں لیکن میں نے کہا مجھے امید ہے کہ شاید ان کی آئندہ نسلوں میں سے کوئی ایسا ہو جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے‘‘۔
آپﷺ نے صبر و تحمل سے اپنے بدترین دشمنوں کے ساتھ شرافت و حسنِ سلوک، عفو و درگزر اور رحمت و شفقت کا وہ سلوک روا رکھا جو چشمِ فلک نے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا، حسن سلوک کے یہ فرحت آ گیں مناظر بے مثل و بے نظیر تھے، آپﷺ پر لوگوں نے پتھر برسائے، مگر آپﷺ نے انہیں دعاؤں سے نوازا، بڑھیا نے آپﷺ پر گندگی پھینکی، مگر آپﷺ نے اس کی تیمار داری فرمائی، حاتم طائی کی بیٹی کیلئے آپﷺ نے اپنی چادر بچھا دی۔
فتح مکہ کے واقعہ کو ہی لے لیجئے کہ جب آپﷺ فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے اور مفتوحین کے ساتھ کس قدر محبت شفقت اور معافی کا معاملہ فرمایا کہ جب مہاجرین مکہ دس ہزار لشکر جرار لے کر منادید کفر و شرک پر چڑھائی کرتے ہیں اور فرطِ مسرت میں ڈوبے ہوئے اس عظیم اسلامی لشکر سے آواز آتی ہے کہ آج بدلے کا دن ہے، اور خوب بدلہ لیں گے، آج کوئی نہیں بچے گا، ہر کوئی اپنے اپنے انجام کو پہنچے گا مگر سبحان اللہ کیا بات ہے کہ ہمارے کریم آقاﷺ نے سب پر نگاہ رحمت ڈالتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ’’ تم لوگوں کو کچھ معلوم ہے، آج میں (محمدﷺ) تم لوگوں سے کیا معاملہ کرنے والا ہوں؟‘‘۔
یہ سوال سن کر سب مجرم کانپ اُٹھے اور اُن پہ لرزہ طاری ہوگیا، کیوں کہ ماضی قریب میں آپﷺ پر اپنے ہاتھوں اور زبان سے کیے ہوئے ظلم وستم ایک ایک کر کے سب یاد آ رہے تھے، سب کے سب بارگاہِ رسالت مآب میں سر جھکا کر یک زبان ہو کر بولے: یارسول اللہﷺ! آپﷺ کریم بھائی اور کریم باپ کے بیٹے ہیں، یہ جواب سن کر رحمت عالمﷺ نے اپنے دلنشین اور کریمانہ لہجے میں ارشاد فرمایا ’’آج میں وہ کہتا ہوں، جو میرے بھائی حضرت یوسف علیہ اسلام نے کہا تھا ’’آج کے دن تم سے کوئی مواخذہ نہیں‘‘، کریم آقاﷺ نے عفو عام کا اعلان فرما دیا، معافی کا اعلان سنتے ہی مجرموں کی آنکھیں فرطِ جذبات سے اشکبار ہوگئیں اور زبان پر کلمہ طیبہ لاالٰہ الااللہ محمد رسول اللہ جاری ہوگیا۔
ان معافی پانے والوں میں کیسے کیسے لوگ تھے، آیئے! اُن میں سے چند ایک کی جھلک دیکھتے ہیں، عکرمہ بن ابوجہل، جو مختلف طریقوں اور بہانوں سے آپ ﷺ کو ستانے میں ابوجہل سے کسی طرح کم نہ تھا، اس کی بیوی اُم حکیم بنت حارث نے اسلام قبول کیا اور بارگاہِ رسالت مآبﷺ میں عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! عکرمہ کو امان دیجئے، حضورِ اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا ’’عکرمہ کیلئے امان ہے‘‘، ابو سفیان بن حرب کی بیوی ہندہ، جس نے سیدِ عالمﷺ کے پیارے چچا حضرت امیر حمزہؓ کی شہادت کے بعد پیٹ چاک کر کے کلیجہ نکال کر اسے چبایا تھا، عبداللہ بن ابی سرح جو کفر ونفاق کی حالت میں اس قدر خائن تھا کہ قرآن پاک کے الفاظ تک بدل دیا کرتا تھا۔
عبداللہ بن زبعریٰ جو مکہ شریف میں شاعر تھا اور دن رات نبی کریمﷺ کی ہجویں لکھ کرتا تھا اور انہیں جگہ جگہ سنایا اور مذاق اُڑایا کرتا تھا، صفوان بن امیہ بن خلف، جو ہمہ وقت لوگوں کو رسولِ عربیﷺ کے (نعوذ باللہ) قتل کرنے پرآمادہ اور ترغیب دیا کرتا تھا، ابو سفیان، جس کی زندگی کا ہر ہر لمحہ حضور سیدِ عالمﷺ کو تکلیف پہنچانے اور آپﷺ کی زندگی کو ختم کرنے کی تجویزیں سوچنے کیلئے صرف ہوتا تھا۔
رحمت دو عالمﷺ کا فرمان ہے ’’میرے ربِ قدوس نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ جو کوئی مجھ پر ظلم کرے میں اس کو قدرت انتقام رکھنے کے باوجود معاف کر دوں‘‘ (مشکوٰۃ شریف)، اللہ عزوجل نے آپﷺ کو جملہ خصوصیات کے ساتھ تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا، امت مسلمہ کو چاہے کہ خرافات سے بچتے ہوئے اتباع سنت اختیار کرئے کہ یہی آپﷺ سے سچی محبت کا عملی ثبوت ہے۔