کیا شہر اقتدار میں سب اچھا ہے؟
اسلام آباد: (عدیل وڑائچ) باتیں ہونے لگی ہیں کہ سب اچھا نہیں ہے، شہرِ اقتدار میں ایک عجیب سی خاموشی ہے، حکومت کی بڑی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے تیور کچھ بدلے بدلے دکھائی دے رہے ہیں اور اس نے اُکھڑی اُکھڑی باتیں کرنا شروع کر دی ہیں۔
لندن میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے صدرآصف علی زرداری سے تفصیلی ملاقات بھی کی جس میں وزیر داخلہ نے اہم پیغام صدر زرداری تک پہنچایا، معاملہ یہ ہے کہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں وہ بڑی اصلاحات کرنے کیلئے تیار نظر نہیں آ رہیں جن کا وقت آن پہنچا ہے، عوام بدترین گورننس کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں مگر روایتی نظام میں بیٹھے پالیسی ساز شاید یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ یہ ایسا ہی چلتا رہے گا، اب شاید ایسا چل نہیں سکتا۔
وہ پاکستان جو دنیا بھر کے بڑے سفارتی اور امن و امان کے مسئلے حل کروا رہا ہے اس کا گورننس کا اپنا نظام کئی سوالات کھڑے کر رہا ہے، بیڈ گورننس اب شہر شہر کی کہانی ہے، چاہے امن و امان کا مسئلہ ہے، انصاف کی فراہمی کا، تحفظ کا ، صحت کی سہولیات کا یا بنیادی تعلیمی حق کا، موجودہ نظام عام آدمی کو اس کے حقوق دینے میں ناکام ہو چکا ہے، کیونکہ یہ اپنی بنیادی ذمہ داریاں پوری کرنے سے بھی قاصر ہے، تعلیم، صحت، پولیس سمیت بیشتر سول ادارے اپنی کم از کم صلاحیت بھی کھو چکے ہیں، اب تو آئے دن ایک کے بعد ایک سانحہ ہمیں جھنجھوڑ رہا ہے کہ موجودہ نظام میں تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے۔
پمز کا حالیہ سانحہ اسی ناکامی کی ایک انتہائی المناک تصویر ہے، نومولود بچوں کی جانوں کا ضیاع صرف ایک ہسپتال میں پیش آنے والا حادثہ نہیں بلکہ یہ سوال ہے کہ ہمارے سرکاری ادارے آخر کس کیلئے اور کس نظام کے تحت چل رہے ہیں؟ اگر ایک بڑے وفاقی ہسپتال میں بنیادی حفاظتی انتظامات، ایمرجنسی رسپانس، نگرانی اور انتظامی ذمہ داریوں کے حوالے سے سوالات پیدا ہوں تو معاملہ صرف چند افراد کی غفلت تک محدود نہیں رہتا، یہ پورے نظام کی کارکردگی کا سوال بن جاتا ہے۔
یہ سانحہ پوری دنیا کے میڈیا کی ہیڈلائن بنا، دنیا بھر نے دیکھا کہ پاکستان کے دارالحکومت کا سب سے اہم اور سب سے بڑا ہسپتال آگ پر قابو پانے والے بنیادی آلات اور عملے کی تربیت سے محروم نکلا، ایسا نہیں تھا کہ پمز ہسپتال کیلئے فنڈز نہیں تھے یا سٹاف کی کمی تھی، پمز ہسپتال کا سالانہ فنڈ ساڑھے 7 ارب روپے سے زائد ہے جو راولپنڈی ڈویژن میں موجود ملٹری کے تمام ہسپتالوں کے فنڈز کے برابر ہے مگر جب آگ لگی تو معلوم ہوا کہ عملے کے کئی ارکان اپنی ڈیوٹی پر ہی موجود نہیں تھے، آگ لگنے جیسے واقعات پر قابو پانے کیلئے گزشتہ کئی برسوں سے عملے کو کوئی تربیت نہ دی گئی۔
ماں بچہ ہسپتال کے سب سے حساس ایریا یعنی نولود بچوں کی نرسری میں آگ لگنے کی صورت میں بچاؤ یا ایمرجنسی اطلاع کا کوئی نظام موجود نہیں تھا، چند ماہ قبل پمز کے نرسنگ ہاسٹل میں آگ لگنے کے بعد جن خامیوں کی نشاندہی ہوئی ان پر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔
ضلعی انتظامیہ اور سی ڈی اے کے تحت فائر سیفٹی کے اداروں نے بھی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی اور سب ہمیشہ کی طرح یہی سوچتے رہے کہ جیسا چل رہا ہے چلتا رہے گا، اور پھر گزشتہ ہفتے ہونے والے افسوسناک واقعے نے 14 نولومود بچوں کی جان لے لی، اندازہ لگائیں کہ اگر یہ اسلام آباد کے سب سے بڑے ہسپتال کی صورتحال ہے تو ملک بھر میں خاص طور پر صوبائی مراکز سے دور دراز علاقوں میں ہسپتالوں کی حالت زار کیا ہوگی۔
ہر بڑے سانحے کی طرح اس مرتبہ بھی ایک انکوائری کمیٹی بنی، افسران معطل ہوئے، سی ڈی اے کی جانب سے عمارتوں کو جرمانے اور سیل کرنے کا عمل شروع ہوا جو آئندہ چند روز تک جاری رہتا دکھائی دے گا، اس کے بعد سب اس واقعے کو بھول کر ایک نئے سانحے کا انتظار کریں گے۔
وزیر صحت مصطفی کمال نے اس سانحے کے بعد کئی مواقع پر بتایا کہ ان کے پاس پمز میں آفس بوائے سے لے کر سربراہ تک کسی کو لگانے یا ہٹانے کا اختیار ہی نہیں، انہوں نے کہا کہ پمز کا نظام گل سڑ چکا ہے، یہاں کچھ ٹھیک نہیں کیا جا سکتا، اب وفاقی وزرا یہ کہنے پر مجبور ہو چکے ہیں کہ موجودہ نظام ناکارہ ہو چکا ہے اس سے عوام کو کچھ نہیں مل سکتا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی چند ہفتے قبل کہہ چکے ہیں کہ آپ مانیں یا نہ مانیں موجودہ نظام منہدم ہو چکا ہے، سیاستدانوں کو سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا، حقیقت یہ ہے کہ سیاستدان اس معاملے پر سر جوڑ کر بیٹھنے کو تیار نہیں، کیونکہ نظام کی تبدیلی روایتی سیاسی جماعتوں کی اجارہ داری کیلئے خطرہ ہے، ان سیاسی جماعتوں نے اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے بلدیاتی حکومتوں کا نظام صوبوں کے حوالے کر کے اسے بے اثر بنایا، پھر اس بے اثر نظام لانے میں بھی رکاوٹیں ڈالی گئیں، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب اس نظام میں سے ہی نظام کی تبدیلی کی آوازیں اٹھنا شروع ہو چکی ہیں۔
سیاستدان ہوں یا بیوروکریسی پاکستان میں چہرے تبدیل کر دیئے جاتے ہیں مگر مسائل حل ہونے کی بجائے بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں، اب یہاں محض نئی حکومتوں کی نہیں نئے گورننس ماڈل کی ضرورت ہے، ایسا ماڈل جس میں فیصلہ سازی شہریوں کے قریب ہو، اختیار واضح ہو اور نتائج کی ذمہ داری بھی واضح ہو۔
یہی وجہ ہے کہ اب چھوٹی اور بااختیار انتظامی اکائیوں کی بحث کو سنجیدگی سے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے، بڑے صوبے، بڑے محکمے اور انتہائی مرکزی انتظامی ڈھانچے بظاہر مضبوط ریاست کی علامت محسوس ہوتے ہیں لیکن عملی طور پر اکثر یہ فیصلہ سازی کو سست اور جوابدہی کو مبہم بنا دیتے ہیں، شہریوں کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کے بنیادی مسائل کا ذمہ دار کون ہے۔
ایک محکمے سے دوسرے، ایک دفتر سے دوسرے اور ایک افسر سے دوسرے دفتر تک فائل سفر کرتی رہتی ہے لیکن مسئلہ حل نہیں ہوتا، چھوٹی انتظامی اکائیاں اس مسئلے کا ایک ممکنہ حل فراہم کر سکتی ہیں، جب انتظامی حدود نسبتاً چھوٹی ہوں، اختیارات واضح ہوں اور مقامی انتظامیہ کو مناسب مالی و انتظامی خودمختاری حاصل ہو تو حکومت شہریوں کے قریب آتی ہے، فیصلے تیزی سے ہو سکتے ہیں، مقامی مسائل کی بہتر شناخت ممکن ہوتی ہے اور ناکامی کی صورت میں ذمہ دار شخص یا ادارے کا تعین بھی آسان ہو جاتا ہے۔
یہ بات بھی درست ہے کہ صرف نئے انتظامی یونٹس بنا دینے سے مسائل حل نہیں ہو جائیں گے، اس کے ساتھ بڑے پیمانے پر گورننس اصلاحات بھی کرنا ہوں گی، مگر یہ اصلاحات موجودہ انتظامی ماڈل کے ہوتے ہوئے بے سود ہیں، مقامی حکومتوں کا نظام بھی تبھی عوام کو کچھ دے سکے گا جب غیر حقیقی انتظامی یونٹس کو حکمرانی کے قابل بنایا جائے گا۔
آنے والے چند ہفتوں میں نئے انتظامی یونٹس کی بحث مزید زور پکڑتی دکھائی دے رہی ہے جس کے نتیجے میں سیاسی درجہ حرارت بھی اوپر جائے گا، سیاسی جماعتوں خصوصاً ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کو کچھ بڑے فیصلے لینے ہوں گے۔