تازہ اسپیشل فیچر

محمدﷺ ہمارے بڑی شان والے

لاہور: (مفتی ڈاکٹر محمد کریم خان) انسانی زندگی کی کامیابی و کامرانی کا راز بلند اخلاق اور اعلیٰ کردار میں پوشیدہ ہے، نبی کریمﷺ وہ ہستی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ’’یقیناً آپ بلند پایہ اخلاق پر فائز ہیں‘‘ (القلم: 4) کے اعزاز سے نوازا، آپﷺ کے اخلاق کریمانہ وہ آئینہ ہیں جس میں ہر دور کا انسان اپنی اصلاح کی راہیں تلاش کرتا ہے۔

آپﷺ کی حیاتِ طیبہ میں ہمیں سخاوت، عاجزی، رحمدلی، عفو و درگزر، حسن سلوک اور حقوق کی ادائیگی جیسے وہ روشن پہلو ملتے ہیں جو انسانیت کیلئے ہدایت کا سرچشمہ ہیں، اس مضمون میں نبی کریمﷺ کے انہی اوصافِ حمیدہ کو اختصارسے بیان کیا جاتا ہے۔

سخاوت
سخاوت ایک ایسی عظیم خوبی ہے جو نہ صرف انسان کے اخلاق کو نکھارتی ہے بلکہ معاشرے کو الفت، محبت اور خیر خواہی کا گہوارہ بناتی ہے، قرآن و حدیث میں بارہا اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مال و متاع انسان کی اصل غرض نہیں بلکہ آزمائش ہے، اور اس کا بہترین مصرف اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا ہے، حضور اقدسﷺ کی ذات مبارکہ سخاوت کا سب سے روشن مینار ہے، آپﷺ نے زندگی بھر کسی سائل کو خالی واپس نہ کیا اور دوسروں کی بھلائی کیلئے اپنی ضرورت کی اشیاء تک صدقہ کر دیں، قرآن و حدیث میں سخاوت کو جنت کی طرف لے جانے والا عمل قرار دیا گیا ہے اور بخیلی کو جہنم کے قریب کرنے والی صفت بتایا گیا ہے۔

حضرت جابر بن عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں: رسول اکرمﷺ سے جب بھی کسی چیز کا سوال کیا گیا، ایسا کبھی نہیں ہوا کہ آپﷺ نے سائل کو ’نہیں‘ کہا ہو(صحیح بخاری: 6034)، حضرت جعفرؓاپنے داداسے روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا: سخاوت جنت کے درختوں میں سے ایک درخت ہے، جس کی ٹہنیاں زمین کی طرف جُھکی ہوئی ہیں، جو شخص ان میں سے کسی ایک ٹہنی کوپکڑ لیتا ہے ،وہ اسے جنت کی طرف لے جاتی ہے(شعب الایمان: 10375)۔

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا بیان ہے کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا: سخی کی غلطی سے درگزر کرو، کیونکہ جب بھی وہ لغزش کرتا ہے تو اللہ عزوجل اس کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے(شعب الایمان: 10369) نبی کریمﷺ کی عملی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ دوسروں کو دینا دراصل اپنے لیے دائمی سعادت جمع کرنا ہے، آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں سخاوت کو رواج دیں۔

عاجزی وانکساری
نبی کریمﷺ سیدالکونین، امام الانبیاء ،خاتم الانبیاء،ہدایت کا نور، جبرائیل امینؑ جن کے وزیر، براق جن کی سواری، معراج جن کا سفر، صاحب قاب قوسین، رب العالمین کے محبوب ہیں، لیکن معاشرتی، عائلی، سیاسی، تجارتی اور گھریلو زندگی میں آپﷺ نہایت منکسر المزاج اور متواضع تھے، صحابہ کرامؓ کے ساتھ رہتے ہوئے کبھی امتیازی حیثیت کے ساتھ نہیں بلکہ ان کے ساتھ گھل مل کر رہتے تھے، آپﷺ اور ان کے درمیان کوئی دربان یا کوئی سکیورٹی آفیسرنہ تھا، ہر شخص جب چاہتا اور جہاں چاہتا آپﷺ سے ملاقات کر لیتا۔

حضرت سہل بن حنیفؓ بیان کرتے ہیں: رسول اکرمﷺ کمزور مسلمانوں کے پاس آتے، ان سے ملاقات کرتے، ان میں سے جو بیمار ہوتا اس کی عیادت کرتے، جو فوت ہو جاتا اس کی نماز جنازہ پڑھاتے اور تدفین میں شرکت کرتے تھے (شعب الایمان: 8809)۔

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ: رسول اللہ ﷺ زمین پر بیٹھتے اور زمین پر ہی کھانا کھاتے تھے، جو کی روٹی پر ایک غلام کی دعوت کو قبول فرما لیتے تھے (شعب الایمان: 7844)، حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ فتح مکہ کے روز مکہ میں داخل ہوئے تو عاجزی وانکساری کا عالم یہ تھا کہ (آپﷺ جھکے ہوئے تھے اور سواری پر بیٹھے ہوئے) آپ کی ٹھوڑی کجاوے کو لگ رہی تھی۔ (مستدرک حاکم:4365)

رحمدلی
رحمت عالمﷺ کی ذاتِ اقدس سراپا شفقت و مہربانی تھی، آپﷺ نہایت رحمدل، نرم مزاج اور ترس کھانے والے تھے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’پس اللہ کی رحمت کے سبب آپ ان کیلئے نرم دل ہوئے، اور اگر آپ تندخو اور سخت دل ہوتے تو لوگ آپﷺ کے پاس سے منتشر ہو جاتے، سو آپﷺ ان سے درگزر کیا کریں، ان کیلئے مغفرت کی دعا مانگا کریں اور معاملات میں ان سے مشورہ کریں (آل عمران: 159)، یہ آیت کریمہ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ نبی کریمﷺ کی نرم دلی اور رحمدلی ہی وہ وصف تھا جس نے صحابہ کرامؓ کو آپﷺ کے گرد پروانے کی مانند جمع کر رکھا تھا۔

حضرت مالک بن حویرثؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم چند نوجوان رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بیس راتیں آپﷺ کے پاس قیام کیا، جب آپﷺ نے یہ سمجھا کہ ہمیں اپنے اہل و عیال کی یاد آ رہی ہے تو فرمایا: تم اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ جاؤ، انھیں بھی دین کی تعلیم دو اور میرے احکام ان تک پہنچاؤ، نماز اسی طرح پڑھو جیسے مجھے پڑھتے دیکھا ہے، جب وقت نماز ہو تو تم میں سے ایک شخص اذان کہے اور جو بڑا ہو وہ امامت کرے۔ (صحیح مسلم: 674)

آپﷺ کی رحمدلی کا یہ عالم تھا کہ جب آپﷺ نماز پڑھا رہے ہوتے اور کسی بچے کے رونے کی آواز سنتے، تو نماز کو مختصر کر دیتے تاکہ اس کی ماں کو تکلیف نہ ہو۔ (صحیح بخاری: 707)

عفو ودرگزر اور برد باری
نبی کریمﷺ معاف فرمانے والے، درگزر کرنے والے اور نہایت بردبار تھے، اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: (اے حبیبِ مکرّم!) آپ درگزر فرمایا کریں، بھلائی کا حکم دیتے رہیں اور جاہلوں سے کنارہ کشی اختیار کر لیں، (الاعراف199:7)۔ اس آیت میں نبی کریمﷺ کو تین باتوں کی تلقین کی گئی ہے۔ (1) جو شخص معذرت طلب کرتا ہوا آپﷺ کے پاس آئے تو اس پر شفقت و مہربانی کرتے ہوئے اسے معاف کر دیجئے۔ (2) اچھے اور مفید کام کرنے کا لوگوں کو حکم دیجئے۔ (3) جاہل اور ناسمجھ لوگ آپ کو ستائیں تو ان سے الجھئے نہیں بلکہ بردباری کامظاہرہ کیجیے۔

لوگوں کے ساتھ حسن تعامل
حضرت جریرؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے جب سے اسلام قبول کیا ہے تب سے رسول اللہﷺ نے مجھے اپنے گھر میں آنے سے منع نہیں کیا اور آپﷺ نے مجھے جب بھی دیکھا مسکرا دئیے۔(صحیح بخاری:3034)

حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں: میں نے کبھی اِس طرح نہیں دیکھا کہ کسی شخص نے نبی کریمﷺ کے کان میں بات شروع کی ہو اور آپﷺ نے اس کے پیچھے ہٹنے سے پہلے اپنا سر پیچھے ہٹا لیا ہو، نہ ہی میں نے کبھی یوں دیکھا کہ کسی شخص نے آپﷺ کا ہاتھ پکڑا ہو، پھر آپﷺ نے اس کا ہاتھ اس سے پہلے چھوڑ دیا ہو۔(ابو داؤد:4794)

گھرو الوں کے ساتھ حسن سلوک
نبی کریمﷺ گھر سے باہر بھی عام لوگوں سے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرتے اور اسی طرح گھر کے اندر بھی اپنے گھر والوں سے بہت اچھا سلوک کرتے، ان سے اظہارِ محبت کرتے، ان کے حقوق کا بھرپور خیال رکھتے اور حتی کہ گھر کے کام کاج میں ان کا ہاتھ بھی بٹاتے، حضرت اسودؓ بیان کرتے ہیں کہ: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ آپﷺ گھر میں کیا کرتے تھے؟ تو انھوں نے بتایا کہ آپﷺ اپنے گھر کے کام کرتے تھے، پھر جب نماز کا وقت ہوجاتا تو آپﷺ اس کیلئے کھڑے ہوجاتے۔(صحیح بخاری: 6039)

حقوق کی ادائیگی
رسول اکرمﷺ لوگوں کے حقوق ادا کرتے تھے، اگر کسی سے کوئی چیز بطور قرض لیتے تو ادائیگی کے وقت اُس سے بہتر چیز ادا کرتے اور قرض خواہ کے حق میں دعا بھی فرماتے، اور بعض اوقات کسی سے کوئی چیز خرید کر اس کی قیمت بھی ادا کر دیتے اور وہ چیز بھی اسے واپس کر دیتے۔

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریمﷺ سے اپنے قرض کا (جو ایک اونٹ تھا ) تقاضا کرنے آیا، تو اس نے آپﷺ سے سخت کلامی کی، صحابہ کرامؓ اس کی طرف بڑھے، لیکن آپﷺ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو کیونکہ حق والا ( سختی سے ) بات کر سکتا ہے، پھر آپﷺ نے فرمایا: اسے اِس کے اونٹ جیسا اونٹ دے دو، صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ ! ہمیں اس سے بہتر اونٹ ہی ملا ہے، اْس جیسا نہیں ملا، آپﷺ نے فرمایا: اسے وہی دے دو کیونکہ تم میں سے بہتر وہ ہے جو ادائیگی میں بہتر ہو۔(صحیح بخاری:2306)

حضرت جابرؓ فرماتے ہیں: جب میں مدینہ منورہ پہنچا تو رسول اللہﷺ نے حضرت بلالؓ سے فرمایا: اسے ایک اوقیہ سونا دو اور اس پر کچھ اور بھی اضافہ کرو، چنانچہ انہوں نے مجھے ایک اوقیہ سونا دیا اور ایک قیراط زیادہ دیا، میں نے کہا: میں تو رسول اللہ ﷺ کا یہ تحفہ کبھی اپنے سے جدا نہ ہونے دوں گا، یہ میرے تھیلے میں رہا اوراہلِ شام نے واقعہ حرّہ کے دن وہ لے لیا۔ (صحیح مسلم:715)