ادویہ سکینڈلز کے باوجود ہزاروں یونانی اور دیسی طبی ادارے سرگرم

ادویہ سکینڈلز کے باوجود ہزاروں یونانی اور دیسی طبی ادارے سرگرم

غیر مستند افراد کا کاروبار کسی بھی وقت بڑے انسانی سانحے کا سبب بن سکتا ہے ہربل ادویہ ساز اداروں کی اکثریت رجسٹریشن چاہتی ہے ، حکومت توجہ نہیں دے رہی

لاہور(فیصل بن نصیر) دوائیوں کی تیاری سے متعلق سخت قوانین کے باوجود پی آئی سی اور سیرپ سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد بھی ملک کے طول وعرض میں پھیلے 5 ہزار سے زائد یونانی اور دیسی ادویہ ساز ادارے اپنی ادویات کی تیاری بلا روک ٹوک جاری رکھے ہوئے ہیں۔ فارما سیوٹیکل انڈسٹری ذرائع کے مطابق 18 ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں وفاقی وزارت صحت کے خاتمے اور طویل انتظار کے بعد حکومت نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی تو قائم کر دی لیکن یونانی اور دیسی ادویہ ساز اداروں کی رجسٹریشن یا نگرانی کا کوئی طریقہ کار وضع نہیں کیا گیا جس کے باعث کسی بھی وقت اس صنعت میں موجود غیرمستندافراد کے کاروبار کرنے کے نتیجے میں کسی بڑے جانی نقصان کا خطرہ ہو سکتا ہے ۔ دوسری طرف دیسی ادویہ ساز کمپنیوں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یوں تو یونانی یا دیسی طریقہ علاج صدیوں پرانا ہے اور 1976ء کے ڈرگ ایکٹ میں ان ادویات کو تسلیم بھی کیا گیا ہے لیکن 36 سال گزر جانے کے باوجود آج تک ان دوائیوں کی افادیت کو تسلیم نہیں کیا گیاجس کی وجہ سے اس شعبے کو ریگولیٹ کرنے کے لئے ملک میں کوئی ادارہ نہیں۔ ذرائع کے مطابق سیرپ سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد بھی حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ صرف اتنا فرق پڑا ہے کہ اب مختلف محکموں کے اہلکاروں نے ان اداروں اور دواخانوں پر چھاپے مارنے شروع کر دئیے ہیں اور ان اداروں کے مالکان کو ہراساں کر کے رشوت بٹورنا شروع کر دی ہے ۔ ایک دیسی دواخانے کے مالک کا کہنا ہے کہ درجنوں یونانی اور دیسی ادویات ایسی ہیں جو پاکستان سے دنیا کے مختلف ملکوں کو سخت اور کڑی جانچ پڑتال کے بعد برآمد کی جا رہی ہیں لیکن مقامی سطح پر ان ادویات کو تسلیم کرنے کے لئے کوئی ادارہ موجود نہیں۔ پوری دنیا میں پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں پائی جانے والی جڑی بوٹیوں کی بہت مانگ ہے اور پاکستان میں بننے والی یونانی ادویات امریکہ،یورپ اور وسطی ایشیائی ریاستوں میں برآمد کی جاتی ہیں جو کثیر زر مبادلہ کا باعث ہیں۔ آل پنجاب ہربل مینوفیکچرنگ ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں کم و بیش یونانی اور دیسی ادویہ ساز ادارے اپنے آ پ کو رجسٹرڈ کروانے کے خواہشمند ہیں تاکہ ان کے کاروبار اور مصنوعات کو مستند تصور کیا جائے لیکن فی الوقت حکومت کی اس طرف کوئی توجہ نہیں۔ذرائع کے مطابق صرف لاہور اور اس کے گرد و نواح میں تین سو پچاس سے زائدیونانی طبی دواخانے کام کر رہے ہیں جنہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔جس کے باعث اس صنعت سے وابستہ لوگ دوسرے کاروبار کرنے کی طرف منتقل ہو رہے ہیں ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں