نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نیویارک:افغانستان کی صورتحال اورباہمی دلچسپی کےامورپرتبادلہ خیال
  • بریکنگ :- وزیرخارجہ نےموجودہ صورتحال میں یواین ایچ سی آرکےکردارکوسراہا
  • بریکنگ :- ہائی کمشنرنےافغانستان سےانخلاکےعمل میں معاونت پرپاکستان کاشکریہ اداکیا
  • بریکنگ :- پاکستان افغانیوں کی انسانی بنیادوں پرمعاونت جاری رکھےہوئےہے،شاہ محمود
  • بریکنگ :- افغانستان کوانسانی بحران سےنکالنےکےلیےمعاونت کی فراہمی ناگزیرہے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- محدودوسائل میں مزیدمہاجرین کی میزبانی کابوجھ نہیں اٹھاسکتے،شاہ محمودقریشی
  • بریکنگ :- فلیپوگرانڈی نے 40 لاکھ افغان پناہ گزینوں کی میزبانی پرپاکستان کےکردارکو سراہا
  • بریکنگ :- شاہ محمودقریشی کی اقوام متحدہ کےہائی کمشنربرائےمہاجرین سےملاقات
Coronavirus Updates

مودی حکومت کی پاکستان کیلئے کوئی خارجہ پالیسی نہیں، سلمان خورشید

مودی حکومت کی پاکستان کیلئے کوئی خارجہ پالیسی نہیں، سلمان خورشید

دنیا اخبار

ٹریک ٹو پالیسی دونوں ممالک میں مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے ، سابق بھارتی وزیر خارجہ 30کروڑ مسلمانوں کو مد نظر رکھنا چاہیے ، بی جے پی پُرتشدد سیاست کو ہوا دے رہی ہے ، خطاب

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) بھارت کے سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہا ہے کہ مودی حکومت کی پاکستان کے حوالے سے کوئی خارجہ پالیسی نہیں ہے ، پاکستان اور انڈیا کی نئی جمہوری حکومتوں کے ابتدائی دور میں دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی امید پیدا ہوئی تھی، لیکن مودی کے رویے کی وجہ سے سنہری موقع گنوا دیا گیا۔ بھارت میں پاکستانی پالیسی کے حوالے سے نہ تو بھارت کی سیاسی جماعتیں متفق ہیں اور نہ ہی کوئی دیرپا پالیسی مرتب کی گئی ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان ٹریک ٹو پالیسی مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ پاکستان کو بھارت کے حوالے سے پالیسی ترتیب دیتے وقت انڈیا میں 30 کروڑ مسلمانوں کو مد نظر رکھنا چاہیے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کر رہی ہے ، جس کی وجہ سے جموں و کشمیر میں حالات مزید خراب ہو رہے ہیں۔ جمعرات کو پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید نے کہا کہ بی جے پی حکومت بھارت میں پُرتشدد سیاست کو ہوا دے رہی ہے ، بھارتی سنجیدہ حلقے اور سیاسی جماعتیں مودی حکومت کے رویے سے شدید پریشانی کا شکارہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کا المیہ یہ ہے کہ وقت اور حالات کے مطابق اسٹیبلشمنٹ درست فیصلے نہیں کرتی اور ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے آپ کو مصروف رکھنے کیلئے ٹریک ٹو پالیسی کا شوشہ چھوڑ دیا جا تا ہے ، جو کہ قابل حل نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ میری نظر میں ٹریک ٹو پالیسی دونوں ممالک کے درمیان مزید مسائل پیدا کرتی ہے ، حالات کو بہتر بنانے کیلئے دونوں ممالک کو براہ راست مذاکرات کرنے ہونگے ۔ انہوں نے مودی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جاری پالیسیوں سے مزید حالات خراب ہونے کا خدشہ ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement