چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا کم عمر ڈرائیورز کیخلاف مقدمات، گرفتاریاں روکنے کا حکم

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کا کم عمر ڈرائیورز کیخلاف مقدمات، گرفتاریاں روکنے کا حکم

پہلے آگاہی مہم چلائیں اور کم عمر ڈرائیورز کو وارننگ دیں، غلطی دہرانے پر کارروائی کی جائے :جسٹس عالیہ نیلم چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری کو غیر قانونی طور پر وکلا کے چیمبرز بھی سیل کرنے سے روک دیا

لاہور(کورٹ رپورٹر ،مانیٹرنگ ڈیسک)چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم کا پنجاب بھر میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کم عمر ڈرائیورز کے خلاف مقدمات کے اندراج اور گرفتاریوں کاسخت نوٹس، آئی جی پنجاب کو کم عمر افراد کیخلاف مقدمات درج کرنے اورگرفتاریوں سے روک دیا جبکہ چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری کو غیر قانونی طور پر وکلا کے چیمبرز بھی سیل کرنے سے روک دیا۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم نے کم عمر بچوں کو ہتھکڑیاں لگانے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب کو طلب کیا، چیف جسٹس کے حکم پر آئی جی پنجاب چیمبر میں ملاقات کیلئے پیش ہوئے، چیف جسٹس نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کم عمر ڈرائیورز پر مقدمات درج کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی پنجاب کو فوری طور پر کم عمر ڈرائیورز کے خلاف مقدمات درج کرنے سے روک دیا۔

چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ پہلے آگاہی مہم چلائیں اور کم عمر ڈرائیورز کو وارننگ دیں، غلطی دہرانے پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ ٹوٹل 18ہزار مقدمات درج کئے گئے ہیں جن میں سے 296 مقدمات کم عمر ڈرائیورز پر درج کئے گئے ، کم عمر افراد کو ڈرائیونگ لائسنس بننے کا انتظار کرنا چاہیے۔ دوسری جانب چیف جسٹس نے وکلا کے چیمبرز سیل کرنے کا بھی سخت نوٹس لیا ،چیف جسٹس کے حکم پر چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب نے چیمبر میں ان سے ملاقات کی ۔چیف جسٹس نے وکلا چیمبرز کو بغیر نوٹس کے سیل کرنے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ وکلا کے ساتھ کسی قسم کا خلاف قانون اقدام برداشت نہیں کیا جائے گا ،چیف جسٹس نے وکلاچیمبرز سیل کرنے پر آئی جی پنجاب کو مکمل جائزہ رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا اور آئندہ بغیر نوٹس کسی بھی قسم کی کارروائی سے روک دیا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں