بھارت دریائے چناب پر بجلی منصوبے کا جواب دے : پاکستان ، دونوں ملکوں میں ایٹمی تنصیبات اور قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ
دلہستی ٹو ڈیم کی منظوری سے قبل تفصیلات شیئر کرناضروری،سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کریں، فہرست میں 257 بھارتی قیدی،دہشتگردی کیخلاف افغان علما کا فتویٰ مثبت، ضمانتوں کے منتظر افغان عوام کیلئے امدادی قافلہ کلیئر کیا ، طالبان نے روک دیا، کابل میں 1100پاکستانیوں نے سفارتخانے سے رابطہ کیا ، یمن تنازع کے پر امن حل،صومالیہ کی خودمختاری کے حامی:ترجمان دفتر خارجہ
اسلام آباد(وقائع نگار،نمائندہ دنیا،دنیا نیوز) پاکستان نے دریائے چناب پر بجلی منصوبے دلہستی ٹو ڈیم بنانے کی منظوری پر بھارت سے جواب مانگ لیا، دونوں ملکوں میں ایٹمی تنصیبات اور قیدیوں کی فہرستوں کا بھی تبادلہ کیا گیا۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی کے مطابق دلہستی ٹو ڈیم بنانے سے متعلق انڈس واٹر کمشنر نے تفصیلات طلب کیں، ترجمان دفتر خارجہ نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا ہندوستان پر زور دیتے ہیں کہ وہ تفصیلات فراہم کرے ، اس ڈیم منصوبے سے متعلق ابھی تک کوئی انفارمیشن شیئر نہیں کی گئی، سندھ طاس معاہدے کے تحت منصوبے کی منظوری سے پہلے تفصیلات شیئر کرنا ہوتی ہیں، ہندوستان سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کرے ۔ ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان نے 257بھارتی قیدیوں کی فہرست بھارت کے حوالے کی ہے ،جبکہ بھارتی حکومت بھی نئی دہلی میں قائم پاکستان ہائی کمیشن کوپاکستانی قیدیوں کی فہرست فراہم کررہی ہے۔ معاہدے کے تحت پاکستان اوربھارت سال میں دوبار قیدیوں کی فہرست کا تبادلہ کرتے ہیں۔
نیوکلیئرانسٹالیشن کی فہرست کا تبادلہ یکم جنوری کو کیا جاتا ہے، دفتر خارجہ کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق یہ تبادلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنصیبات اور تنصیبات کے خلاف حملوں کی ممانعت کے معاہدے کے تحت ہوا۔اس کے مطابق پاکستان میں جوہری تنصیبات کی فہرست باضابطہ طور پر ہندوستانی ہائی کمیشن کے نمائندے کے حوالے کی گئی ۔اس کے ساتھ ہی ہندوستانی وزارت خارجہ نے ہندوستان کی جوہری تنصیبات کی فہرست نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے حوالے کردی ۔معاہدے پر 31 دسمبر 1988 کو دستخط کئے گئے تھے اوریہ 27 جنوری 1991 کو لاگو ہوا تھا ،دونوں ممالک یکم جنوری 1992 سے فہرستوں کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ حکومت پاکستان نے پاکستان میں 257 ہندوستانی قیدیوں جن میں 58 سول اور199 ماہی گیروں کی فہرست اسلام آباد میں ہندوستانی ہائی کمیشن کے حوالے کی ہے ۔ترجمان نے بتایا ہے کہ افغان عوام کے لئے امدادی سامان کی راہ میں طالبان رکاوٹ ہیں، اقوام متحدہ کی درخواست پر افغانستان کے لئے انسانی امداد کے قافلے پاکستان کے راستے جانے کی اجازت دی ، اب افغان طالبان انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
پاکستان نے انسانی امداد کے قافلے کو کلیئر کیا تاہم افغان طالبان اب انسانی امداد کے قافلے کو اجازت نہیں دے رہے ، افغانستان کو انسانی امداد کی ضرورت ہونے کے باوجود طالبان امداد کی اجازت نہیں دے رہے ۔ افغان علماء کی جانب سے فتویٰ کے معاملے پر ترجمان دفتر خارجہ کاکہنا ہے کہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی سے متعلق علما کا فتویٰ اور افغان قیادت کے بیانات مثبت ہیں، ہم ابھی تک افغانستان سے ضمانتوں کے انتظار میں ہیں کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔ پاکستان نے ترکیہ اور قطر میں ہونے والے مذاکرات میں تحریری ضمانتیں مانگیں مگرانہوں نے ضمانت نہیں دی، افغان علماء کے بیانات مثبت ہیں تاہم ابھی انتظار کررہے ہیں اور جائزہ لے رہے ہیں۔انہوں نے کہا افغانستان کے ساتھ بارڈر بند ہونے کے بعد ہمارا سفارت خانہ پاکستانی شہریوں کے ساتھ رابطے میں ہے ، 1100 سے زائد پاکستانیوں نے کابل میں سفارت خانے سے رابطہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان یمن کے تنازع کے پرامن حل کی حمایت کرتا ہے، پاکستان یمن میں صورتحال معمول پر لانے کیلئے علاقائی کوششوں کا خیرمقدم کرتا ہے، وزیراعظم اورسعودی ولی عہد کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا، دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات اورتعاون کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کاسعودی عرب کے وزیر خارجہ سے ٹیلی فون پر رابطہ ہوا، متحدہ عرب امارات کے صدر نے حال ہی میں پاکستان کا سرکاری دورہ کیا، وزیراعظم اورصدریواے ای کی ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اورتعاون پر بات چیت ہوئی۔وزارت خارجہ کے ترجمان نے آگاہ کیا کہ سپیکر قومی اسمبلی ایازصادق نے بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم کی نمازجنازہ میں پاکستان کی نمائندگی کی، سپیکر قومی اسمبلی نے مرحومہ خالدہ ضیا کے بیٹے اوربیٹی سے تعزیت کی۔ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ پاکستان اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈکو الگ ملک تسلیم کرنے کے اقدام کو مسترد کرتا ہے ، پاکستان صومالیہ کی خودمختاری اورعلاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے ۔انہوں نے کہا اسحاق ڈار چین کا دورہ کریں گے ، وہ پاک چین وزارت خارجہ کے سٹر ٹیجک ڈائیلاگ میں شریک ہوں گے ۔ترجمان نے آگاہ کیا کہ اسحاق ڈار کو تبوک کے گورنر نے ٹیلیفون کال کی، ازبکستان کے وزیر خارجہ نے اسحاق ڈار کو فون کال کی، ازبکستان کے صدر کے اگلے مہینے دورے پر گفتگو ہوئی، صومالیہ کے وزیر خارجہ نے اسحاق ڈار کو ٹیلی فون کال کی اور شکریہ ادا کیا۔