کوہاٹ میں تیل و گیس کے بڑے ذخائر دریافت
یومیہ 4100 بیرل تیل،10.5 ملین مکعب فٹ گیس حاصل ہوگی،وزیراعظم کو بریفنگ بیرونی و ملکی سرمایہ کاروں کو مزید سہولیات دینے کیلئے سفارشات تیار کریں:شہبازشریف
اسلام آباد(نامہ نگار)خیبرپختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں تیل و گیس کے بڑے ذخائر دریافت کرلئے گئے ، وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں پٹرولیم و گیس سیکٹر کے روڈمیپ کے حوالے سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی(او جی ڈی سی ایل )نے ضلع کوہاٹ میں ناشپا بلاک میں تیل و گیس کے بڑے ذخائر دریافت کر لئے ہیں۔ وزیراعظم کی ناشپا بلاک میں تیل اور گیس کے بڑے ذخائر کی دریافت پر قوم کو مبارکباد دی اور اس حوالے سے متعلقہ اداروں کے کام کی تعریف کی۔ وزیراعظم نے کہا ملک میں تیل و گیس کے نئے ذخائر کی دریافت ہماری ترجیحات میں شامل ہونی چاہئے تاکہ پٹرولیم مصنوعات کی درآمد کی مد میں خرچ ہونے والا زر مبادلہ بچایا جا سکے۔
انہوں نے تیل و گیس سپلائی چین کو درآمد ہونے سے لے کر صارفین کے استعمال تک ترجیحی بنیادوں پر ڈیجیٹائز کرنے کی ہدایت کی،اجلاس کو بتایا گیا کہ دریافت ہونے والے نئے ذخائر سے یومیہ 4100 بیرل تیل نکالا جا سکے گا جبکہ یومیہ 10.5 ملین مکعب فٹ گیس کے ذخائر حاصل ہونگے۔ یہ ذخائر پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ ، آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی اور گورنمنٹ ہولڈنگ پرائیوٹ کمپنی لمیٹڈ نے مشترکہ طور پردریافت کئے ہیں۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ اس سال سردی کے موسم میں گھریلو صارفین کو پچھلے سال کی نسبت بہتر پریشر کے ساتھ گیس مہیا کی جا رہی ہے ۔آر ایل این جی کے کنکشنز پر تیزی سے کام جاری ہے اور جون 2026 تک 3لاکھ 50 ہزار کنکشنز کا ٹارگٹ مکمل کرلیا جائے گا۔
دریں اثنا وزیراعظم کی زیر صدارت نئے سال کے پہلے دن معاشی اصلاحات، سرمایہ کاری میں اضافہ اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی طرف سے پیش کردہ اقتصادی اصلاحات پر مبنی معاشی گورننس کی پالیسی پر تمام وزارتوں کی طرف سے مؤثر عمل درآمد ناگزیر ہے ، انہوں نے تمام متعلقہ وزارتوں سے عملی اقدامات اور کم سے کم دورانیہ پر مشتمل جامع حکمت عملی کیلئے تجاویز طلب کر لیں۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تمام وزارتیں اپنے شعبوں سے متعلقہ بیرونی اور اندرونی سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے سفارشات جلد از جلد مرتب کریں،انہوں نے کہا سرمایہ کاروں کی آسانی کیلئے ادارہ جاتی اور انتظامی سہولیات حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ وزیراعظم نے بیرونی اور ملکی سرمایہ کاروں کو مزید سہولیات دینے کے لئے سفارشات طلب کرلیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے برآمدات کے شعبے کی ترویج کی تجاویز اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کو خصوصی اہمیت دی جائے ۔ موثر معاشی اصلاحات اور مجموعی معاشی ترقی کیلئے تمام وزارتوں کی باہمی ہم آہنگی اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا باہمی تعاون کلیدی کردار رکھتا ہے ۔