پاکستانیوں کی ماہانہ آمدن 82، اخراجات 79 ہزار : شرح خواندگی 63 فیصد
5برسوں میں شرح خواندگی صرف3فیصد بڑھی،پنجاب میں 68،بلوچستان49فیصد 96فیصد پاکستانیوں کے پاس موبائل فونز ، انٹرنیٹ رسائی 70فیصد ہو گئی،82فیصد لوگوں کااپنا گھر نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات کم ہو کر 35فی ہزار ، شیر خوار بچوں کی 47 فی ہزار رہ گئی،رپورٹ
اسلام آباد(مدثرعلی رانا) پاکستان میں اوسطاًماہانہ آمدن 82ہزار اور اخراجات 79ہزار روپے ہیں، بڑھتی ہوئی آبادی کے باعث ذاتی ملکیتی گھروں کی شرح میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ 2018-19 کے سروے کے مطابق 84 فیصد لوگوں کے پاس اپنے گھر تھے جبکہ 2024-25 کے سروے کے مطابق 82 فیصد لوگوں کے پاس اپنے گھر ہیں۔ کرائے کے گھروں میں رہنے والوں کی تعداد 10 فیصد سے بڑھ کر 10.5 فیصد ریکارڈ کی گئی ، ملک میں شرح خواندگی بڑھ کر 63 فیصد تک پہنچ گئی، ہاؤس ہولڈ اکنامک سروے 2024-25 کے مطابق گزشتہ پانچ بر سوں میں شرح خواندگی میں محض 3 فیصد کا اضافہ ہو سکا، پنجاب میں شرح خواندگی 68 فیصد اور بلوچستان میں سب سے کم 49 فیصد رہی، سکول سے باہر بچوں کی شرح میں کمی کیساتھ شرح 30 فیصد سے کم ہو کر 28 فیصد رہ گئی۔
انٹرنیٹ تک رسائی میں اضافہ ہو کر شرح 34 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد تک پہنچ گئی ۔انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد کا تناسب 17 فیصد سے بڑھ کر 57 فیصد ہو گیا ۔ مکمل حفاظتی ٹیکہ جات کی کوریج 68 فیصد سے بڑھ کر 73 فیصد ہو گئی، گھروں میں موبائل یا سمارٹ فون کی سہولت 96 فیصد تک پہنچ گئی، نوزائیدہ بچوں میں اموات کی شرح کم ہو کر فی ہزار زندہ پیدائش پر 41 سے کم ہو کر 35 ہو گئی۔ شیر خوار بچوں کی اموات کی شرح 60 سے کم ہو کر 47 فی ہزار زندہ پیدائشیں ہو گئی۔ ملک میں فی کس 6.5 کلو گرام گندم، 0.86 کلو کرام چاول ماہانہ استعمال کیے جاتے ہیں۔ فی کس 6.15 لٹر دودھ، 2.8 انڈے ، 1.17 کلو گرام آلو، 1.07 کلو گرام چینی استعمال ہوتی ہے ۔ شہری علاقوں میں فی کس چینی استعمال کرنے کی شرح دیہی علاقوں کی نسبت زیادہ ہے ، ہاؤس ہولڈ اکنامک سروے میں 32 ہزار 785 گھروں کو شامل کیا گیا ۔
پانچ سے سولہ سال عمر تک سکولوں سے باہر بچوں کی شرح 30 فیصد سے کم ہو کر 28 فیصد تک محدود ہو گئی، پرائمری سکولز میں جانے والے بچوں کی شرح 66 فیصد سے بڑھ کر 68 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح گیارہ سے تیرہ سال عمر کے مڈل کلاسز تک پہنچنے والے بچوں کی شرح 38 فیصد سے بڑھ کر 40 فیصد ریکارڈ ہوئی ۔ 15 سال کے میٹرک تک سکولز جانے والے بچوں کی شرح 27 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ چکی۔96 فیصد پاکستانی موبائل فونز استعمال کر رہے ہیں جبکہ 70 فیصد کو انٹرنیٹ سروسز کی سہولیات بھی حاصل ہیں۔ شہری علاقوں میں 81 فیصد لوگوں کو انٹرنیٹ کی سہولت جبکہ دیہی علاقوں میں 62 فیصد آبادی کو انٹرنیٹ کی سہولت میسر ہے ، اسی طرح شہری علاقوں میں 98 فیصد اور دیہی علاقوں میں 95 فیصد افراد اب موبائل فونز استعمال کر رہے ہیں۔ 69 فیصد مرد اور 31 فیصد خواتین کو موبائل کی سہولت حاصل ہے ۔
شہری علاقوں میں 43 فیصد خواتین جبکہ دیہی علاقوں میں 24 فیصد خواتین موبائل فونز استعمال کرتی ہیں ۔شہری علاقوں میں 73 فیصد مردوں اور دیہی علاقوں میں 66 فیصد مردوں کے پاس موبائل کی سہولت حاضر ہے ۔ سروے کے مطابق پاکستان میں 43 فیصد مرد اور 43 فیصد خواتین کو انفرادی حیثیت میں انٹرنیٹ کی سہولت میسر نہیں ۔ شہری علاقوں میں خواتین مردوں سے زیادہ انٹرنیٹ استعمال کرتی ہیں۔ شہری علاقوں میں 71 فیصد خواتین جبکہ 67 فیصد مرد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں 51 فیصد مرد اور 48 فیصد خواتین انٹرنیٹ استعمال کرتی ہیں۔ انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی میں 40 فیصد لوگ کاپی پیسٹ کرتے ہیں جبکہ کاپی پیسٹ کرنے مردوں کی شرح 48 فیصد اور خواتین کی شرح 32 فیصد ہے ۔ ملک بھر میں کلین فیول کے استعمال میں اضافہ ریکارڈ ہوا ہے ۔ سروے کے مطابق کلین فیول کا استعمال 35 فیصد سے بڑھ کر 38 فیصد ہو گیا ۔
کلین فیول میں نیچرل گیس، ایل پی جی، بائیو گیس، سولر انرجی اور بجلی کا استعمال ہیٹنگ میں، لائٹننگ اور کوکنگ میں ہونا شامل کیا گیا ہے ۔ہینڈ پمپ سے پانی استعمال کرنے والوں کی شرح 24 فیصد سے کم ہو کر 22 فیصد ہو گئی ۔ اسی طرح فلٹر کا پانی استعمال کرنے والوں کی شرح 9 فیصد سے بڑھ کر 10 فیصد تک پہنچی ، 7 فیصد آبادی ابھی تک لیٹرین جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہے ۔ سروے کے مطابق اوسط ماہانہ آمدن 82 ہزار اور اخراجات 79 ہزار روپے ہیں۔ اخراجات میں سب سے زیادہ فرنشنگ، گھریلو آلات، ہیلتھ، فوڈز، گڈز اینڈ سروسز پر ریکارڈ ہوئے ہیں۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے آمدن میں ٹک ٹاک سب سے زیادہ استعمال کی جارہی ہے ۔
سروے کے مطابق ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو استعمال کرنے والے 88 فیصد لوگ ٹک ٹاک استعمال کر رہے ہیں ۔یوٹیوب چینل پر وی لاگ کرنے والے 86 فیصد لوگ ریکارڈ ہوئے ہیں۔ آن لائن ٹیکسی سروسز فراہم کرنے والے محض 7.3 فیصد ریکارڈ ہوئے ہیں، وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پہلی مرتبہ ہونے والی ڈیجیٹل مردم شماری ایک اہم قومی کامیابی ہے جس کے بعد ڈیجیٹل زراعت شماری اور اکنامک سروے آف پاکستان بھی کامیابی سے مکمل کیے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ سروے اب محققین کو زیادہ بامعنی تجزیہ کرنے کے مواقع فراہم کرے گا جبکہ کاروباری برادری کو بہتر فیصلوں اور پیداوار میں بہتری کے لیے قیمتی معلومات مہیا کرے گا۔2022 میں ناقص منصوبہ بندی کے باعث معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔
احسن اقبال نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی جی ڈی پی کی شرحِ نمو 4 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ پاکستان کو فوری طور پر تعلیم میں شمولیت کی شرح کو 90 فیصد تک بڑھانے کا ہدف حاصل کرنا ہوگا ۔ خواندگی کے بحران سے ہنگامی بنیادوں پر نمٹنا ناگزیر ہے ۔پاکستان میں اب بھی 2 کروڑ 50 لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں۔ معرکہ حق کے بعد معرکہ ترقی کے لیے کام کرنا ہوگا۔ ملک میں تعلیمی ایمرجنسی کے ذریعے جہالت ختم کرنے کی ضرورت ہے ۔