ایران:مظاہرے،عمارتیں،گاڑیاں نذر آتش،انٹرنیٹ بند،پروازیں منسوخ،تخریب کاروں کو پھانسیاں دینگے:حکام
جمعہ کی نماز کے بعد احتجاجی جلوس پر فائرنگ ،مظاہروں میں 48مظاہرین اور 14سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوچکے ،دبئی سے 17،ترکیہ سے 5پروازیں منسوخ ہوئیں مظاہرین جلاوطن اپوزیشن گروہوں اور امریکا کے مفاد میں کام کررہے ہیں:خامنہ ای ،ٹرمپ کا مرحوم شاہ ایران کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی کیساتھ ملنے سے انکار
تہر ان (نیوز ایجنسیاں ، مانیٹرنگ سیل )ایران میں حکومت کیخلاف مظاہروں میں شدت آگئی ، عمارتیں ، گاڑیاں نذرآتش ،انٹرنیٹ بند ، پروازیں منسوخ ، دوسری جانب ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ تخریب کاروں کو پھانسیاں دینگے ۔ جمعے کے روز حکام کی جانب سے بڑھتی ہوئی بدامنی پر قابو پانے کے لیے انٹرنیٹ بند کیے جانے کے بعد ملک بڑی حد تک بیرونی دنیا سے کٹ گیا، جبکہ ویڈیوز میں ملک بھر کے مختلف شہروں میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران عمارتوں کو آگ لگتے ہوئے دیکھا گیا۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے تقریباً دو ہفتوں میں مظاہرین کی درجنوں ہلاکتوں کی دستاویزات مرتب کی ہیں، اور ایرانی سرکاری ٹی وی پر جھڑپوں اور آگ لگنے کے مناظر نشر ہونے کے ساتھ، نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے اطلاع دی کہ رات بھر کے واقعات میں کئی پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ۔ٹیلی ویژن خطاب میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے پیچھے نہ ہٹنے کا عزم ظاہر کیا اور مظاہرین پر الزام عائد کیا کہ وہ جلاوطن اپوزیشن گروہوں اور امریکا کے مفاد میں کام کر رہے ہیں، جبکہ ایک سرکاری پراسیکیوٹر نے سزائے موت سنانے کی دھمکی دی۔
ابتدائی طور پر یہ احتجاج معاشی مسائل کے گرد مرکوز تھے ، جب گزشتہ سال ایرانی کرنسی ریال کی قدر ڈالر کے مقابلے میں نصف رہ گئی اور دسمبر میں افراطِ زر 40 فیصد سے تجاوز کر گیا، تاہم اب یہ مظاہرے حکام کو براہِ راست نشانہ بنانے والے نعروں تک پھیل چکے ہیں۔ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم ایچ آر اے این اے (HRANA)نے جمعے کے روز کہا کہ 28 دسمبر سے شروع ہونے والے مظاہروں کے بعد اب تک کم از کم 62 افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے ، جن میں 14 سکیورٹی اہلکار اور 48 مظاہرین شامل ہیں۔ دبئی ایئرپورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق دبئی اور ایران کے درمیان کم از کم 17 پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔ترکش ایئرلائنز نے بھی جمعے کو تہران کے لیے اپنی پانچ پروازیں منسوخ کر دی ہیں ۔سرکاری ٹیلی ویژن پر رات گئے نشر کی گئی تصاویر میں وہ مناظر دکھائے گئے جن کے بارے میں کہا گیا کہ بسیں، کاریں اور موٹر سائیکلیں جل رہی ہیں، جبکہ زیرِ زمین ریلوے اسٹیشنوں اور بینکوں میں بھی آگ لگی ہوئی ہے ۔رائٹرز کی جانب سے تصدیق شدہ ویڈیوز، جو دارالحکومت تہران میں بنائی گئی تھیں، میں سینکڑوں افراد کو مارچ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ ایرانی انسانی حقوق کی تنظیم ہینگاو نے رپورٹ کیا کہ زاہدان میں جہاں بلوچ اقلیت کی اکثریت ہے ، جمعے کی نماز کے بعد نکالے گئے احتجاجی جلوس پر فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہو گئے ۔
ایران کے سپریم لیڈرخامنہ ای جو منتخب صدر اور پارلیمان سے بالاتر حتمی اختیار رکھتے ہیں نے جمعے کے روز کہیں زیادہ سخت زبان استعمال کی۔انہوں نے کہا، اسلامی جمہوریہ سینکڑوں ہزاروں لوگوں کے خون کے ذریعے اقتدار میں آئی۔ یہ تخریب کاروں کے سامنے ہرگز پیچھے نہیں ہٹے گی،اور بدامنی میں ملوث افراد پر الزام لگایا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خوش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔تہران کے سرکاری پراسیکیوٹر نے کہا کہ جو افراد تخریب کاری کریں گے ، سرکاری املاک کو آگ لگائیں گے یا سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں ملوث ہوں گے ، انہیں پھانسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔مرحوم شاہ ایران کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی نے سوشل میڈیا پر ایرانی عوام سے خطاب میں کہا:دنیا کی نظریں آپ پر ہیں۔ سڑکوں پر نکل آئیں۔تاہم جلاوطن اپوزیشن گروپ مجاہدینِ خلق کے ایک ترجمان نے کہا کہ تنظیم سے وابستہ یونٹس نے ان مظاہروں میں حصہ لیا ہے ۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز کہا کہ وہ رضا پہلوی سے ملاقات نہیں کریں گے اور وہ اس بات کے بارے میں پُریقین نہیں کہ ان کی حمایت کرنا مناسب ہوگا یا نہیں۔ قبل ازیں ٹرمپ نے جمعرات کی رات کہا کہ اس نظام کو گرانے کے لیے جوش و خروش ناقابلِ یقین ہے اور خبردار کیا کہ اگر ایرانی حکام نے مظاہرین کو قتل کرنے کا راستہ اختیار کیا تو ہم انہیں بہت سخت جواب دیں گے ۔ ہم اس کے لیے تیار ہیں۔فوکس نیوز کو دئیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے یہاں تک اشارہ دیا کہ 86 سالہ آیت اللہ علی خامنہ ای شاید ایران چھوڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا، وہ کسی جگہ جانے کا سوچ رہے ہیں۔بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے جمعے کو کہا کہ ایران میں غیر ملکی فوجی مداخلت کے امکانات انتہائی کم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عمان کے وزیرِ خارجہ جو ایران اور مغرب کے درمیان مذاکرات میں اکثر ثالثی کا کردار ادا کرتے رہے ہیں ہفتے کے روز دورہ کریں گے ۔اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے کہا کہ وہ تشدد کی اطلاعات اور مواصلاتی نظام کی بندش پر شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔