تحریک تحفظ آئین کے لوگ تانگے کی سواریاں ہیں :عطا تارڑ

تحریک تحفظ آئین کے لوگ تانگے کی سواریاں ہیں :عطا تارڑ

پی ٹی آئی کا احتجاج پہلے بھی سنبھالا ، آئندہ بھی نمٹیں گے :محسن نقوی وزراء کا جامعہ اشرفیہ جا کرمہتمم مولانا فضل الرحیم کے انتقال پرعلماء سے اظہار تعزیت

لاہور(دی رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک ، این این آئی)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کے لوگوں کو تانگے کی سواریاں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تحریک چند افراد تک محدود ہے اور اسے عوامی حمایت حاصل نہیں، اس سے زیادہ کچھ  نہیں کہوں گا،دنیا کے مالیاتی ادارے پاکستان کی تعریف کر رہے ہیں ، پاکستان کی معیشت محفوظ ہاتھوں میں ہے جبکہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ قانون نافذ کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور ضرورت پڑی تو اس پر مکمل عملدرآمد کروایا جائے گا ،مذاکرات جن کا کام ہے وہی کریں گے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزجامعہ اشرفیہ لاہور کے دورہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

قبل ازیں وفاقی وزراء نے جامعہ کے مہتمم مولانا فضل الرحیم کے انتقال پر انکے صاحبزادوں سے اظہارِ تعزیت اور فاتحہ خوانی کی۔میڈیا سے گفتگو میں عطااللہ تارڑ نے مزید کہا کہ دسمبر کے مہینے میں اوورسیز پاکستانیوں نے 3.6 ارب ڈالر ترسیلات زر پاکستان بھیجیں، یہ پچھلے سال کے مقابلے 17 فیصد اور پچھلے ماہ کے مقابلے میں 11 فیصد زیادہ ہے ۔ محسن نقوی نے کہا کہ قانون نافذ کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے ،احتجاج کرنے والوں سے نمٹنے کا تجربہ موجود ہے اور اگر ایسی کوئی صورتحال پیدا ہوئی تو مناسب کارروائی کی جائے گی، علمائے کرام محفوظ ہیں، ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کے لیے قرآن پاک میں واضح ہدایت موجود ہے اور ایسے اقدامات کرنے والوں کے خلاف ضروری کارروائی کی جائے گی۔

محسن نقوی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے احتجاج اور امن و امان کے مسائل کو پہلے بھی موثر طریقے سے سنبھالا گیا اور آئندہ بھی اِسی اصول کے تحت نمٹا جائے گا۔وزیر داخلہ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے سوال کیاکہ انہوں نے اپنے افسروں کی حفاظت کے لئے کیا اقدامات کئے ؟۔ دریں اثناء جامعہ اشرفیہ میں عطا اﷲتارڑ ،محسن نقوی نے اکابرین اور علماء کرام سے ملاقات کے موقع پر مولانا فضل الرحیم کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا۔اس موقع پر مولانا فضل الرحیم کے صاحبزادے مولانا زبیر حسن، پرنسپل جامعہ اشرفیہ مولانا قاری ارشد عبید ، وائس پرنسپل حافظ اسد عبید ، مولانا اویس حسن، مولانا مجیب الرحمن انقلابی اور مولانا اجود عبید بھی موجود تھے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں