ملک میں برائے نام جمہوریت، ڈھونگ انتخابات کوئی حکومت منتخب نہیں : فضل الرحمٰن

ملک میں برائے نام جمہوریت، ڈھونگ انتخابات کوئی حکومت منتخب نہیں : فضل الرحمٰن

میڈیا کو کردار کشی کیلئے استعمال کیا جا رہا ، اسلامی نظریاتی کونسل کی کسی سفارش پر سنجیدہ بحث نہیں ہو سکی جبری اکثریت کی ستائیسویں ترمیم نے واضح کر دیا اب جنگ نظریات نہیں اتھارٹی کی ہے :کنونشن سے خطاب

لاہور(سیاسی نمائندہ، دی رپورٹر)جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) پنجاب کے زیر اہتمام ڈیجیٹل میڈیا کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ موجودہ میڈیا کا عمومی تقاضا سراسر شریعت کے منافی ہے ، میڈیا منفی چیزوں کے پیچھے جاتا ہے جبکہ مثبت پہلو یا تو نمایاں نہیں ہوتے یا پھر چھپا دئیے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میڈیا کو کردار کشی کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے اور ہمارے ادارے بھی اسی روش پر لوگوں کے عیوب تلاش کرکے ان کی فائلیں تیار کرتے ہیں، سوشل میڈیا ایک نئی دنیا ہے اور اس نئی دنیا کے اپنے تقاضے ہیں، جنہیں سمجھے بغیر معاشرے میں بگاڑ پیدا ہو رہا ہے۔ انہوں نے روس کے افغانستان اور یوکرین میں داخلے اور ممکنہ طور پر چین کے تائیوان میں داخلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جو واردات دنیا میں ہو رہی ہے ، وہی کچھ ہمارے ملک میں بھی ہو رہا ہے اور یہاں بھی طاقت کا استعمال ہو رہا ہے۔

انہوں نے پاکستان کی سیاسی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں برائے نام جمہوریت اور ڈھونگ انتخابات ہیں، جن کے نتائج چند لوگ دفتروں میں بیٹھ کر تیار کرتے ہیں۔ نہ وفاق کی حکومت منتخب ہے اور نہ ہی پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کی حکومتیں حقیقی معنوں میں منتخب ہیں۔ انہوں نے کہا یہ سب ہم پر گزرا ہے ، اس لیے ہم آنکھوں دیکھا حال بیان کر رہے ہیں، سنی سنائی بات نہیں۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات موجود ہیں لیکن آج تک کسی سفارش پر سنجیدہ بحث نہیں ہو سکی۔ انہوں نے چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ستائیسویں ترمیم میں حاصل ہونے والی اکثریت جبری اکثریت ہے اور اس ترمیم نے واضح کر دیا ہے کہ اب جنگ نظریات کی نہیں بلکہ اتھارٹی کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ اپنی گرفت مضبوط کر رہی ہے ، فیصلے پنڈی میں ہوں گے اور قانون سازی اسلام آباد میں ہوگی۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ابھی تک اصل صورتحال کا احساس نہیں اور وہ پرانے نعروں میں الجھی ہوئی ہیں۔ انہوں نے ان گروہوں پر بھی تنقید کی جو اچانک وجود میں آتے ہیں، جمہوریت کو کفر قرار دیتے ہیں، حدیثیں گھڑتے ہیں اور مسلمانوں کو کافر کہہ کر علما کو قتل کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب دنیا کے موجودہ نظام ناکام ہو چکے ہیں تو امت مسلمہ کو نئی پالیسی کے ساتھ آگے آنا چاہیے ۔ انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاہدے کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ اگر ترکی بھی اس میں شامل ہوا تو یہ معاہدہ مزید مضبوط ہوگا۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ کا کوئی قانون اور عدلیہ کا کوئی فیصلہ دنیا میں بطور نظیر پیش نہیں کیا جا رہا، جس سے دونوں اداروں کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے ۔ انہوں نے حکمرانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کرسی پر بیٹھے لوگ ڈمی ہیں اور صرف گالیاں کھانے کے لیے بٹھائے گئے ہیں، جبکہ بعض افراد کو زندگی بھر کے لیے قانون سے مستثنیٰ قرار دیا جا رہا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں