آرڈیننس اجرا:حکمران اتحاد میں اندرونی اختلافات سامنے آ گئے
سپیکر کے اپوزیشن لیڈر کیلئے درخواستیں مانگنے کے اعلان سے سب حیران پی پی کی کورم کی نشاندہی،اجلاس ملتوی ہونے پر ایجنڈا دھرے کا دھرہ رہ گیا
اسلام آباد (سہیل خان) قومی اسمبلی کا 23واں ہنگامہ خیز اجلاس شروع ہوتے ہی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی جبکہ حکمران اتحاد کے اندرونی اختلافات بھی سامنے آ گئے ۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اپوزیشن لیڈر کے لیے درخواستیں طلب کرنے کا اعلان کر کے سیاسی جماعتوں کو حیران کر دیا۔ اپوزیشن لیڈر کا عہدہ گزشتہ تین ماہ سے خالی ہے جبکہ اس پیش رفت سے پاکستان تحریک انصاف کی اب تک کی حکمت عملی غیر مؤثر دکھائی دی۔پیپلز پارٹی کے قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کے بعد حکمران اتحاد میں اختلافات نمایاں ہوئے اور ایوان کی کارروائی متاثر رہی۔ پاکستان تحریک انصاف نے پارلیمانی رہنماؤں کے اجلاس سے بائیکاٹ کیا جس کے باعث اجلاس مشترکہ کے بجائے صرف حکومتی ارکان تک محدود ہو گیا۔
سپیکر نے ایوان کو آگاہ کیا کہ اپوزیشن لیڈر کا عہدہ خالی قرار دیا جا چکا ہے اور قواعد کے مطابق اس منصب کے لیے درخواستیں طلب کر لی گئی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام درخواستوں پر متعلقہ ارکان کے دستخطوں کی تصدیق کے بعد تقرری کا عمل مکمل کیا جائے گا۔پی ٹی آئی کے عامر ڈوگر اور دیگر ارکان نے اس اعلان پر حیرت کا اظہار کیا۔ پی ٹی آئی کے عامر ڈوگر نے کہا کہ عمران خان کی جانب سے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد کیا گیا ہے ، وہ دوبارہ درخواست جمع کرا دیں گے اور ارکان کی تصدیق کے لیے اجتماعی طور پر پیش ہونے کے لیے بھی تیار ہیں۔پیپلز پارٹی کی جانب سے کورم کی نشاندہی پر سپیکر کو اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔ اجلاس میں حکومت کی جانب سے 10 بلز پیش کیے جانا تھے تاہم اجلاس ملتوی ہونے کے باعث ایجنڈا دھرے کا دھرہ رہ گیا۔ ان بلوں میں ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ ترمیمی بل 2026، نیشنل ٹیرف کمیشن، درآمدات و برآمدات بینک آف پاکستان ترمیمی بل، پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن تنظیم نو، لائف انشورنس نیشنلائزیشن، وفاقی تعلیمی بورڈ اور ٹریول ایجنسیز ترمیمی بلز شامل تھے ۔