"RS" (space) message & send to 7575

ایرانی رجیم چینج میں پاکستان کیلئے خطرات

پاکستان ایسے خطے میں واقع ہے جسے عالمی سیاست کا تزویراتی مرکز کہا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے چار پڑوسیوں میں سے بھارت‘ افغانستان اور ایران کے ساتھ تجارت کیلئے زمینی راستے نہایت موزوں ہیں جبکہ چین کے ساتھ ہمالیہ کے دشوار گزار راستے تجارت میں ایک قدرتی رکاوٹ ہیں‘ تاہم بدقسمتی سے یہ جغرافیائی قربت اقتصادی خوشحالی میں تبدیل نہیں ہو سکی۔ بھارت کے ساتھ دیرینہ حل طلب مسئلہ کشمیر اور افغانستان میں دہائیوں پر محیط عدم استحکام نے پاکستان کی مشرقی اور مغربی سرحدوں کو تجارتی سرگرمیوں کے بجائے سکیورٹی چیلنجز کا گڑھ بنا دیا ہے۔ ایسی صورتحال میں ایران ایسا ملک ہے جس کے ساتھ تجارت کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ اگرچہ ماضی میں ایران کے ساتھ باقاعدہ تجارت کا حجم کم رہا ہے لیکن حالیہ کچھ برسوں میں دونوں ممالک کی قیادت نے باہمی تجارت کو سالانہ 10ارب ڈالر تک لے جانے کا جو عزم ظاہر کیا وہ خطے کی معاشی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایران کے ساتھ اقتصادی تعلقات کی اہمیت محض تجارتی توازن تک محدود نہیں بلکہ یہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔ اگر ایران پر عالمی پابندیوں کا سایہ نہ ہو تو پاکستان وہاں سے سستا تیل اور گیس حاصل کرکے اپنے اس بھاری بھر کم امپورٹ بل کو کافی حد تک کنٹرول کر سکتا ہے جو ملکی معیشت کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔
تجارت کیلئے سازگار ماحول اور امن بنیادی شرط ہے‘ ایران میں پُرتشدد مظاہروں کے دوران تجارت تو رہی ایک طرف الٹا یہ خطرات لاحق ہو گئے ہیں کہ اگر ایران میں بے امنی طوالت اختیار کرتی ہے تو اس کے منفی اثرات سے پاکستان بھی محفوظ نہیں رہ سکے گا کیونکہ جب کسی ایک ملک میں عدم استحکام یا انارکی پیدا ہوتی ہے تو اس کی تپش لازمی طور پر پڑوسی ملک تک پہنچتی ہے۔ پاکستان اس تپش سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے کیونکہ پچھلی چار دہائیوں سے افغانستان میں جاری اندرونی خلفشار نے پاکستان کو معاشی‘ سماجی اور سکیورٹی کے محاذ پر ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہم آج بھی ان افغان جنگوں کی قیمت چکا رہے ہیں جنہوں نے ہماری سرحدوں کو غیرمحفوظ بنایا اور معاشرے کو انتہا پسندی کی طرف دھکیلا۔
ایران کی موجودہ صورتحال اس لحاظ سے بھی تشویشناک ہے کہ اگر وہاں استحکام قائم نہیں ہوتا تو یہ پاکستان کیلئے افغانستان سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ اسرائیل کا خطے میں بڑھتا ہوا اثر و رسوخ اور ایران کے ساتھ اس کی شدید مخاصمت ہے۔ اگر ایران کے اندرونی حالات کا فائدہ اٹھا کر اسرائیل دوبارہ حملہ کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں وہاں ''رجیم چینج‘‘ ہوتی ہے تو یہ تصور کرنا مشکل نہیں کہ ایران کا نیا ڈھانچہ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے زیرِ اثر ہو گا۔ ایران کی قیادت پاکستان کے ساتھ برادرانہ اور مستحکم تعلقات کی حامی ہے‘ لیکن کسی بھی تبدیلی کی صورت میں پاکستان مخالف قوتوں کو ہماری مغربی سرحد پر بیٹھ کر سازشیں کرنے کا کھلا موقع مل جائے گا۔ یہ صورتحال پاکستان کو دو طرفہ محاذ پر مصروف کرکے اس کی سلامتی کو داؤ پر لگا سکتی ہے۔ عالمی سیاست کے منظرنامے پر یہ سوال بھی نہایت اہمیت اختیار کر چکا ہے کہ آخر وہ ممالک جو تیل و گیس کے ذخائر سے مالا مال ہیں‘ وہی عالمی قوتوں کے عتاب کا نشانہ کیوں بنتے ہیں؟ وینزویلا سے لے کر لیبیا اور اب ایران تک‘ وسائل پر قبضے کی تڑپ نے کئی مستحکم ریاستوں کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایران کی صورتحال اگرچہ افغانستان سے مختلف ہے کیونکہ وہاں ایک منظم ریاستی نظام اور ادارے موجود ہیں اور اسی نظام کے اندر رہتے ہوئے جمہوریت کا تسلسل بھی برقرار ہے جہاں باقاعدہ انتخابات منعقد ہوتے ہیں۔ اگرچہ طاقت کا حتمی منبع سپریم لیڈر کے پاس ہے‘ مگر ریاست کا انتظامی ڈھانچہ ایک طے شدہ سسٹم کے تحت چلتا ہے۔ ایسے مضبوط نظام کو صرف بیرونی طاقت کے بل پر ختم کرنا ناممکن ہوتا ہے‘ اسی لیے اب اندرونی خلفشار کو ہوا دے کر تبدیلی کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ ایران میں نظام کی تبدیلی کے جو حالات نظر آ رہے ہیں‘ وہ اچانک پیدا نہیں ہوئے بلکہ ان کے پیچھے برسوں کی منصوبہ بندی اور بیرونی مداخلت شامل ہے جس کے نتائج اب سامنے آنا شروع ہوئے ہیں۔
ایران میں حالیہ عوامی احتجاج بظاہر مہنگائی اور معاشی تنگی کے خلاف شروع ہوا‘ لیکن اسے جس طرح شدت دی گئی وہ کئی شکوک و شبہات پیدا کرتی ہے۔ اگر یہ خالصتاً مہنگائی کا معاملہ ہوتا تو کسی بھی ریاست کے پاس اتنے وسائل ہوتے ہیں کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر ریلیف دے کر عوام کو مطمئن کر سکے۔ ایران نے پچھلے بیس برسوں میں سخت ترین عالمی پابندیوں کے باوجود نہ صرف بقا کی جنگ لڑی بلکہ سائنسی اور دفاعی میدان میں ترقی کر کے دکھائی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصل نشانہ ایران کی معیشت نہیں بلکہ اس کی وہ خاص مذہبی شناخت اور اس کے جوہری اثاثے ہیں جنہیں بیرونی قوتیں اپنے لیے ایک تزویراتی خطرہ سمجھتی ہیں۔ ایرانی عوام کی اکثریت آج بھی اپنی اس شناخت اور نظام کے ساتھ کھڑی دکھائی دیتی ہے‘ مگر عالمی میڈیا اور مغربی طاقتیں اسے عوامی بغاوت کا رنگ دے کر اپنے مفادات حاصل کرنا چاہتی ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ملک احتجاجی مظاہروں سے مبرا نہیں ہے‘ امریکہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں بھی اکثر پُرتشدد مظاہرے ہوتے ہیں‘ لیکن وہاں کی ریاستیں اسے قانون کی حکمرانی کا مسئلہ قرار دے کر سختی سے نمٹتی ہیں اور کوئی دوسرا ملک ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی جرأت نہیں کرتا۔ اس کے برعکس جب معاملہ ترقی پذیر یا وسائل سے مالا مال ممالک کا ہو تو عالمی طاقتوں کی رائے یکسر بدل جاتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان کہ ایران کے عوام آزادی کی امید کر رہے ہیں اور امریکہ ان کی مدد کیلئے تیار ہے‘ اس مداخلت پسندانہ سوچ کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی آپریشن کا بھی عندیہ دیا ہے اور برملا کہا ہے کہ ایران کے جوہری اثاثے انہیں کسی صورت قبول نہیں ہیں۔ جواباً تہران نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ کی جانب سے ایران پر حملہ کیا گیا تو وہ اسرائیل اور امریکہ کے فوجی اڈوں کے خلاف جوابی کارروائی کرے گا۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اس بات کی غماز ہے کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی جانب فوری طور پر کوئی پیشرفت نہیں ہوتی تو حالات سنگین رخ اختیار کر سکتے ہیں اور پاکستان اس صورتحال سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ پاکستان کیلئے آنے والا وقت نہایت کٹھن ہو سکتا ہے۔ کسی بھی ملک کیلئے بیک وقت تمام سرحدوں پر مصروفِ عمل ہونا آسان نہیں ہوتا۔ بھارت ایسے ہی موقع کی تلاش میں ہے‘ سو ہمیں اپنی خارجہ پالیسی کو دور اندیشی اور قومی مفاد کی بنیاد پر استوار کرنا ہو گا۔ اگر عالمی سطح پر ایسا تاثر پیدا کیا جا رہا ہے کہ ایران کا موجودہ نظام ناکام ہو چکا ہے تو پاکستان کو اس کے پسِ پردہ حقائق اور ممکنہ اثرات پر نظر رکھنا ہو گی۔ ایران میں نظام کی تبدیلی کے بعد وہاں اسرائیل کی بالواسطہ یا بلاواسطہ موجودگی پاکستان کیلئے ایسا سکیورٹی رسک بن سکتی ہے جس سے نکلنا دہائیوں تک ممکن نہیں ہو گا۔ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پاکستان سے بیداری اور غیرمعمولی تزویراتی مہارت کا تقاضا کرتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں