مودی کی ناکام خارجہ پالیسی،معاشی بحران عالمی سطح پر بے نقاب

مودی کی ناکام خارجہ پالیسی،معاشی بحران عالمی سطح پر بے نقاب

معاشی محاذ پر ناقص پالیسیوں اور تجارتی خسارہ سے بھارت کی کمزور قیادت اور ناکامی واضح پابندیوں کے خطرے نے مودی حکومت کو امریکا کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا، دی ٹیلی گراف

اسلام آباد (خصوصی نیوز رپورٹر)بھارت میں نریندر مودی کے بدترین دورِ اقتدار کے دوران ناکام خارجہ پالیسی اور ناقص سفارتکاری ایک بار پھر عالمی سطح پر بے نقاب ہو گئی ۔ عالمی شہرت یافتہ برطانوی جریدے دی ٹیلی گراف نے اپنی تازہ رپورٹ میں مودی حکومت کی سفارتی ناکامیوں، معاشی بدحالی اور عالمی دباؤ کے سامنے پسپائی کا پردہ چاک کر دیا ۔دی ٹیلی گراف کے مطابق بھارتی ادارہ جاتی حصص کی بڑے پیمانے پر فروخت اور امریکی پابندیوں کے خطرے نے مودی حکومت کو امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت پر بھاری امریکی ٹیرف اور امیگریشن قوانین میں سختی مودی کے خطے میں تسلط کے خواب پر زوردار طمانچہ ہے۔

عالمی جریدے نے روس اور یوکرین جنگ کے دوران وہاں پھنسے سینکڑوں بھارتی شہریوں کی مدد میں مودی حکومت کی بے بسی کو بھی اجاگر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نام نہاد وشو گرو اپنی ہی عوام کو جنگ زدہ علاقوں سے نکالنے میں ناکام رہا، جو اس کی خارجہ پالیسی کی بدترین مثال ہے ۔دی ٹیلی گراف نے مزید انکشاف کیا کہ ایران نے گرفتار شدہ بھارتی بحری عملے تک مودی حکومت کو رسائی دینے سے صاف انکار کر دیا، جو بھارت کی سفارتی ساکھ پر ایک اور کاری ضرب ہے ۔ اسی طرح امریکی دباؤ کے نتیجے میں بھارت نے ایران کے ساتھ اہم چاہ بہار بندرگاہ منصوبہ خوف کے عالم میں ختم کر دیا جس سے مودی حکومت کی خودمختاری کے دعوے کھوکھلے ثابت ہو گئے ۔معاشی محاذ پر بھی مودی حکومت بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق مودی کی ناقص معاشی پالیسیوں کے باعث بھارت کا چین کے ساتھ تجارتی خسارہ گزشتہ سال 116.1 بلین ڈالر تک پہنچ گیا جو بھارت کی کمزور معیشت اور غیر متوازن تجارتی حکمت عملی کا واضح ثبوت ہے ۔عالمی جریدے نے یورپ سے متعلق مودی اور بھارتی وزیر خارجہ کے دوغلے رویے اور منافقانہ بیانات کو بھی بے نقاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ایک طرف خود کو غیر جانبدار ظاہر کرتا ہے جبکہ دوسری جانب طاقتور ممالک کے دباؤ کے سامنے فوراً جھک جاتا ہے ۔بین الاقوامی ماہرین کے مطابق مودی کا خطے میں تسلط کا بیانیہ محض دعووں تک محدود ہے اور عملی طور پر بھارت عالمی دباؤ کے سامنے بے بس نظر آتا ہے ۔ ۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی سطح پر بھارت کا امیج ایک غیر سنجیدہ اور دباؤ میں آنے والی ریاست کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں