ٹی20ورلڈ کپ:پاکستان کا بھارت سے میچ کا بائیکاٹ:قومی ٹیم ٹورنا منٹ میں شرکت کیلئے آج سری لنکا روانہ ہوگی،وزیراعظم اور چیئرمین پی سی بی کی ملاقات میں فیصلہ

ٹی20ورلڈ کپ:پاکستان کا بھارت سے میچ کا بائیکاٹ:قومی  ٹیم  ٹورنا منٹ  میں  شرکت  کیلئے  آج  سری  لنکا  روانہ  ہوگی،وزیراعظم  اور  چیئرمین  پی  سی  بی  کی  ملاقات  میں فیصلہ

بھارت کیخلاف میچ نہ کھیلنے کی کئی وجوہات ،بنگلہ دیش کیساتھ اظہار یکجہتی سرفہرست ،جے شاہ کے فیصلوں نے آئی سی سی کو انڈین کرکٹ کونسل بنادیا،احتجاج ریکارڈکرانا ضروری تھا:حکومتی ذرائع پی سی بی کے باضابطہ آگاہ کرنے کے منتظر ،قومی پالیسی کے معاملات میں حکومتی کردار کا احترام تاہم فیصلہ لاکھوں مداحوں کے مفاد میں نہیں ،امیدہے پاکستان قابل قبول حل تلاش کریگا:آئی سی سی

اسلام آباد (سپورٹس رپورٹر)پاکستان نے آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ میں شرکت کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بھارت سے میچ کھیلنے کابائیکاٹ کردیا ،وزیر اعظم شہباز شریف سے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی نے ملاقات کی اور اس میں ورلڈکپ میں شرکت کے حوالے سے اہم فیصلہ کیا گیا۔قومی ٹیم ٹی 20ورلڈکپ میں شرکت کیلئے آج سری لنکا روانہ ہوگی ۔تفصیلات کے مطابق حکومت نے پاکستان کرکٹ ٹیم کی آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ میں شرکت کی منظوری دیدی ہے ،تاہم پاکستان کرکٹ ٹیم 15فروری کوبھارت کے خلاف شیڈول میچ میں میدان میں نہیں اترے گی۔ وزیراعظم شہباز شریف سے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے گزشتہ روز اہم ملاقات کی، جس میں ٹی20ورلڈ کپ میں شرکت کے معاملے پر مشاورت کی گئی جس کے بعد حکومت پاکستان کی جانب سے پاکستان کرکٹ بورڈ کو ٹی 20 ورلڈ کپ کھیلنے کی منظوری دی  گئی اورحکومت نے فیصلہ کیا کہ 15 فروری کو بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق بھارت کے خلاف 15 فروری کو میچ نہ کھیلنے کے فیصلے کی کئی وجوہات ہیں۔حکومتی ذرائع کا کہناہے بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ سے باہر کرنے کا آئی سی سی کا جانبدارانہ فیصلہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے ، حکومت پاکستان اس معاملے پر بنگلہ دیش کے ساتھ اظہار یکجہتی دکھانا چاہتی تھی۔

چیئرمین آئی سی سی جے شاہ نے اپنے جانبدارانہ فیصلوں سے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو انڈین کرکٹ کونسل بنا دیا، جانبدارانہ فیصلوں سے انصاف اور برابری کے اصول کی دھجیاں بکھرگئیں۔ آئی سی سی کے پلیٹ فارم پرایک ملک کیلئے ایک اور دوسرے ملک کیلئے دوسرامعیار اپنایا جاتا ہے ، یہ سب جانبداری پر مبنی ہوتا ہے لہٰذا احتجاج رجسٹرڈ کروانا ضروری تھا۔روزنامہ دنیا نے سب سے پہلے خبر دینے کا اعزاز برقرار رکھتے ہوئے 27 جنوری کو یہ خبر شائع کی تھی کہ پاکستان ورلڈکپ کھیلے گا لیکن بھارت کیخلاف میچ کا بائیکاٹ کرکے آئی سی سی اور روایتی حریف کو زیادہ نقصان پہنچا سکتا ہے ۔ بھارت کیخلاف میچ نہ کھیلنے سے پاکستان کو صرف 2 پوائنٹس کا نقصان ہوگا۔ بھارت کیساتھ میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے پر آئی سی سی نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے باضابطہ فیصلے سے آگاہ کرنے کے منتظر ہیں ، تاہم یہ مؤقف ایک ایسے عالمی کھیلوں کے ایونٹ کے بنیادی تصور سے مطابقت نہیں رکھتا جہاں تمام کوالیفائی کرنے والی ٹیموں سے توقع کی جاتی ہے۔

کہ وہ ایونٹ کے طے شدہ شیڈول کے مطابق برابری کی بنیاد پر مقابلہ کریں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ آئی سی سی کے ٹورنامنٹس کی بنیاد کھیل کی دیانتداری، مسابقت، تسلسل اور انصاف پر ہوتی ہے ، اگرچہ آئی سی سی قومی پالیسی کے معاملات میں حکومتوں کے کردار کا احترام کرتی ہے تاہم یہ فیصلہ عالمی کرکٹ یا دنیا بھر کے شائقین بشمول پاکستان کے لاکھوں مداحوں کے مفاد میں نہیں ہے ۔آئی سی سی کا کہنا ہے کہ امید ہے کہ پی سی بی اس حوالے سے اپنے ملک میں ہونے والے اہم اور طویل المدتی اثرات پر سنجیدگی سے غور کرے گا کیونکہ اس فیصلے کے عالمی کرکٹ نظام پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس کا پی سی بی خود بھی رکن اور مستفید ہونے والا فریق ہے ۔آئی سی سی کے مطابق اس کی اولین ترجیح آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈکپ کا کامیاب انعقاد ہے اور یہ ذمہ داری پی سی بی سمیت اس کے تمام رکن ممالک پر عائد ہوتی ہے ۔ آئی سی سی توقع کرتی ہے کہ پی سی بی تمام متعلقہ فریقین کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے باہمی طور پر قابل قبول حل تلاش کرے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں