اسرائیلی جارحیت :امن معاہدہ علامتی دستاویز بن چکا
مسلم ممالک تشویش کا اظہار توکر سکتے ہیں عملی اقدام کیلئے تیار نہیں
(تجزیہ:سلمان غنی)
پاکستان، سعودی عرب سمیت آٹھ مسلم ممالک کی جانب سے جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کے ہاتھوں مظلوم فلسطینیوں پر جاری ظلم و ستم اور قتل و غارت پر سامنے آنے والا ردِعمل اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ اسرائیل غزہ امن معاہدے کو تسلیم کر رہا ہے نہ ہی عالمی قوانین و ضابطوں کو کوئی اہمیت دیتا ہے ۔مسلم ممالک کا یہ نکتہ نہایت اہم ہے کہ فائر بندی کے باوجود اسرائیلی افواج کے ہاتھوں ایک ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے اور کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب معصوم فلسطینی اسرائیلی جارحیت کا نشانہ نہ بنتے ہوں۔ اسرائیل جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی کررہا ہے ۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکی صدر ٹرمپ کے پیش کردہ غزہ امن معاہدے کے دوسرے مرحلے پر پیش رفت کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ اس تناظر میں سب سے بڑا سوال خود امریکہ اور صدر ٹرمپ کے سامنے کھڑا ہے جو یہ تاثر دے رہے ہیں کہ امن معاہدے کے نتیجے میں غزہ میں امن قائم ہوگا۔
اسرائیل مسلسل فائر بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو پھر یہ امن معاہدہ کس حد تک مؤثر یا قابلِ عمل ہے ؟ ۔ اسرائیل جانتا ہے اسے کسی مؤثر عالمی سزا کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ وہ خطے میں امریکہ کا سب سے مضبوط فوجی اور انٹیلی جنس اتحادی ہے ، یہی وجہ ہے اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی ادارے بھی مفلوج نظر آتے ہیں اور اسرائیل کی کارروائیوں کا سنجیدہ نوٹس لینے سے قاصر ہیں جبکہ غزہ امن معاہدہ عملی حیثیت کے بجائے محض علامتی دستاویز بن چکا ۔ اگر مسلم ممالک اسرائیلی جارحیت پر ردِعمل دینے پر مجبور ہوئے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ صورتحال ان کے ہاتھوں سے نکلتی جا رہی ہے ، تاہم تلخ حقیقت یہ ہے کہ یہ ممالک تشویش کا اظہار تو کر سکتے ہیں عملی اقدام کیلئے تیار نہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بیشتر مسلم ممالک کے سیاسی اور معاشی مفادات امریکا سے وابستہ ہیں اور وہ واشنگٹن کی ناراضی مول لینے کا حوصلہ نہیں رکھتے ورنہ ان کے پاس کئی مؤثر آپشنز موجود ہیں، جن پر عملدرآمد سے اسرائیل پر دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے ۔
اس تناظر میں پاکستان کا کردار خاص اہمیت اختیار کر جاتا ہے ، پاکستان اسرائیل کے خلاف جنگ تو نہیں کر سکتا تاہم وہ سیاسی اور سفارتی محاذ پر مؤثر آواز بن سکتا ہے ۔ آٹھ مسلم ممالک کے حالیہ ردعمل میں پاکستان کا کردار نمایاں دکھائی دیتا ہے ۔ فلسطین کے معاملے پر پاکستان عالمی سطح پر اسرائیل کے مکروہ کردار کو بے نقاب کرتا آیا ہے اور آج بھی اس مسئلے پر درست سمت میں کھڑا نظر آتا ہے ، تاہم پاکستان بھی ایک حد سے آگے نہیں جا سکتا کیونکہ اس کا معاشی انحصار آئی ایم ایف اور عالمی مالیاتی اداروں پر ہے ۔ اس لیے پاکستان کا کردار قانونی اور سفارتی محاذ تک ہی مؤثر ہو سکتا ہے ، یہ دباؤ اسی وقت نتیجہ خیز ثابت ہوگا جب مسلم ممالک اس کے پیچھے ثابت قدم ہوں اور مغربی دنیا بالخصوص خود امریکا میں بھی یہ احساس بیدار ہو کہ اسرائیل امن معاہدے کو سبوتاژ کر رہا ہے ۔اسرائیل کو روکنے کیلئے جذباتی نعروں کے بجائے سمارٹ، مربوط اور بین الاقوامی دباؤ ہی واحد مؤثر راستہ ہے ۔