بھارت سے ٹاکرا،پاکستان کو منانے کی کوشش:آئی سی سی،یو اے ای کی درخواست پر محسن نقوی وزیراعظم سے رابطہ کرینگے

بھارت سے ٹاکرا،پاکستان کو منانے کی کوشش:آئی سی سی،یو اے ای کی درخواست پر محسن نقوی وزیراعظم سے رابطہ کرینگے

ڈپٹی چیئرمین آئی سی سی عمران خواجہ کے چیئرمین بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ امین السلام اور محسن نقوی سے طویل مذاکرات ،چیئرمین پی سی بی آج یاکل شہباز شریف سے ملاقات کریں گے پاکستان کی کڑی شرائط ،بنگلہ دیش کی مالی معاونت اور آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی دینے کامطالبہ،امارات بورڈ نے کرکٹ کے بہترین مفاد میں فیصلہ کرنے کی سفارش کی :ذرائع

 لاہور(سپورٹس رپورٹر )ٹی 20ورلڈکپ میں بھارت کے ساتھ میچ کھیلنے سے انکار کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل پاکستان کو منانے کیلئے کئی جتن کررہی ہے ،گزشتہ روز آئی سی سی کا وفد ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ کی قیادت میں لاہور پہنچااور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے ملاقات کی ،بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر امین السلام بھی لاہور آئے اور محسن نقوی سے ملے ،تینوں فریقین کی حالات کے حوالے سے بات چیت ہوئی جبکہ متحدہ عرب امارات کرکٹ بورڈ نے بھی پاکستان سے بائیکاٹ پرنظرثانی کی درخواست کی ،چیئرمین پی سی بی نے آئی سی سی اور یواے ای کی درخواست پر وزیراعظم شہباز شریف سے دوبارہ رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا جو اس حوالے سے حتمی فیصلہ کرینگے ۔

ذرائع کے مطابق آئی سی سی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئی ہے اور اہم پیشرفت متوقع ہے ۔تفصیلات کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ گزشتہ روز لاہور پہنچے ، لاہور ایئرپورٹ پر چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایڈوائزر عامر میر نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔عمران خواجہ آئی سی سی میں ایک اہم عہدے پر فائز ہیں اور عالمی کرکٹ پالیسی سازی میں ان کا کردار نمایاں سمجھا جاتا ہے ، ان کی لاہور آمد کو پاکستان کرکٹ کیلئے خوش آئند پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے ۔ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی سے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ نے لاہور میں ملاقات کی۔ یہ ملاقات گزشتہ چند دنوں سے پی سی بی اور آئی سی سی کے درمیان ہونے والے پس پردہ رابطوں کے بعد ہوئی ، جو پاکستان کے 15فروری کو بھارت کے خلاف مجوزہ میچ کے بائیکاٹ کے فیصلے کے تناظر میں کئے جارہے تھے ۔

صدر بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ امین الاسلام بھی گزشتہ روز لاہور پہنچے اور قذافی سٹیڈیم میں محسن نقوی سے ملاقات کے دوران بنگلہ دیش کی حمایت کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ملاقات کے دوران خطے میں کرکٹ سے متعلق حالیہ جاری بحران اور باہمی دلچسپی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔دونوں حکام نے کرکٹ کے فروغ اور باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ قذافی سٹیڈیم میں ڈپٹی چیئرمین آئی سی سی عمران خواجہ ،چیئرمین بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ امین السلام اور محسن نقوی کے درمیان مذاکرات ہوئے ،جن کا بنیادی ایجنڈا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کو بھارت کے خلاف رائونڈ میچ کھیلنے پر آمادہ کرنا تھا۔ پاکستان نے بنگلہ دیش سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا اعلان کر رکھا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پاک بھارت میچ نہ ہوا تو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو بھاری مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔مذاکرات میں چیئرمین پی سی بی نے اپنا فوکس بنگلہ دیش کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے ازالے پر رکھا ہے ۔

محسن نقوی نے عمران خواجہ کو واضح طور پر کہاکہ بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ حکومت پاکستان کا ہے اور اس میچ کے انعقاد یا منسوخی کا حتمی اختیار بھی حکومت ہی کے پاس ہے ، تاہم انہوں نے آئی سی سی اور یواے ای کی درخواست پر وزیراعظم سے رابطہ کرنے کا فیصلہ سنادیا ۔ شہباز شریف اور محسن نقوی کی ملاقات آئندہ ایک سے دو روز میں متوقع ہے ۔ذرائع کے مطابق محسن نقوی آئی سی سی کی درخواست پر وزیراعظم سے ہدایات لیں گے کیونکہ میچ سے متعلق حتمی فیصلہ شہباز شریف کریں گے ۔ذرائع کے مطابق اماراتی کرکٹ بورڈ نے بھی پاکستان کرکٹ بورڈ سے رابطہ کیا ہے اور بھارت کے خلاف 15 فروری کا میچ نہ کھیلنے کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کرتے ہوئے کرکٹ کے بہترین مفاد میں فیصلہ کرنے کی سفارش کی ۔

فریقین میں مذاکرات رات 9بجے تک فائنل ہوناتھے ، تاہم 11بجے کے قریب ڈنر کے بعد بھی بات چیت جاری رہی،جس پرمحسن نقوی نے وزیراعظم سے رابطے کافیصلہ کیا،ان کی ملاقات آج یاکل متوقع ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ محسن نقوی نے آمادگی کیلئے کڑی شرائط رکھ دیں ،جس میں بنگلہ دیش کے ورلڈ کپ نہ کھیلنے پر ہونیوالے نقصان کا ازالہ کرنے کیلئے مالی معاونت اور آئی سی سی ایونٹس کی میزبانی کا مطالبہ شامل ہیں ۔ ٍواضح رہے کہ سری لنکا بھی پی سی بی کو ایک خط کے ذریعے بھارت کے بائیکاٹ کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواست کرچکاہے ۔سری لنکا کرکٹ بورڈ کے بیان میں کہا گیا کہ کسی بھی قسم کی عدم شرکت کے دور رس اثرات ہونگے ، جن میں سری لنکا کرکٹ کو نمایاں مالی نقصان اور متوقع سیاحتی آمدن میں کمی شامل ہے ، میچ کے ٹکٹس کی فروخت سمیت میزبانی کی تمام تیاریاں مکمل کی ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں