قتلِ عام کو روکا، حملہ نہ کرتے تو جلد ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا: امریکی صدر

واشنگٹن: (دنیا نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ہم ایران پر حملہ نہ کرتے تو جلد ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا۔

ٹیبل کانفرنس سے خطاب میں امریکی صدر نے کہا کہ حملہ نہ کرتے تو دو ہفتوں میں ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار بن چکے ہوتے، ایران پر حملے اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکیں گے، حملوں نے ایران کو جوہری معاملے پر کافی پیچھے ہٹا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 4 سال قبل ایران نے ایٹمی ڈیل ختم کر دی تھی، ایرانی قیادت کو تیزی سے ختم کیا جا رہا ہے، ایرانی قیادت کو تیزی سے ختم کیا جا رہا ہے، ایران میں جو لیڈر بننا چاہتے تھے حملوں میں مارے گئے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں 47 سال سے جاری قتل عام کو روکا، ایران کے معاملے میں ہم بہت مضبوط پوزیشن میں ہیں، جنگی محاذ پر اچھا کر رہے ہیں، صورتحال توقع سے بھی بہتر ہے، کسی نے مجھ سے پوچھا 10 میں سے کتنے نمبر دیں گے؟ میں نے کہا 15 دوں گا۔

امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے میزائلوں اور لانچرز کا صفایا کا جا رہا ہے، ایران اپنے پڑوسیوں اور اتحادیوں کو بھی نشانہ بنا رہا ہے، اوباما کی ایران سے جوہری ڈیل بہت بری تھی، جس میں ایران کو سب کچھ دے دیا گیا تھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں