بنگلہ دیش میں تاریخ ساز انتخابات : بی این پی نے میدان مارلیا، جماعت اسلامی نے شکست تسلیم کرلی
بی این پی 151 ،جماعت اسلامی 53،نیشنل سٹیزن پارٹی 3نشستوں پر کامیاب،پہلی بار بیرون ملک مقیم ڈیڑھ کروڑافراد کو ووٹنگ کی سہولت فراہم کی گئی ریفرنڈم میں 67 فیصد ووٹرز کا آئینی اصلاحات کے حق میں ووٹ،جعلی ووٹ ڈالنے کی کوشش پر 2 افراد کو قید ،ملک میں بے مثال سفر کا آغاز ہوا :محمد یونس
ڈھاکہ ( نیوز ایجنسیاں ) بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے تاریخی پارلیمانی انتخابات میں سادہ اکثریت حاصل کر لی ہے ۔مقامی ٹی وی چینل اکاٹور کے مطابق 300 رکنی پارلیمان میں بی این پی نے 151 نشستیں جیت کر نصف سے زیادہ حد عبور کر لی ہے ، جس کے بعد وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ گئی ہے ۔جماعتِ اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمٰن نے انتخابی نتائج کے بعد شکست تسلیم کرنے کا عندیہ دے دیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق انہوں نے بی این پی کی برتری کے بعد اپنی ہار قبول کرتے ہوئے جمہوری عمل کے احترام کا اظہار کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جماعت اسلامی نے اب تک 53نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے ،جبکہ نیشنل سٹیزن پارٹی اب تک 3امیدوار جیتنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
بی این پی کے رہنما انتخابی نتائج کے حوالے سے پُراعتماد نظر آ رہے ہیں ۔ بی این پی کے رہنما امیر خسرو محمود چودھری نے کہایقیناً بی این پی اکثریت سے کامیاب ہو رہی ہے ، بلکہ یہ لینڈ سلائیڈ فتح ہو سکتی ہے ۔ دو تہائی نشستیں جیتنا لینڈ سلائیڈ کہلاتا ہے ، اور میرا خیال ہے ہم 200 نشستوں کی حد عبور کر جائیں گے ۔دوسری جانب جماعتِ اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمٰن نے ایسی تقریر کی جو ابتدائی طور پر شکست تسلیم کرنے کے مترادف سمجھی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت صرف مخالفت برائے مخالفت کی سیاست نہیں کرے گی بلکہ مثبت سیاست کو فروغ دے گی۔چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ الیکشن ملکی تاریخ کا سب سے پرامن موقع تھا۔یہ ہمارے لیے بڑی خوشی اور جشن کا وقت ہے ۔ بنگلہ دیش کے ایک بے مثال سفر کا آغاز ہوا ہے ۔
یہ الیکشن ملک کی تاریخ کا سب سے پرامن تہوار تھا، اگر اس رجحان کو برقرار رکھا گیا تو ہماری جمہوریت عروج پر پہنچ جائے گی۔کھلنا میں دو دھڑوں کے درمیان جھڑپ میں بی این پی رہنما کی ہلاکت کی اطلاع ملی ہے ۔الیکشن کمیشن کے مطابق ملک کے 64 اضلاع میں قائم 42 ہزار 761 پولنگ سٹیشنز پر 300 میں سے 299 پارلیمانی حلقوں کے لیے ووٹنگ ہوئی۔ خواتین کی نمائندگی کیلئے 50 نشستیں مختص ہیں، جو تناسبی نمائندگی کی بنیاد پر تقسیم کی جاتی ہیں۔ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 12 کروڑ 77 لاکھ 11 ہزار 793 ہے ، جن میں 6 کروڑ 48 لاکھ 25 ہزار 361 مرد اور 6 کروڑ 28 لاکھ 85 ہزار 200 خواتین ووٹر شامل ہیں۔پہلی بار بیرن ملک مقیم ڈیڑھ کروڑافراد کو ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کی سہولت فراہم کی گئی،ووٹنگ کے دوران ملک بھر میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ۔
واضح رہے بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ صرف ایک ایوان پر مشتمل ہے جسے جاتیا سنگسد کہا جاتا ہے اور اس کے مجموعی طور پر 350 ارکان ہوتے ہیں۔ ان میں سے 300 ارکان براہِ راست انتخاب کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں جبکہ باقی 50 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہیں۔ بی این پی میڈیا سیل کے رکن کبیر خان نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے سربراہ طارق رحمان نے غیر سرکاری نتائج کے مطابق ڈھاکہ17 اور بوگرہ6 کے حلقوں میں کامیابی حاصل کی ہے ۔بی این پی کے سربراہ طارق رحمن نے ڈھاکہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت ان تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر ملک چلانا چاہتی ہے جنہوں نے ان کے ساتھ تحریک میں حصہ لیا تھا۔
طارق رحمن نے انتخاب پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کو واضح کامیابی حاصل ہوگی۔ نشستوں کی تعداد سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا ہم پُرامید ہیں کہ ہم اتنی نشستیں جیت لیں گے کہ ملک کو بہتر طریقے سے چلا سکیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر انتخابات منصفانہ اور کسی تنازع کے بغیر ہوئے تو ان کی جماعت نتائج کو قبول کرے گی۔بنگلہ دیش میں قومی انتخابات کے ساتھ کرائے گئے ریفرنڈم میں 67 فیصد ووٹرز نے آئینی اصلاحات کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ 33 فیصد نے مخالفت کی۔ یہ ریفرنڈم جولائی 2024 کی عوامی تحریک کے مطالبات کو قانونی شکل دینے کے لیے تھا، جس کا مقصد ملک میں گڈ گورننس، جمہوریت اور سماجی انصاف کو مضبوط کرنا ہے ۔
عوام سے بیلٹ پر ہاں یا نہیں کے انتخاب کے ذریعے تقریباً 30 اصلاحات پر رائے لی گئی، جن میں نئے آئینی ادارے ، پارلیمنٹ کے دو ایوان، وزیراعظم کی مدت اور صدر کے اختیارات میں ترمیم شامل ہیں۔بنگلہ دیش کے عام انتخابات میں جعلی ووٹ ڈالنے کی کوشش پر 2 افراد کو 2 ، 2 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔سراج گنج4 اور جھالاکاٹھی 2 میں جعلی ووٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ سراج گنج میں 22 سال کے روبیل حسین نے ووٹ ڈالنے کے بعد بیرون ملک مقیم ووٹر کا ووٹ ڈالنے کی کوشش کی۔انتخابی حکام نے روبیل حسین کو حراست میں لے کر سمری کورٹ میں پیش کیا تھا۔اس کے علاوہ جھالاکاٹھی میں خاتون کو جعلی ووٹ ڈالنے کی کوشش پر 2 سال قید کی سزا ہوئی۔بنگلادیشی میڈیا کے مطابق 34 سال کی خاتون کو موبائل کورٹ نے سزا سنائی جبکہ 50 ہزار ٹکہ جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔