مسلح افراد نے پارلیمنٹ میں گھسنے کی کوشش کی، دھرنا شرکا کو پراٹھے بھیجے : وزیرمملکت داخلہ
ایم این اے نے پولیس اہلکاروں کیساتھ ہاتھاپائی کی،نامعلوم مسلح افراد جواندر جانا چاہتے تھے گرفتارکرلئے :طلال 25 ایم این ایز کی وجہ سے ریڈ زون بند رکھا :گبول،بیویاں بھی شوہروں پر تشدد کرتی ہیں:خواجہ اظہار کابل پراعتراض
اسلام آباد(دنیا نیوز،خصوصی رپورٹر،آن لائن) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کو وزیر مملکت برائے داخلہ نے بتایا کہ نامعلوم مسلح افراد نے پارلیمنٹ ہاؤس میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی جن کو گرفتار کرلیاگیا، دھرنے کے شرکاء کو حکومت کی جانب سے پراٹھے بھجوائے گئے تھے ۔ رکن کمیٹی نیبل گبول نے کہا25 ایم این ایز کی وجہ سے ریڈ زون کو بند رکھا گیا، پارلیمنٹرینز کے لاجز کو بھی بند رکھا گیا، وفاقی وزیر داخلہ گزشتہ سوا دو سال سے کمیٹی میٹنگ میں نہیں آرہے ،چیئرمین سی ڈی اے بھی گزشتہ تین اجلاسوں میں بلانے کے باوجود میں نہیں آرہے ۔
شازیہ مری نے گھریلو تشدد کے حوالے سے بل پیش کیا جس پرخواجہ اظہار الحسن نے کہاصرف شوہروں کے بیوی پر تشدد کا ذکر کیوں ہے ؟بیویاں بھی شوہروں پر تشدد کرتی ہیں۔ اجلاس کے دوران پارلیمنٹ ہائوس کے باہراحتجاج کے حوالے سے طلال چودھری نے بتایاایک ایم این نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ ہاتھاپائی کی،نامعلوم مسلح افراد یہاں پر آئے جواندر جانا چاہتے تھے ، ہم نے دھرنے والوں کو پراٹھے بھیج دیئے ، ویسے کہتے ہیں کھانا نہیں ۔دھرنے والے انکار کر دیں کہ ان کے لیے پراٹھے نہیں آئے ، میرے پاس ویڈیوز موجود ہیں، نامعلوم افراد کو یہاں لایا گیا جن کو گرفتار کیا گیا۔رکن کمیٹی نبیل گبول نے کہا تمام ایم این ایز کو پارلیمنٹ سے باہر نکلنے نہیں دیا گیا، 68 کیمرے لگائے گئے جو بہت پرانے ہیں۔وزیر مملکت داخلہ نے کہاکہ کیمرے کہاں لگانے ہیں کہاں نہیں، یہ فیصلہ ڈپٹی چیئرمین نے کرنا ہے ۔