اسرائیلی فیصلہ 2ریاستی حل کمزور کرنیکی کوشش،پاکستان سمیت 8مسلم ممالک کی مذمت

اسرائیلی  فیصلہ 2ریاستی حل کمزور کرنیکی  کوشش،پاکستان سمیت 8مسلم ممالک کی مذمت

مغربی کنارے کی اراضی کو نام نہاد اسٹیٹ لینڈ قرار دینے کا اقدام خطے میں امن کے امکانات کو بھی متاثر کرے گا پالیسی خطرناک ،عالمی برادری اسرائیلی اقدامات روکنے کے لئے فوری اقدامات کرے ، وزرائے خارجہ اعلامیہ

 اسلام آباد (دنیا نیوز، اے پی پی )پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے کی اراضی کو اسرائیل کی جانب سے نام نہاد اسٹیٹ لینڈ قرار دینے اور 1967 کے بعد پہلی بار وسیع پیمانے پر اراضی کی رجسٹریشن و ملکیت کے طریقہ کار کی منظوری دینے کے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے ، پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک کے مشترکہ اعلا میہ میں کہا گیا کہ یہ اقدام غیر قانونی بستیوں کے قیام کو تیز کرنے ، زمینوں پر قبضہ مستحکم کرنے اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر غیر قانونی خود مختاری مسلط کرنے کی کوشش ہے ، جو فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نقصان پہنچاتا ہے ۔وزرائے خارجہ نے اسرائیلی اقدام کو بین الاقوامی قانون اور چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 کے منافی قرار دیا۔اعلا میہ میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیل کا یہ غاصبانہ فیصلہ 2 ریاستی حل کو کمزور اور خطے میں منصفانہ و جامع امن کے امکانات کو متاثر کرتا ہے۔

وزرائے خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ان اقدامات کو روکنے کے لئے مؤثر اور واضح اقدامات کرے اور فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق، مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بناتے ہوئے آزاد و خودمختار ریاست کے قیام کی حمایت کرے ، بیان کے مطابق یہ فیصلہ مقبوضہ فلسطینی علاقے میں اسرائیلی پالیسیوں اور طرز عمل سے پیدا ہونے والے قانونی نتائج کے بارے میں بین الاقوامی عدالت انصاف کی طرف سے جاری کردہ مشاورتی رائے سے بھی متصادم ہے ،اس سے دو ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹ پیدا ہوگی، ایک آزاد اور مستحکم فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات متاثر ہوں گے اور خطے میں منصفانہ، جامع اور پائیدار امن کے حصول کو خطرہ لاحق ہوگا۔ وزرائے خارجہ نے اس امر کا اعادہ کیا کہ وہ تمام یکطرفہ اقدامات کی قطعی طور پر مخالفت کرتے ہیں جو مقبوضہ فلسطینی علاقے کی قانونی، آبادیاتی یا تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے کیلئے کئے جائیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ پالیسیاں ایک خطرناک کشیدگی پیدا کریں گی جو فلسطینی علاقے اور وسیع خطے میں عدم استحکام اور کشیدگی کو مزید بڑھائیں گی۔ وزرائے خارجہ نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں