افغان دہشتگردوں کیخلاف کارروائی کیلئے انٹیلی جنس ورک مکمل
حتمی کارروائی کیلئے کسی خاص وقت اور موقع کی تلاش،افغان طالبان پریشان
(تجزیہ: سلمان غنی)
پاکستان میں دہشت گردی کے عمل میں افغان سرزمین کے استعمال کے بعد اب متعدد وارداتوں میں براہِ راست افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے ثبوت بھی سامنے آ رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے افغان سلسلہ منظم ہے ۔ سولہ فروری کو باجوڑ خودکش حملے میں بھی افغان شہری ملوث نکلا، جو افغان طالبان کی سپیشل فورسز کا حصہ رہ چکا ہے ۔ بلاشبہ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ایک سنگین سفارتی اور سکیورٹی مسئلہ بن چکا ہے ۔
طالبان کھلے عام ٹی ٹی پی کی حمایت سے انکار کرتے ہیں، مگر عملاً ان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی سے گریزاں رہے ہیں، اس لیے کہ طالبان اور ٹی ٹی پی کے درمیان ماضی کے تعلقات اور جہادی بیانیے کی مماثلت پائی جاتی ہے ۔طالبان حکومت کو بین الاقوامی طور پر باضابطہ اس لیے تسلیم نہیں کیا جا رہا کہ دنیا کو معلوم ہے کہ ان کی پہچان انتہا پسندی کے ساتھ ہے ۔ بظاہر وزیرِ دفاع خواجہ آصف کھلے طور پر یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی خارج از امکان نہیں، لیکن پاکستان ایک ذمہ دار ملک کے طور پر براہِ راست افغان سرزمین پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی سے گریزاں ہے ، کیونکہ اس حوالے سے بعض عالمی قوانین آڑے آ رہے ہیں۔
پاکستان اس حوالے سے عالمی میڈیا کو اس صورتِ حال سے آگاہ ضرور کر رہا ہے اور خصوصاً افغان سرزمین کے بھارت کی جانب سے استعمال پر توجہ دلا رہا ہے ۔ بھارت اب پاکستان پر جارحیت مسلط کرنے کی پوزیشن میں تو نہیں رہا، لیکن وہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے سرگرمِ عمل ہے اور اس مقصد کے لیے وہ کھلے طور پر افغان طالبان اور ان کی سرزمین کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہے ۔ تاہم، کیا بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کر پائے گا؟ اس کا امکان اس لیے نہیں کہ پاکستان نے عسکری محاذ پر خود کو ناقابلِ تسخیر ثابت کیا ہے ۔حالیہ دہشت گردی کی وارداتوں میں افغان شہریوں کے براہِ راست ملوث ہونے کی شرح 70 فیصد بتائی جا رہی ہے اور یہ سلسلہ کسی منظم ایجنڈے کے بغیر ممکن نظر نہیں آتا۔ لیکن پاکستان محدود اور مو ثر ردِعمل کی پالیسی اختیار کیے ہوئے ہے تاکہ تنازع اور تصادم قابو میں رہے ، کیونکہ افغانستان میں کارروائی کا مطلب ، طویل سرحد پر نئی جنگی صورتِ حال، ہو سکتا ہے ۔
اس سے دہشت گردی میں وقتی اضافہ یا جوابی حملوں کا خدشہ بڑھ سکتا ہے ۔ لہٰذا پاکستان کی اب تک کی پالیسی سختی اور سفارت کاری کے امتزاج سے جڑی نظر آتی ہے ، یعنی مکمل جنگ نہیں بلکہ دباؤ اور محدود کارروائی کا توازن برقرار رکھا جائے ۔ویسے بھی ریاستیں اکثر خاموشی سے کارروائی پر یقین رکھتی ہیں تاکہ باضابطہ جنگی صورتِ حال طاری نہ ہو۔ لہٰذا بین الاقوامی قانونی پیچیدگیوں اور مکمل سرحدی جنگ کے خدشے کے باعث پاکستان افغان سرزمین پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی سے گریزاں ہے ، لیکن یہ پالیسی حتمی نہیں۔ اطلاعات یہ ہیں کہ پاکستان نے اپنا انٹیلی جنس ورک مکمل کر رکھا ہے اور اسے خوب معلوم ہے کہ دہشت گردوں کے اڈے کہاں موجود ہیں، طالبان انتظامیہ سے ان کے روابط کیسے ہیں اور ان کی حکمتِ عملی کا تعین کون اور کیسے کرتا ہے ۔ تاہم پاکستان ان کے خلاف حتمی کارروائی کے لیے کسی خاص وقت اور موقع کی تلاش میں ہے ، جس سے افغان طالبان میں پریشانی پائی جاتی ہے اور وہ بار بار اپنی صفائی پیش کرتے نظر آتے ہیں۔