امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر 19 فروری کو واشنگٹن میں غزہ پیس آف بورڈ کے اجلاس کے انعقاد سے صرف دو روز قبل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے مقبوضہ مغربی کنارے کے مزید علاقوں پر اپنی ملکیت کا اعلان کر دیا۔ 1949ء کے جنیوا کنونشن اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق جنگ یا کسی اور طریقے سے قابض ملک کو مقبوضہ علاقوں کو ضم کرنا تو درکنار اس کی حیثیت میں کسی قسم کی تبدیلی کرنے کا بھی حق نہیں ‘ لیکن 1967ء کی جنگ میں قبضہ کرنے کے بعد اسرائیل فلسطین کے اس حصے‘ جو دریائے اردن کے مغربی کنارے سے بحیرۂ روم کے ساحل تک پھیلا ہوا ہے‘ کے کئی علاقوں پر یہودیوں کی بستیاں تعمیر کر چکا ہے۔ تقریباً 400کے قریب ان یہودی بستیوں‘ جنہیں بین الاقوامی عدالتِ انصاف ناجائز اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دے چکی ہے‘ میں سات لاکھ کے قریب یہودی آباد ہیں۔ ان کے مقابلے میں اس خطے میں رہنے والے فلسطینیوں کی تعداد 30 لاکھ سے زیادہ ہے لیکن اسرائیل عالمی رائے عامہ‘ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے فیصلوں کی پروا کیے بغیر دریائے اردن کے مغربی کنارے کے اُس علاقے کوضم کرنے کے منصوبے پر کاربند ہے ‘ جسے 1947ء میں جنرل اسمبلی کی قرارداد نمبر 181 (جس کے تحت فلسطین کو دو ریاستوں میں تقسیم کیا گیا تھا) کے تحت فلسطینی علاقہ قرار دیا گیا تھا۔ گو کہ عرب ملکوں نے اسے مسترد کر دیا تھا اور مصر‘ شام اور اردن نے 1948ء میں اسرائیل کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا تھا۔ اس جنگ میں عرب افواج کی کارکردگی اچھی نہ تھی‘ تاہم اردن کی شاہی فوج نے مغربی کنارے اور بیت المقدس کے مشرقی حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں اسرائیل نے شام کے علاقے سطح مرتفع گولان‘ غزہ اور سینائی کے علاقوں کے ساتھ مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس پر بھی قبضہ کر لیا۔
1993ء میں اوسلو معاہدات کے تحت دو ریاستی فارمولے یعنی اسرائیل کے ساتھ مقبوضہ عرب علاقوں پر مشتمل ایک فلسطینی ریاست کے قیام پر اتفاق کے بعد مغربی کنارے کو تین حصوں یعنی اے‘ بی اور سی میں تقسیم کر دیا گیا۔ اے کیٹیگری میں شامل علاقوں پر فلسطین کی قومی ریاست جسے فلسطینی اتھارٹی بھی کہا جاتا ہے‘ کے مکمل کنٹرول کو تسلیم کیا گیا جبکہ بی کیٹیگری کے علاقوں پر اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے مشترکہ حق کو تسلیم کیا گیا اور سی کیٹیگری میں شامل تمام علاقوں کو اسرائیل کے مکمل کنٹرول میں دے دیا گیا تھا۔ ان علاقوں پر اسرائیل کا کنٹرول عارضی تھا اور اوسلو معاہدات کے تحت 1997ء میں اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان مذاکرات کے ذریعے سی کیٹیگری کے علاقوں پر بھی اسرائیل کے قبضے کو ختم کر کے ایک مکمل طور پر آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کا مقصد حاصل کرنا تھا مگر ان مذاکرات کی کبھی نوبت نہیں آئی کیونکہ 1994ء کے بعد اسرائیل میں قائم ہونے والی دائیں بازو کی حکومتوں نے دو ریاستی فارمولے سے انحراف کرتے ہوئے مقبوضہ عرب علاقوں میں ایسے اقدامات شروع کر دیے جو فلسطین میں ایک الگ اور آزاد ریاست کے قیام کو ناممکن بنا رہے تھے۔ ان اقدامات میں مقبوضہ عرب علاقوں میں رہنے والے فلسطینیوں کو شہری‘ قانونی اور سیاسی حقوق سے محروم کر کے ان کے ساتھ انتہائی امتیازی سلوک روا رکھنا‘ ان کی زمینوں کو ہتھیانا‘ فصلوں اور باغات کو تباہ کرنا اور رہائشی علاقوں کو مسمار کر کے یہودی آباد کاروں کیلئے بستیوں کی تعمیر کی راہ ہموار کرنا شامل تھا۔
یوں تو اسرائیل کی ہر حکومت نے مغربی کنارے اور بیت المقدس کے اردگرد کے علاقوں میں فلسطینیوں کے مکانات کو مسمار کر کے یہودی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ برقرار رکھا ہے مگر نیتن یاہو کے تینوں ادوارِ حکومت میں مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر میں تیزی آئی ہے۔ اقوام متحدہ نے نیتن یاہو حکومت کے موجودہ اقدام‘ جن کے تحت مغربی کنارے کے بعض حصوں کو اسرائیل ملکیتی علاقوں کی حیثیت سے رجسٹر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے‘ کو اوسلو معاہدات کے تحت فلسطین میں دو ریاستیں قائم کرنے کے معاہدے کی خلاف ورزی اور ایک فلسطینی ریاست کے قیام کو ناممکن بنانے کی طرف پیش قدمی قرار دیا ہے۔ نیتن یاہو نے اس فیصلے کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل کی طرف سے نہتے فلسطینیوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 10 اکتوبر 2025ء کو غزہ میں جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اب تک 500 سے زائد فلسطینی باشندے‘ جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں‘ اسرائیلی حملوں میں شہید ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ مغربی پٹی میں اسرائیلی فوجیوں اور یہودی آباد کاروں کے ہاتھوں سات اکتوبر 2023ء سے اب تک ایک ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ ڈر ہے کہ غزہ کے بعد ویسٹ بینک میں اسرائیلی جارحیت میں تیزی آئے گی۔ اس کی تین بڑی وجوہات ہیں۔ نیتن یاہو پر اس کی مخلوط حکومت میں شامل انتہائی دائیں بازو اور مذہبی انتہا پسندی کے نظریات کی حامل سیاسی پارٹیوں کا سخت دباؤ ہے۔ اسرائیل کے انتہا پسند سیاسی عناصر نہ صرف گریٹر اسرائیل کے حامی ہیں جس میں مغربی کنارے کے علاوہ قدیم اسرائیل میں شامل دیگر عرب علاقوں کو بھی اسرائیل میں ضم کرنے کا منصوبہ شامل ہے بلکہ وہ اسرائیل کو ایک ایسی یہودی ریاست بنانا چاہتے ہیں جس میں غیر یہودی باشندوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہو گی۔ دوسرا‘ اس وقت اسرائیل کا ہاتھ روکنے والی کوئی طاقت نہیں۔ غزہ میں وہ تقریباً ڈھائی سال میں 72 ہزار فلسطینیوں کو شہید کر چکا۔ پورا غزہ تباہ کر دیا گیا ہے مگر کوئی طاقت اس کو روکنے والی نہیں۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ نیتن یاہو کو اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ کی صورت میں ایک ایسا دوست اور مددگار میسر ہے جو اس کا ہر جارحانہ اقدام میں ساتھ دینے کو تیار ہے‘ اس لیے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی کارروائیاں اور نئی یہودی بستیوں کے قیام کا سلسلہ جاری رہنے کا اندیشہ ہے۔ اسرائیل کا مقصد مغربی کنارے میں نئی بستیوں کے قیام کے ذریعے مغربی کنارے میں کل آبادی کے تناسب میں یہودیوں کی تعداد کو اس حد تک بڑھانا ہے کہ دو ریاستی منصوبہ ناقابلِ عمل ہو جائے۔ اس اقدام کا اصل مقصد فلسطین میں ایک فلسطینی ریاست کے قیام کو ناکام بنانا اور تمام مقبوضہ علاقوں کو اسرائیل میں ضم کرنا ہے۔ گولان کو پہلے ہی ضم کیا جا چکا ہے۔ مغربی کنارہ اسرائیلیوں کے لیے گولان کی پہاڑیوں اور غزہ سے بھی زیادہ اہم ہے کیونکہ ان کے نزدیک یہ علاقہ جسے وہ جودیا اور سمریا کے نام سے پکارتے ہیں‘ قدیم اسرائیلی ریاست کا مرکزی علاقہ تھا اور یہیں پر اُن کی تہذیب نے جنم لیا۔ مگر مغربی کنارے میں رہنے والے فلسطینیوں کی تعداد 30 لاکھ سے زائد ہے جبکہ مقبوضہ عرب علاقوں سمیت اسرائیل میں رہنے والے فلسطینیوں کی تعداد یہودیوں کے برابر ہے۔ فلسطینی آبادی کے اتنے بڑے حصے کو فلسطین سے بے دخل کرنا آسان نہیں۔ اگرچہ اسرائیل اردن کو فلسطین کا متبادل ہوم لینڈ بنانے کی کوشش کر رہا ہے مگر وہ غزہ میں ڈھائی سال کی جنگ کے باوجود اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکا۔ فلسطینیوں کی اتنی بڑی تعداد کو وہ کیسے بے دخل کر سکتا ہے۔