"DRA" (space) message & send to 7575

ڈونلڈ ٹرمپ، بورڈ آف پیس اور اقوام متحدہ

غزہ میں جنگ بندی اور مستقل بنیادوں پر امن کے قیام کیلئے گزشتہ سال ستمبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک منصوبے کا اعلان کیا تھا‘ جس کے تحت امریکی صدر کی سربراہی میں ایک امن بورڈ (بورڈ آف پیس) کے قیام کی سفارش بھی کی گئی تھی۔ اس بورڈ‘ جس میں سرکردہ عالمی شخصیات کو شامل کرنے کا عندیہ دیا گیا تھا‘ کا اولین مقصد غزہ کے انتظام وانصرام کی ذمہ داری سنبھالنا تھا۔ نومبر 2025ء میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ٹرمپ کے امن منصوبے کی توثیق کرتے ہوئے اعلان کیا کہ بورڈ کاد ائرۂ اختیار صرف غزہ تک محدود ہوگا مگر حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے بورڈ کے جس چارٹر کا اعلان کیا ہے اس میں غزہ کا سرے سے کوئی ذکر ہی نہیں بلکہ اس کے ابتدائیہ (Preamble) کے مطابق بورڈ ایک بین الاقوامی ادارہ ہو گا جس کا مقصد دنیا میں استحکام کو فروغ دینا اور تنازعات حل کر کے دیرپا امن کو مضبوط بنیاد فراہم کرنا ہے۔ اس وقت دنیا میں ان مقاصد کے حصول کیلئے وقف اگر کوئی ادارہ ہے تو وہ اقوام متحدہ ہے‘ جسے دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر 1945ء میں قائم کیا گیا تھا۔ اس لیے ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کے مندرجات منظر عام پر آنے پر قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ بورڈ آف پیس کے نام پر امریکی صدر دراصل اقوام متحدہ کا ایک متبادل وجود میں لانا چاہتے ہیں۔ 20 جنوری کو اپنی دوسری صدارتی مدت کا پہلا سال مکمل ہونے پر ڈونلڈ ر ٹرمپ نے واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اس امر کی از خود تصدیق کر دی۔ ایک سوال کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کی جگہ بھی لے سکتا ہے کیونکہ انہوں نے تنازعات کے حل کیلئے کبھی اقوام متحدہ کی طرف رجوع کرنے کا نہیں سوچا۔
اقوام متحدہ کا بنیادی مقصد تنازعات کے حل کے ذریعے دنیا میں امن کا قیام اور اقوامِ عالم کے درمیان مفاہمت کو فروغ دینا ہے۔ اس مقصد کیلئے اقوام متحدہ کے چارٹر کے ساتویں باب میں ایک تفصیلی میکانزم دیا گیا ہے جس میں پُرامن اور بذریعہ طاقت‘ دونوں طریقوں سے تنازعات کے حل کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔ امریکی صدر شروع ہی سے غزہ کے بارے میں اپنے ''امن منصوبے‘‘ پر اقوام متحدہ کی مہر ثبت کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے‘ یہ تو آٹھ مسلم اور عرب ممالک کے مطالبے کا نتیجہ تھا کہ 'ٹرمپ منصوبے‘ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں زیر بحث لانا پڑا‘ جسے بغیر کسی تبدیلی یا ترمیم کے منظور کر کے اسے اقوام متحدہ کی تائید کے ساتھ جاری کر دیا گیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ ٹرمپ اقوام متحدہ سے گریزاں کیوں ہیں؟ کیا وہ پہلی عالمی جنگ کے بعد کی تاریخ دہرانا چاہتے ہیں جب صدر ووڈرو وِلسن کے دور میں امریکہ نے لیگ آف نیشنز میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا اور اس طرح لیگ آف نیشنز کی ناکامی اور دوسری عالمی جنگ کے آغاز کی راہ ہموار کر دی تھی؟
ڈونلڈ ٹرمپ کو یقین ہے کہ امریکہ کی موجودگی اور حمایت کے بغیر اقوام متحدہ کا ادارہ قائم نہیں رہ سکتا‘ کیونکہ اس کے بجٹ میں امریکہ کا حصہ سب سے زیادہ ہے۔ انہوں نے اپنی دوسری مدتِ صدارت میں اقوام متحدہ کے متعدد ذیلی اداروں اور صحت‘ تعلیم اور ماحولیات کے شعبوں میں کام کرنے والی ایجنسیوں سے امریکہ کی علیحدگی اور انہیں فنڈز کی فراہمی روک رکھی ہے۔ ان اداروں میں عالمی ادارۂ صحت اور یونیسف بھی شامل ہیں۔ یہ درست ہے کہ تنازعات کو حل کرنے اور جارحیت کو روکنے میں اقوام متحدہ کا کردار قابلِ رشک نہیں رہا اور آٹھ دہائیوں سے زیادہ پرانے اس ادارے کو موجود عالمی نظام کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق اصلاحات کی سخت ضرورت ہے مگر دنیا کو اقوام متحدہ کی اب بھی شدید ضرورت ہے۔ جنگ‘ امن اور سکیورٹی سے متعلق امور میں اقوام متحدہ کے امن دستے اب بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ صحت‘ خوراک‘ تعلیم‘ ماحولیات کے ساتھ عالمی وباؤں‘ پولیو‘ تپ دق اور ملیریا جیسی مہلک بیماریوں کی روک تھام‘ مہاجرین کی امداد اور تارکینِ وطن کے حقوق کے تحفظ میں بھی اقوام متحدہ کا کردار اہم اور نمایاں ہے۔ سب سے بڑی بات کہ دنیا کے تقریباً دو سو میں سے 193 ممالک اس ادارے کے رکن ہیں۔ مختلف خطوں میں علاقائی تعاون یا دفاعی مقاصد کیلئے جو تنظیمیں قائم کی گئی ہیں‘ ان سب نے رضا کارانہ طور پر اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج اصولوں کو قبول کیا ہے اور ان پر کاربند رہنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس کے باوجود اگر امریکی صدر بورڈ آف پیس میں 60 یا زائد ملکوں کی شمولیت یقینی بنا لیتے ہیں تو اقوام متحدہ کے بعد رکنیت کے لحاظ سے یہ سب سے بڑی بین الاقوامی تنظیم ہوگی۔ اس لیے صدر ٹرمپ جیسے جاہ پرست (Ambitious) شخص کا اپنی سربراہی میں قائم اتنی بڑی عالمی تنظیم کو اقوام متحدہ کے مقابلے میں لاکھڑا کرنا عین ممکن ہے۔ البتہ حیرت کی بات یہ ہے کہ ٹرمپ ایک ایسے عالمی ادارے کو مسمار کرنا چاہتے ہیں جس کے قیام میں امریکہ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا اور جس کے پلیٹ فارم سے اس نے اپنی خارجہ پالیسی کے کئی اہم مقاصد حاصل کیے۔ ان میں 1947ء میں جنرل اسمبلی سے فلسطین کو دو ریاستوں میں تقسیم کرنے کے حق میں قرارداد منظور کرانا اور اسرائیل کی صہیونی ریاست کے قیام کو ممکن بنانا بھی شامل ہے۔ بین الاقوامی قانون کے ماہرین کے مطابق یہ ایسا اقدام تھا جس کا اقوام متحدہ کو مینڈیٹ حاصل نہیں تھا۔ دوسرا موقع 1951ء میں شمالی کوریا کے خلاف فوجی کارروائی کے حق میں جنرل اسمبلی سے قرارداد کی منظوری ہے۔ اس قرارداد کو بھی متنازع قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی رو سے جنگ‘ امن‘ سلامتی اور جارحیت سے متعلقہ امور میں کسی قسم کے اقدام کا اختیار صرف سکیورٹی کونسل کو حاصل ہے‘ جنرل اسمبلی میں ان مسائل کو زیر بحث نہیں لایا جا سکتا اور نہ اسے ایسے معاملات پر کسی اقدام کی سفارش کرنے کا اختیار ہے‘ لیکن امریکہ نے اپنے حامی ملکوں‘ جن کی اکثریت یورپ اور لاطینی امریکہ سے ہے‘ کی مدد سے اقوام متحدہ سے ایسے متنازع فیصلے کرائے جو اُس کے اپنے مفاد میں تھے۔ 1950ء اور 1960ء کی دہائیوں میں جب ایشیا اور افریقہ میں یورپی نوآبادیات نے آزادی حاصل کی اور اقوام متحدہ میں شامل ہوئے تو امریکہ کیلئے جنرل اسمبلی سے اپنی مرضی کی قراردادیں منظور کرانا مشکل ہو گیا بلکہ جنرل اسمبلی میں ایشیا‘ افریقہ اور لاطینی امریکہ کے نو آزاد ممالک نے ایسی قراردادیں منظور کرنا شروع کر دیں‘ جنہیں امریکہ اپنے مفاد کے خلاف سمجھتا تھا۔ ان میں اسرائیل کے خلاف قراردادیں بھی شامل ہیں۔ 1970ء کی دہائی سے امریکہ اقوام متحدہ سے الگ ہونے کی دھمکیاں دیتا چلا آ رہا ہے‘ اس نے عملاً علیحدگی تو اختیار نہیں کی مگر اقوام متحدہ کے بجٹ میں اپنا حصہ بدستور کم کرتا چلا آ رہا ہے۔ لہٰذا ٹرمپ اپنی سربراہی میں 'بورڈ آف پیس‘ کی شکل میں اگر کچھ ممالک کو ایک بین الاقوامی تنظیم کی شکل میں اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوتے اور اسے اقوام متحدہ کا متبادل قرار دیتے ہیں تو کوئی حیرانی کی بات نہیں ہونی چاہیے کیونکہ ٹرمپ صرف مغربی نصف کرہ (شمالی اور جنوبی امریکہ) پر بالادستی حاصل کرنا نہیں چاہتے بلکہ وہ پوری دنیا پر امریکہ کی بالادستی قائم کرنے کا خواب دیکھتے ہیں۔ مسئلہ اُن ممالک کا ہے جو امریکہ کی اس بالادستی کو قبول کر کے اپنی آزاد اور خود مختار خارجہ پالیسی سے دستبردار ہونے پر تیار ہیں کیونکہ بورڈ آف پیس کے اعلان کردہ چارٹر کے مطابق بورڈ کے ہر فیصلے کی حتمی منظوری ڈونلڈ ٹرمپ دیں گے۔ اب تک ڈونلڈ ٹرمپ نے دیگر ممالک کے ساتھ معاملات طے کرنے میں جو رویہ اختیار کیا ہے اس کا تمام تر فوکس ''Make America Great Again‘‘ رہا ہے اور اس کیلئے انہوں نے غزہ میں 70 ہزار سے زائد فلسطینیوں‘ جن میں 40 ہزار سے زائد بچے اور عورتیں ہیں‘ کے قتل میں اسرائیل کی بھرپور مدد کی ‘ ہر قسم کے ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر ایران پر حملہ کیا۔ ٹرمپ کے عزائم واضح ہونے کے باوجود سوال یہ ہے کہ کیا بورڈ آف پیس میں شامل ہونے والے ممالک‘ جن میں پاکستان بھی شامل ہے‘ ٹرمپ کی زیر قیادت ان کے ہر مجرمانہ فعل میں شریک ہونے پر رضامند ہیں؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں