ایران میں گزشتہ دنوں ملک گیر ہنگاموں‘ توڑ پھوڑ کی کارروائیوں اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ مظاہرین کے تصادم کے مناظر دیکھنے کو ملے۔ ان مظاہروں کا آغاز ناقابلِ برداشت مہنگائی‘ افراطِ زر اور بیروزگاری کے خلاف عام شہریوں خصوصاً تاجروں اور دکانداروں کے احتجاج کی صورت میں ہوا لیکن جلد ہی یہ مظاہرے مسلح تصادم کی شکل اختیار کر گئے‘ جس میں سرکاری ذرائع کے مطابق پانچ ہزار کے قریب افراد مارے گئے۔ ہیومن رائٹس کی تنظیموں کے مطابق مظاہروں پر قابو پانے کیلئے ایرانی حکومت نے ہزاروں افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں سے بیشتر پر سرکاری اور شہری املاک پر حملوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے قتل کا الزام ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایرانی حکومت نے احتجاجی مظاہروں پر قابو پا لیا ہے اور ملک کے کسی حصے سے گڑ بڑ کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ البتہ خلیج فارس کے علاقے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کو لاحق خطرات ختم نہیں ہوئے کیونکہ صدر ٹرمپ جو اِس سے قبل احتجاجی مظاہرین کے خلاف حکومت کی طرف سے طاقت کے استعمال کو بہانہ بنا کر ایران پر حملے کی تیاری کر رہے تھے‘ اب حراست میں لیے گئے مظاہرین کی پھانسیوں کی صورت میں ایران کو وسیع اور بھاری بمباری کا نشانہ بنانے سے خبردار کر چکے ہیں۔ اس صورتحال نے دنیا خصوصاً خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ روس اور چین نے ایران پر امریکہ کے ممکنہ حملے کی مخالفت کی ہے اور خبروں کے مطابق خطے کے اہم ممالک قطر اور سعودی عرب نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ ایران پر حملے کی صورت میں پورا خطہ متاثر ہو گا۔ سب سے زیادہ اور فوری اثر تیل کی مارکیٹ پر پڑے گا۔ تاہم وینزویلا کے تیل ذخائر پر قبضے کے بعد امریکہ کو تیل کی عالمی منڈی میں بحران کی کوئی پروا نہیں۔ حملے کی صورت میں ٹرمپ کو تنقید یا مخالفت کا سامنا تو کرنا پڑ سکتا ہے مگر اس وقت دنیا کا کوئی ملک امریکہ کا ہاتھ نہیں روک سکتا۔ جہاں تک روس اور چین کا تعلق ہے انہوں نے اس اقدام سے اختلاف کرتے ہوئے اسے صرف عالمی امن اور استحکام کیلئے خطرناک قرار دیا ہے۔ عرب اور مسلم ممالک کی طرف سے بھی کسی متفقہ اور مؤثر اقدام کی توقع نہیں۔ البتہ ا ٓٹھ مسلم ممالک جن میں پاکستان‘ ترکیہ‘ انڈونیشیا‘ قطر‘ اردن‘ مصر‘ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں‘ کا فورم اس سلسلے میں مفید کوشش کر سکتاہے کیونکہ ان ممالک نے غزہ میں صدر ٹرمپ کے ''امن منصوبہ‘‘ پر فلسطینی باشندوں کے حقوق اور مفادات کی روشنی میں اہم پیشرفت حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اس عزم کے تحت آٹھ ملکوں کا یہ فورم نہ صرف ایران اور امریکہ کے مابین موجودہ کشیدگی کی فضا کو ہلکا کر سکتا ہے بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت کا آغاز بھی کروا سکتا ہے۔ چند روز قبل ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی تھی اور صدر ٹرمپ نے اس کا مثبت جواب دے کر اس کے آغاز کا عندیہ بھی دیا مگر پھر ایران میں بدلتی صورتحال کے پیش نظر امریکی صدر نے نہ صرف ایران سے بات چیت کے پروگرام کو منسوخ کر دیا بلکہ تہران کے ساتھ ہر قسم کے سفارتی تعلقات کو منقطع کر کے تمام امریکی باشندوں کو ایران سے نکل جانے کی ہدایت کر دی۔ امریکہ کے اس اقدام سے صورتحال کی سنگینی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے علاقائی ملکوں خاص طور پر پاکستان کو سلسلۂ جنبانی میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے اور فریقین کے ساتھ ملاقات کر کے ایک تباہ کن جنگ کے خطرے کو کم کرنا چاہیے۔
اگر امریکہ اور ایران میں جنگ چھڑ جاتی ہے تو اس کا اثر پاکستان سمیت پورے خطے پر پڑے گا۔پاکستان خلیج فارس کے دہانے پر واقع ہے اور ایران کے ساتھ اس کی نو سو کلو میٹر سے زیادہ طویل مشترکہ سرحد ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان اور ایران ہزاروں برس پرانے تہذیبی‘ مذہبی اور لسانی رشتوں کے ساتھ ایک دوسرے سے منسلک چلے آ رہے ہیں۔ ماضی میں دونوں قومیں ایک دوسرے کے کام آتی رہی ہیں۔ شاید یہ حقیقت کچھ لوگوں کے علم میں نہ ہو کہ 1971ء میں سقوطِ ڈھاکہ سے پاکستان کی معیشت کو جو شدید دھچکا لگا تھا اس کی تلافی کیلئے ایران نے پاکستان سے برآمدات کیلئے اپنی مارکیٹ کے دروازے کھول دیے تھے اور چند برسوں میں دونوں ملکوں کی دوطرفہ تجارت کا حجم گیارہ گنا بڑھ گیا تھا۔ پاکستان اور ایران کے عوام ہر قسم کی تفریق سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور ہمیشہ ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں شریک رہے ہیں۔ اس وقت بھی پا کستانی عوام میں ایران پر امریکہ کے ممکنہ حملے پر تشویش پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کی اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس بلا کر ایران کی تازہ ترین صورتحال پر بحث کا مطالبہ کیا ہے۔ موجودہ حکومت اس بات سے پوری طرح آگاہ ہے کہ ایران پر امریکی حملے کی صورت میں پاکستانی عوام سخت ردعمل کا اظہار کریں گے۔ غالباً اسی لیے وزیراعظم شہباز شریف نے ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے چند روز پیشتر ٹیلی فون پر بات بھی کی۔اس ٹیلی فونک گفتگو میں دونوں رہنمائوں نے خطے کی بدلتی صورتحال پر بات کی۔ سعودی عرب اورقطر پہلے ہی امریکہ کو ایران پر حملے سے پیدا ہونے والے خطرناک نتائج سے آگاہ کر چکے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان ممالک نے امریکی صدر سے رابطہ کر کے ایران اور امریکہ کی کشیدگی کم کرنے اور جنگ کا خطرہ ٹالنے کی بھی کوشش کی۔
ادھر صدر ٹرمپ نے واضح دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر ایران نے ہنگاموں میں سکیورٹی فورسز کے اراکین کو قتل کرنے اور فسادات پر لوگوں کو ابھارنے کے الزام میں زیر حراست ملزموں کو پھانسی کی سزا پر عمل کیا تو امریکہ ایران پر حملے کر دے گا اور یہ حملہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑا ہوگا۔ اس لیے پاکستان سمیت آٹھ ممالک کے گروپ کی پہلی کوشش یہ ہو گی کہ ایران کو زیر حراست افراد کی سزائے موت پر عملدرآمد سے روک دیا جائے۔ اس سے کم از کم ٹرمپ کو فوری طور پر ایران پر حملے سے روکنے کا جواز مل جائے گا لیکن اس کے باوجود ٹرمپ پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا کیونکہ گزشتہ برس جون میں جب امریکہ نے B-2 بمبارطیاروں سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا تھا تو اس وقت بھی ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات جاری تھے۔ دراصل ایران پر امریکی حملے کو مستقل طور پر خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ امریکہ طویل عرصے سے ایران پر حملے اور رجیم چینج کیلئے پَر تول رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایران مشرقِ وسطیٰ کا واحد ملک ہے جو 1979ء سے خلیج فارس اور مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں امریکہ کی فوجی موجودگی کی مخالفت کرتا چلا آ رہا ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی جارحیت‘ نوآبادیاتی اور نسل پرستی پر مبنی پالیسی کی مخالفت میں بھی ایران پیش پیش ہے۔ گزشتہ 46 برسوں میں امریکہ نے ایران کی اسلامی انقلابی حکومتوں کا تختہ الٹنے کی متعدد کوششیں کی ہیں۔ 1979ء میں عراق کی طرف سے ایران پر حملہ اور کئی برس تک جاری رہنے والی جنگ بھی انہی کوششوں کا حصہ تھی۔ 2003ء میں بھی جب صدر بش نے صدام حسین کے عراق پر حملہ کیا تھا تو امریکہ ا یران پر بھی حملہ کرنا چاہتا تھا مگر افغانستان میں غیر متوقع طور پر جنگ امریکہ کے خلاف جانے کی وجہ سے یہ فیصلہ ملتوی کر دیا گیا۔ اب ٹرمپ کے خیال میں ایران پر امریکی حملے کیلئے حالات سازگار ہیں‘ اس لیے اسے عارضی طور پر مصلحتاً روکا تو جا سکتا ہے مگر سٹرٹیجک معنوں میں اس منصوبے کو امریکہ ترک نہیں کرے گا۔