"IAS" (space) message & send to 7575

وطن کی فکر کر ناداں

ایک وقت تھا جب کوئی نہ کوئی شدت پسند تنظیم پاکستان میں ہونے والے خودکش دھماکوں کی ذمہ داری قبول کر لیتی تھی اور ہم سمجھتے تھے کہ ذمہ دار وہی ہے۔ لیکن کسی کے فرشتوں کو بھی یہ معلوم نہیں ہوتا تھاکہ اس تنظیم نے کس کو فون کر کے یہ ذمہ داری قبول کی‘ اس کے با وجود تمام اخبارات اور ٹی وی چینلز پر یہ خبر آ جاتی تھی۔ اب ہم پاکستان میں ہو نے والے ہر تخریب کاری کے واقعے کی ذمہ داری بھارت پر ڈال کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں‘ لیکن بھارت کو کبھی اس کا مناسب یعنی منہ توڑ جواب دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔لیکن بھارت نے اپنے ہاں کسی تخریب کاری پر پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا یا تو اس کا ردعمل مختلف تھا۔ پہلگام میں ہونے والی تخریب کاری پر بھارت نے پاکستان پرجھوٹا اور بے بنیاد الزام لگایا‘ پاکستان نے تحقیقات میں ہر ممکن تعاون کی پیشکش کی لیکن بھارت نے ہماری ایک نہ سنی اور پا کستان میں تین چار مقامات پر حملہ کر دیا۔ مگر اس کے بعد پاکستان کے منہ توڑ اور د ندان شکن جواب کو پوری دنیا نے دیکھا۔ جب اسلام آباد مسجد میں خود کش دھماکا ہوا تو حکومت اور وزیروں نے فتنہ الہندوستان کے ملوث ہونے کی نشاندہی کی‘ مگر یہ کیا کہ اس کے بعد ہم بھارت کے ساتھ کرکٹ کھیلنے بھی چلے گئے۔بھارت ایسا نہیں کرتا‘ اس نے پہلگام کے واقعے کا الزام پاکستان پر لگایا تو اس کے بعد اس نے پاکستان پرجنگ مسلط کردی تھی۔ بھارت کا جب دل کرتا ہے وہ ہمارا پانی بند کر دیتا ہے‘ اور جب اس کی مرضی ہو اور اس کامن چاہے‘ بے تحاشا پانی چھوڑ دیا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں پانی ذخیرہ کرنے کیلئے ڈیم نہ بنانے کی وجہ سے یہ پانی سیلاب اور عذاب بن جاتا ہے۔ ہرسال‘ دو سال بعد اربوں روپے کی فصلوں اور املاک کا نقصان ہوتا ہے‘ اس کے ساتھ ساتھ انسانی جانوں کا ناقابل تلافی زیاں بھی ہوتا ہے۔ اپنی نااہلی کے باعث ہم اس پانی سے ہائیڈل بجلی بنانے کے قابل بھی نہیں اور غریب عوام کو فرنس آئل سے بجلی بنانے اور مہنگی کرکے بیچنے والے نجی اداروں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ جو ہر ماہ اربوں روپے عوام سے بٹور رہے ہیں اور اب تو یہ یقین ہو چلا ہے کہ عوام بے چارے تو پیدا ہی بجلی کا بل ادا کرنے کیلئے ہوئے ہیں کیونکہ ان کی مہینے بھر کی کمائی بجلی کے بھاری بھرکم بلوں کی نذر ہو جاتی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں کو قوم اور خاص طور پر غریب عوام کی فکر ہی نہیں‘ انہیں تو صرف اپنا مفاد عزیز ہے۔ انہیں صرف اور صرف پیسہ بنانے کی فکر ہے۔ اس لیے میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ ہمارے حکمرانوں نے اپنی جیبیں تو بھر لی ہیں لیکن عوام کی حالت کو بدلنے کی طرف بالکل بھی توجہ نہیں دی اور ایسا کوئی ارادہ دور دور تک دکھائی بھی نہیں دیتا۔ عوام بے چارے جائیں تو کہاں جائیں‘ زندگی گزارنے کیلئے دیگر ضروریات کہاں سے پوری کریں۔ کس کے پاس جائیں‘ کس سے فریاد کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن پاک کی سورۃ الرعد‘ آیت: 11 میں صاف صاف اعلان کر دیا کہ ''بیشک اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا‘ جب تک کہ وہ (قوم) خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی‘‘۔ اپنی حالت آپ بدلنے کیلئے قوم کو اب خوابِ غفلت سے بیدار ہونا پڑے گا۔ مولانا ظفر علی خاں نے جو ایک بڑے شاعر بھی تھے‘ لوگوں کو جگانے ‘ بیدار کرنے اور ان کے اندر شعور پیداکرنے کے لیے ایک ہی شعر میں پوری بات بتلا دی تھی۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
بدقسمتی سے ہماری شہ رگ بھی شروع دن سے بھارت کے ناجائز قبضے میں ہے۔ ہم آج تک اپنی شہ رگ کو بھارت کے ظالمانہ پنجے سے چھڑا نہیں پائے۔ دوسری طرف پاکستان میں خاص طور پر صوبہ بلوچستان میں تخریب کاری کے تمام تر واقعات بھارت کروا رہا ہے‘ اور وہ اس کے لیے افغانوں کوخوب استعمال کر رہا ہے۔ اسلام آباد کا واقعہ بھی افغانوں کے ذریعے انڈیا نے کرایا‘ مگر اس کے بعد بھی ہم بھارت کے ساتھ کرکٹ کھیلنے چلے گئے۔ اس کے بعد دنیا میں ہمارا کیا اثر جائے گا‘ دنیا کیا سوچے گی ہمارے بارے میں؟ کیا یہ بچوں کا کھیل ہے جس کی بات آپ کر رہے ہیں؟ ہمارے ملک کی سلامتی اور سالمیت کو انڈیا سے خطرہ ہے اور وہ پے درپے دہشت گردی کراتا چلا جا رہا ہے اور وہ دہشت گردوں کو فنانس کر رہا ہے‘ تو پھر ان کے ساتھ کرکٹ کھیلنے کی کیا ضرورت ہے؟ وہ تو نہیں کھیلنا چاہتے آپ کے ساتھ‘ وہ تو آپ کے کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانا بھی پسند نہیں کرتے۔ جب انہوں نے کہا کہ پہلگام کا واقعہ آپ نے کروایا تو اس کے بعد انہوں نے ہمارے خلاف جارحیت کی۔ انہوں نے تو ہمارے وزیر داخلہ اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی سے ایشیا کپ کی وِننگ ٹرافی لینا گوارا نہیں کیا اور آج تک ٹرافی وصول نہیں کی۔ تو پھر ہم بھارت کے ساتھ کرکٹ کھیلنے کیلئے کے اتنے مشتاق کیوں ہیں؟
افغانستان انڈیا کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف پوری طرح ملوث ہو گیا ہے‘ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل کا بھی پاکستان کے خلاف بھارت سے گٹھ جوڑ ہے۔ یہ ایک طرح سے پاکستان کے خلاف بلاک بن چکا ہے۔ اور تو اور ہمارے ایک دوست خلیجی ملک کا جھکاؤ بھی انڈیا کی طرف ہے۔ اسی طرح ایران کے خلاف امریکہ کی کارروائیاں ہوئیں تو اس کے اثرات بھی لامحالہ پاکستان کے پر آئیں گے۔
بدقسمتی سے مشرق میں بھارت کے ساتھ ہماری طویل سرحد شروع دن سے اکثر غیر محفوظ ہے۔ مغرب میں افغانستان اور ایران کے ساتھ بھی ہمارے تعلقات کوئی قابلِ رشک نہیں ۔ لے دے کر ایک شہد سے میٹھا ہمسایہ چین رہ جاتا ہے جس طرف سے ہمیں ٹھنڈی ہوا آ رہی ہے۔ پاکستان کے خلاف سازشیں اپنے عروج پہ پہنچ چکی ہیں‘ اس تمام تر صورتحال میں پاکستان کے جو کرتا دھرتا ہیں ہم ان سے اپیل ہی کر سکتے ہیں‘ پھر بھی اگر ان کو ہوش نہیں آتی تو پھر ان کے بارے میں کیا کیا جا سکتا ہے۔ پھر یہی کہا جا سکتا ہے کہ روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجا جا رہا تھا۔
پاکستان کا جو سب سے نازک معاملہ ہے وہ پاکستان کی معیشت ہے۔ حکمرانوں کی شبانہ روز کوششوں سے پاکستان کرپٹ ممالک کی فہرست سے نکل کرکرپٹ ترین ممالک کی صف میں شامل ہو چکا ہے۔ مسلسل کرپشن کے باعث پاکستان کی معیشت چونکہ نہایت نیچے جا چکی ہے اور یہ براہ راست ایک سگنل ہے کہ اب ہم نے یعنی پاکستان نے جانا کدھر ہے۔ دوسری طرف بدقسمتی سے پاکستان کی قوم سیاسی طور پر انتشار کا شکار ہے۔ صوبوں کے آپس کے مسائل ہیں‘ لسانی مسائل‘ سیاسی مسائل‘ مذہبی مسائل‘ تنظیمی مسائل یہ وہ سارے مسائل ہیں‘ جن کی میں بات کر رہا ہوں اور ان پر غور کرنا ازحد ضروری اور وقت کا اولین تقاضا ہے۔ لیکن ہمیں مخالفین کو نیچا دکھانے سے فرصت نہیں‘ اور نہ ہی وطن کی فکر ہے۔
وطن کی فکر کر ناداں! مصیبت آنے والی ہے
تیر ی بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں