"IAS" (space) message & send to 7575

اسلام میں عورت کا مقام

بھارت کی ریاست بہار میں خاتون مسلمان ڈاکٹر کے ساتھ پیش آنے والے واقعے پر عالمی سطح پر تنقیدکی گئی اور انسانی حقوق کے اداروں کی طرف سے اس رویے کو خاتون کی خودمختاری اور شناخت کے حوالے سے توہین آمیز قرار دیاگیا۔ہمارے ہاں مختلف حلقوں کی جانب سے بھی بھارتی وزیر اعلیٰ کے اس توہین آمیز رویے پر سخت تنقید کی گئی۔آپ کو یاد ہو گا کہ گزشتہ ماہ بھارت کے شہر پٹنہ میں نئے ڈاکٹرز کو سرکاری نوکری کے لیٹرز دینے کی تقریب میں وزیراعلیٰ نتیش کمار نے توہین آمیز انداز میں مسلمان ڈاکٹر نصرت پروین کا نقاب کھینچ لیا تھا۔ بلاشبہ یہ اقدام قابلِ مذمت ہے۔مگر یہ بات بھی غور کرنے کی ہے کہ عورت کے پردے کی تو سب کو فکر رہتی ہے اوراس بارے میں سوال کیا جاتا ہے کا پردہ کیسا ہونا چاہیے ؟لیکن کوئی یہ بھی جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں عورتوں کے ساتھ مردوں کو بھی پردے کاحکم دیا ہے۔اور ان کو اپنی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ہم نے دین کو مشکل بنا کر پیش کرنے کا تہیہ کیا ہوا ہے اور یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کو کہیں بھی آرام سے جینے نہیں دینا۔
جہاں تک پردے کے احکام کی بات ہے تو اسلام میں پردے کا حکم مسلمان عورتوں کے لیے ان کی الگ شناخت قائم کر دینے کی تدبیر تھی جو اوباشوں اور تہمت تراشنے والوں کے شر سے اُن کو محفوظ رکھنے کے لیے اختیار کی گئی۔سورۃ الاحزاب میں حکم ہوا: (ترجمہ) ''اے نبی اپنی بیویوں اور بیٹیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دیں کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں‘ اس سے بہت جلد ا ن کی پہچان و شناخت ہوجایا کرے گی‘ پھر وہ ستائی نہ جائیں گی اور اللہ تعالی بخشنے والا مہربان ہے‘‘ ( الاحزاب : 59)۔ اکثر اہلِ علم نے لکھا ہے کہ اس سے مقصود یہ تھا کہ وہ اندیشے کی جگہوں پر جائیں تو دوسری عورتوں سے الگ پہچانی جائیں۔ اسی طرح سورۃ النور (آیت: 31) میں خواتین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی زینت دوسروں کے سامنے ظاہر نہ کریں‘ سوائے ان لوگوں کے جو محرم ہیں (یعنی وہ قریبی رشتہ دار جن سے شادی نہیں ہو سکتی)۔خواتین کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنے سر کے کپڑے کو سینے پر ڈالیں‘ تاکہ ان کا سینہ بھی ڈھکا رہے۔یہ آیت گھر اور محرم افراد کے سامنے پردے کے اصول کوبیان کرتی ہے اور ساتھ ہی مردوں اور عورتوں کو اپنی نگاہیں نیچی رکھنے کا بھی حکم دیتی ہے۔آسان الفاظ میں سورۂ نور کی یہ آیت گھر کے اندر یا قریبی رشتہ داروں کے سامنے پردے اور لباس کا طریقہ بتاتی ہے۔عورتوں کو بناؤ سنگھار کی بابت اضافی حکم دیا گیا ہے۔اس میں مردوں کوبھی پردے کے حوالے سے وہی حکم ہے جو حکم عورتوں کو دیا گیا ہے۔
پردے کے حوالے سے نبی کریمﷺ نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کو ہدایت کی تھی کہ ''جب عورت بالغ ہو جائے تو جائز نہیں کہ اس کے چہرے اور ہاتھوں کے سوا کچھ نظر آئے‘‘(سنن ابی دائود)۔ یہ حکم چودہ سوسال پہلے دیا گیا تھا لیکن ہم مسلمانوں کی '' عقل سلیم‘‘میں یہ بات نہیں آئی۔اورہم نے مذہبی احکام اور علاقائی ثقافت کے خلط ملط سے جہالت میں اپنا بیڑہ غرق کر لیا۔ اشرافیہ میں شامل طبقات نے خواتین کوکام سے روک کرمسلمان معاشرے کو معاشی اور معاشرتی ترقی سے روکا گیا۔یہ بھی کہا گیا کہ عورت نوکری نہیں کرسکتی‘عورت مردوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی‘ مردوں سے قدم سے قدم ملا کر نہیں چل سکتی‘جبکہ اللہ تعالیٰ نے عورت کوہرگز کمتر نہیں بنایا بلکہ مرد کے برابر رکھا ہے اور دونوں کو مساوی حقوق دیے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ عورت کا لباس تہذیب یافتہ ہونا چاہیے۔ جہاں تک برقع کی بات ہے تو یہ ہندوستان میں اشرافیہ کا کلچر تھا۔کیا ترکیہ‘ انڈونیشیا یا ملائیشیا وغیرہ میں ایسا برقع ہوتا ہے؟ اسلام دینِ فطرت ہے یہی وجہ ہے کہ اس میں بے جا پابندیوں کا کوئی تصور نہیں ہے۔قرآن پاک میں یہ حکم واضح طور پر موجود ہے کہ دین میں کوئی تنگی نہیں ہے۔اسلام نے عورت کو مرد کے برابر حقوق چودہ سو سال قبل اس وقت ہی دے دئیے تھے جب عورت کے حقوق کا تصور ابھی دنیا کے کسی بھی معاشرہ میں پیدا نہیں ہوا تھا۔ عورت اور مرد کی مساوات کا نظریہ دنیا میں سب سے پہلے اسلام نے پیش کیا اور اس طرح عورت کو مرد کی غلامی سے نجات دلائی جس میں وہ صدیوں سے جکڑی ہوئی تھی۔
اسلام نے مرد کو ایک باپ‘ایک بھائی‘شوہر اوربیٹے کی صورت میں عورت کا محافظ اور نگہبان بنایاہے۔اسی بنا پرقرآن مجیدمیں یہ فرمایا گیا ہے کہ مرد عورتوں پر حاکم ہیں۔اس طرح گویا مختصر ترین الفاظ اور نہایت بلیغ انداز میں عورت اور مرد کی رفاقت کو تمدن کی بنیاد قرار دیا گیا اور انہیں ایک دوسرے کیلئے ناگزیر بتاتے ہوئے عورت کو بھی تمدنی طور پر وہی مقام دیا گیا ہے جو مرد کو حاصل ہے۔ مردوزن زندگی کی گاڑی کے دو پہیے ہیں‘یہ کہاوت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مرد اور عورت دونوں ہی زندگی کے سفر کو کامیاب بنانے کیلئے ضروری ہیں اور زندگی کی گاڑی (شادی شدہ زندگی یا معاشرتی زندگی) کو چلانے کیلئے دونوں کا ساتھ اور توازن ضروری ہے‘ جیسے گاڑی کے دو پہیے برابر چلیں تو گاڑی صحیح سمت میں رواں دواں رہتی ہے‘ ورنہ سفر میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں‘اسی طرح مرد اور عورت دونوں مل کر ہی ایک مکمل اور متوازن زندگی گزار سکتے ہیں۔مرد اور عورت دونوں کے حقوق اور ذمہ داریاں برابر ہیں۔ زندگی کے سفر میں دونوں کو ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے۔
نبی کریمﷺ نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں ارشاد فرمایاتھا ''عورتوں کے معاملہ میں خدا سے ڈرو۔تمہارا عورتوں پر حق ہے اور عورتوں کا تم پر حق ہے۔‘‘یہاں بھی عورت کو مرد کے برابر اہمیت دی گئی ہے اور عورتوں پر مردوں کی کسی قسم کی برتری کا ذکر نہیں ہے۔ اس طرح تمدنی حیثیت سے عورت اور مرد دونوں اسلام کی نظر میں برابر ہیں۔ اور دونوں کو یکساں اہمیت حاصل ہے۔
اسلام میں پردے کا تصور صرف جسم چھپانے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک جامع نظام ہے جس میں نگاہوں کی حفاظت‘ شرم و حیا اور اخلاقی پاکیزگی شامل ہے۔ اسلام میں پردہ صرف لباس کا نام نہیں بلکہ نگاہوں‘ اعمال اور چال چلن میں حیا اور پاکیزگی کا نام ہے۔ اسلام کے ابتدائی دور میں عورت برقعے کے بغیر بھی شرم و حیا اور عفت و عصمت کے پورے احساس کے ساتھ زندگی کی تما م سرگرمیوں میں پوری طرح حصہ لیتی تھی۔ طرابلس کی جنگ میں ایک لڑکی‘فاطمہ بنت عبداللہ غازیوں کو پانی پلاتے ہوئے شہید ہوگئی تو اس واقعہ سے علامہ اقبال اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے اسی لڑکی کے نام کوہی عنوان بنا کر اپنی مشہو ر نظم لکھی۔
فاطمہ! تُو آبروئے ملت مرحوم ہے
ذرہ ذرہ تیری مشتِ خاک کا معصوم ہے
ایک عورت زندگی کی ہر سرگرمی میں حصہ لے سکتی ہے اور لیتی رہی ہے۔ اسلام میں پردے کا معیار مروجہ برقع نہیں‘ اصل پردہ شرم و حیا کے مکمل احساس کا نام ہے اور یہ عورت کیلئے اپنے دائرہ کا ر میں کسی سرگرمی میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ عورتیں اپنا ایک علیحدہ وجود رکھتی ہیں۔ بحیثیت انسان وہ مرد کے برابر ہیں‘ ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے دل و دماغ‘ عقل و فہم اور شعور عطا کیا ہے۔ اْن کو خود دین کا علم اور فہم حاصل کرنا چاہیے اور اس کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کو قرآن پاک کی منشا کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے‘ آمین۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں