"IAS" (space) message & send to 7575

نئے صوبوں کی تحریک‘امید کی کرن…(1)

پاکستان میں رائج فرسودہ سیاسی اور حکومتی نظام کے مہروں نے ملکی وسائل کی بے دریغ لوٹ مار کے سوا پاکستان اور اس کے بے چارے عوام کوکچھ نہیں دیا۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس نظام کے سٹیک ہولڈرز میں شامل طبقات اپنا حصہ بقدرِ جثہ وصول کرنے کیلئے ایک دوسرے کی مقدور بھرمعاونت اور ہرممکن طریقے سے سہولت کاری کر رہے ہیں۔ یہ سب لوگ ایک دوسرے کا خاص خیال رکھتے ہیں اوراپنی اجارداری قائم کر رکھی ہے۔ یہ لوگ اپنے مفادات پرکسی قسم کی ذرہ برابر زد پہنچنے نہیں دیتے۔ رومی سلطنت کے زوال کے بعد مؤرخین نے اس بات پر توجہ دی کہ وہ کون سی وجوہ تھیں کہ جن کے باعث رومی سلطنت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی۔ اس موضوع پر مؤرخین نے لکھا ہے کہ اہم وجہ سیاست کا غیر مستحکم ہونا تھا۔ جب ریاست کی عملداری کمزور ہوئی تو اس کے ساتھ ہی سماجی اور معاشی بحرانوں کی ابتدا ہوئی‘ جس نے انتشار کو جنم دیا‘ جس نے سلطنت کو غیر محفوظ کر دیا۔ مورخ Edward Gibbon نے رومی سلطنت کے کھنڈر دیکھ کر اس کی کھوئی ہوئی عظمت سے متاثر ہوکر یہ فیصلہ کیا کہ وہ اس کے زوال کی تاریخ لکھے۔ یہاں خاص بات یہ کہ اس نے رومی سلطنت کے عروج کو نظر انداز کیا اور ان وجوہ کی نشاندہی کی کہ جو اس کے زوال کا باعث ہوئیں‘ جیسے فوج کا سیاست میں آنا اور اپنی مرضی کے حکمران منتخب کرنا‘ رومی شہنشاہوں کا یکے بعد دیگرے قتل ہونا‘ غلاموںاور ان کے بچوں پر طرح طرح کے مظالم۔ ان کو اکھاڑوں میں لڑایا جاتا اور تیروں سے نشانہ بنایا جاتا تھا۔ اور یہ لوگ کھیل کھیل میں ان کو جان سے مار دیتے تھے۔ اور لوگوں کو منع کیا گیا تھا کہ وہ اس ظلم پر آواز نہ اٹھائیں۔
ہفتہ عشرہ قبل ایک بارسوخ شخصیت کے نو عمر بیٹے نے اسلام آباد میں گاڑی تلے روند کر دو بچیوں کو قتل کر دیا مگر دو‘ ایک روز میں وفاقی دارالحکومت کی عدالت نے مقتولین اور ملزم کے مابین صلح ہونے پر نوعمر ملزم کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ پاکستان دو قومی نظریے کی بنیاد پر بنا ہوا ایک ملک ہے‘ مگر یہ نظریہ اب بگڑ کر خادم اور مخدوم میں تبدیل ہو گیا ہے۔ مخدوموں کو یہ حق حاصل ہے کہ جس طرح چاہیں خادموں کے ساتھ سلوک روا رکھیں۔ جب مخدوموں کے بچے کھیلنے کیلئے نکلتے ہیں تو تم ان پر طرح طرح کے الزام لگاتے ہو‘ بھئی وہ پیدا ہی اس لیے ہوئے ہیں۔ کسی کی گاڑی تلے دو بچیاں آگئی ہیں تو کیا ہوا۔ مخدوم بظاہر لوگوں کے سامنے کہہ رہے ہیں کہ جن خادموں کی بچیاں قتل ہوئی ہیں‘ علاقہ معززین کی مداخلت پر انہوں نے مخدوموں کو معاف کردیا ہے‘ لیکن حقیقت میں مخدوموں نے خادموں کو معاف کیا ہے کیونکہ اگر وہ مقدمہ واپس نہ لیتے تو مخدوم ان کی پورے خاندان کے ساتھ جو کر سکتے تھے وہ دنیا نے دیکھنا تھا۔ اور یہ خادموں کو خوب اچھی طرح معلوم ہے۔ مختلف طریقوں سے مخدوموں کو بچایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے علما فتویٰ دینے کیلئے پیشگی تیار بیٹھے ہوتے ہیں اور کروڑ دو کروڑ دیت کی رقم ادا کرکے خادموں کو خاموش کرا دیا جاتا ہے۔ پاکستان کے ان طبقات اور ان کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا ملک اور صوبوں کے وسائل پر قیام پاکستان سے لے آج تک وراثتی قبضہ چلا آرہا ہے۔ ان لوگوں اور جماعتوں نے آپس میں صوبے تقسیم کر رکھے ہیں‘ لیکن عوامی فلاح و بہبود کیلئے اپنی جاگیر صوبے کو مزید صوبوں میں تقسیم کرنے کیلئے کسی صورت آمادہ اور تیار نہیں‘ اور اگر کوئی اس طرح کا مطالبہ کرے توگویا صوبے کے ساتھ وفاق کا وجود بھی خطر ے میں پڑ جاتا ہے۔
پاکستان کی بہت بڑی بیماریوں میں سے ایک بڑی بیماری نئے صوبوں کا نہ بننا ہے۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ نئے صوبوں کے قیام سے ملک کے تمام مسائل حل نہیں ہوں گے‘ البتہ ایک بہت بڑی بیماری ضرور دور ہو جائے گی۔ ملک و قوم کے حوالے سے ایک خدا ترس آدمی چیئرمین دنیا میڈیا گروپ میاں عامر محمود نے جب نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے کراچی میں بات کی تو پیپلز پارٹی کے جو پروردہ ہیں‘ انہوں نے ادھر اُدھر کے بہت سے اعتراضات اٹھائے‘ لیکن نئے صوبوں کے قیام پر کوئی خاص اعتراض اٹھانے سے یکسر قاصر رہے۔ وہ ایک ہی راگ الاپتے رہے کہ سندھ سندھ سندھ‘ لیکن آپ جاکر سندھ کی حالت دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ جب ان کا اپنا دردِ دل رکھنے والا کوئی آدمی ان کے مفاد کے خلاف بات کرتا ہے تو یہ کس طرح اس کے اوپر اپنے بندوں کو چھوڑتے ہیں۔
میاں عامر محمود کی بات صد فیصد درست ہے کہ آج لگ بھگ 25کروڑ آبادی‘ بڑھتی ہوئی شہری ضروریات‘ وسائل پر دباؤ‘ انتظامی اور علاقائی احساسِ محرومی نے اس ملک کو ایک نئے انتظامی ڈھانچے کی ضرورت پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ حقیقت تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے کہ چار صوبوں والا نظام اب ناکام ہو چکا‘ لہٰذا مضبوط وفاق‘ متوازن ترقی اور مؤثر حکمرانی کیلئے پاکستان کو زیادہ سے زیادہ صوبوں میں تقسیم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ موجودہ صوبے اتنے بڑے ہو چکے ہیں کہ ان کا نظم و نسق برقرار رکھنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ صرف ایک صوبہ پنجاب ملک کی نصف آبادی پر مشتمل ہے۔ لاہور سے راجن پور تک کا فاصلہ تقریباً چھ سو کلومیٹر کا ہے۔ اگر جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنایا جائے تو عوامی مسائل مقامی سطح پر حل ہوں گے‘ اسی طرح خیبرپختونخوا میں ہزارہ اور فاٹا کے علاقے اپنی انتظامی پہچان کے منتظر ہیں‘ چھوٹے صوبے بننے سے حکومتی فیصلے تیز‘ شفاف اور نتیجہ خیز ہوں گے۔
میں ایک لمبے عرصے سے پاکستان کے نظامِ سیاست و جمہوریت کا شدید ناقد رہا ہوں اور مزید صوبوں کے قیام کے ساتھ اقتدار اور اختیار کی نچلی سطح تک منتقلی کا حامی ہوں کیونکہ میں ایک عرصے تک بلدیاتی سسٹم کا حصہ رہا ہوں۔ میں لاہور کی ضلعی حکومت میں میاں عامر محمود کے ساتھ لاہور کی ریونیو کمیٹی کا چیئرمین بھی رہا‘ اور اس نظام حکومت کی افادیت کو بدرجہ اتم سمجھتا ہوں۔ دو بار بطور ناظم اعلیٰ لاہور میاں عامر محمود کے آٹھ سالہ بلدیاتی دور میں شہر لاہور میں جتنی تعمیر و ترقی ہوئی وہ باقی ستر سالوں میں نہیں ہوئی۔ اتنے فنڈز کسی وزیراعلیٰ نے لاہور پر خرچ نہیں کیے ہوں گے جتنے میاں عامر محمود کے سنہری دورِ حکومت میں اہلِ لاہور پر نچھاور کیے گئے۔ یہ فنڈز ضلعی حکومت کے پاس عوام کی امانت تھے اس لیے ان پر خرچ کر دیے گئے۔
پاکستان کی تعمیر و ترقی کیلئے میاں عامر محمود ایک عرصے سے نئے صوبوں کے قیام کی تحریک کو لے کر ہر صوبے میں جا رہے ہیں اور صوبوں کے وسائل پر ایک مدت سے قابض اشرافیہ بلکہ قبضہ مافیا کے خلاف سینہ سپر ہیں۔ اللہ پاک ان کو استقامت دے اور اس نیک مقصد میں کامیاب کرے۔ وہ پاکستان اور صوبوں کی تعمیر و ترقی کی تحریک آگے بڑھا رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے زیر قبضہ صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میاں عامر محمود نے یہ انکشاف بلکہ دعویٰ کیا کہ اہلِ کراچی کے اندر اتنا جذبہ ہے کہ اگر کراچی صوبہ بن جاتا ہے اور اس کو اچھی حکومت مل جاتی ہے تو یہ دبئی سے آگے نکل سکتا ہے۔ اور زیادہ صوبوں کے قیام سے ہی ملکی ترقی ممکن ہے۔ میاں عامر محمود کا کہنا تھا کہ عوام کی فلاح و بہبود ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے‘ قوم قرضوں کے بوجھ تلے دب چکی ہے اور کوئی راستہ نظر نہیں آتا‘ جب تک لوکل گورنمنٹ مضبوط نہیں ہوتی تب تک ترقی خواب ہی رہے گی۔ پاکستان میں زیادہ صوبے ہی ترقی کی راہ دکھانے میں معاون ہو سکتے ہیں۔
یہ کہہ رہی ہے اشاروں میں گردشِ گردوں
کہ جلد ہم کوئی سخت انقلاب دیکھیں گے

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں