"IAS" (space) message & send to 7575

ایران کے حالات ہمارے لیے سبق

ایران جتنا امیر ملک ہے اگر اس کے وسائل عوام پر لگائے جاتے تو آج یہ سنہری ملک ہوتا اوراس کے عوام احتجاج نہ کر رہے ہوتے۔ کسی بھی ملک کو سب سے بڑا خطرہ اپنے بھوکے ننگے عوام سے ہوتا ہے۔ اب ایران میں بھی جو احتجاج ہو رہا ہے یہ تنگ آمد بجنگ آمد والا معاملہ ہے۔ اگر ایران کی حکومت اپنے عوام کے بنیادی مسائل اور حقوق کا خیال رکھتی تو صورتحال اس نہج تک نہ پہنچتی۔ عوام کمپلیکس میں مبتلا ہیں کہ عورت کو برابری کے حقوق نہیں ملتے‘ طرح طرح کی پابندیاں ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو چین کے لوگ بھی پوری دنیا میں جاتے ہیں‘ وہ اپنے ملک اور حکومت کے خلاف کیوں نہیں بولتے؟ ایران کی حکومت کو اپنی ناکامیوں کا ملبہ ڈالنے کیلئے ایک مدعا چاہیے تھا اور وہ ان کو امریکہ کی صورت میں مل گیا۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ امریکہ کا پیدا کردہ ہے اور اس میں ایرانی مقتدرہ کا کوئی قصور نہیں لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔ ایک واقعے سے بات کو سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔ ایک امیر خاتون شادی نہیں کر رہی تھی‘ اس کے ماں باپ اس حوالے سے بڑے پریشان تھے کہ وہ شادی کیوں نہیں کر رہی‘ وہ اس مسئلے کے حل کیلئے کسی ماہر نفسیات کے پاس چلے گئے‘ ماہر نفسیات نے کہا کہ میں اس کو شادی کرنے پر رضامندکر لوں گا۔ وہ خاتون جب اس کے پاس آئی تو پہلے ہی ملاقات میں شادی کرنے پر رضامند ہو گئی۔ اس کے ماں باپ نے ڈاکٹر سے پوچھا کہ آپ نے اتنی جلدی اس کو شادی کرنے پر کیسے قائل کر لیا؟ ڈاکٹر نے کہا کہ میں نے صرف اس کو یہ بتایا کہ محترمہ آپ نے ترقی کی بہت سی منزلیں طے کرنی ہیں‘ آپ نے بہت سے کام کرنے ہیں‘ آپ نے اپنے شعبے میں بہت آگے جانا ہے لیکن ایک انسان ہوتے ہوئے آپ سے کچھ غلطیاں بھی ہوں گی اور جب آپ سے غلطیاں ہوں گی تو آپ ان کا بوجھ کس کے اوپر ڈالیں گی‘ یعنی ان کا ذمہ دار کس کو ٹھہرائیں گی؟ میں نے اس کو بتایا کہ وہ ایک ہی ہستی ہو گی یعنی آپ کا خاوند‘ اس لیے آپ کو اپنی غلطیوں کا ملبہ اپنے خاوند پر ڈالنے کے لیے شادی کرنی چاہیے‘ تو اس نے کہا: ڈاکٹر صاحب آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں میں شادی کر لیتی ہوں۔ اور اس طرح وہ محترمہ پیا گھر سدھار گئیں۔ بدقسمتی سے ہم مسلمان اپنی ناکامیوں کا ملبہ کسی اور پر ڈالنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں اور یہی حال ہمارے حکمرانوں کا ہے۔ جب کسی مسلم ملک میں کوئی بدامنی یا فساد ہوتا ہے تو ہم بڑے آرام سے یہود ونصاریٰ پر ڈال دیتے ہیں‘ امریکہ پر ڈال دیتے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ دشمن طاقتیں اس بدامنی کا فائدہ اٹھاتی ہیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ دراڑ کہاں سے پڑتی ہے‘ یعنی مسئلہ اپنے گھر سے شروع ہوتا ہے۔ ایران میں جس قدر زمین سے تیل نکلا اس کے ثمرات اگر عوام تک پہنچے ہوتے تو ایران کے عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر نہ نکلتے۔ دو‘ چار‘ دس لوگ تو ملک کے غدار ہو سکتے ہیں اور کسی لالچ میں ملکی مفاد کے خلاف جا سکتے ہیں لیکن ہزاروں‘ لاکھوں لوگ ملک کے غداری کیسے ہو سکتے ہیں؟ ایرانی حکومت کے خلاف تین ہفتوں سے لاکھوں لوگ سراپا احتجاج کیوں ہیں اور انہوں نے اپنی جانوں کو داؤ پر کیوں لگا رکھا ہے؟ حکومت اس طرف توجہ کیوں نہیں دے رہی؟ ایران نے اپنے ہمسایہ ممالک میں تو دخل اندازی کی لیکن اپنے عوام کی حالت کو بدلنے کے لیے خاص توجہ نہیں دی‘ جس کی وجہ سے ایرانی حکومت کو یہ دن دیکھنا پڑ رہے ہیں۔ ایران کے پیسے لبنان میں خرچ ہوئے‘ ایرانی سرمائے نے عراق‘ شام اور فلسطین میں اپنا رنگ دکھایا لیکن ایران کے تیل سے حاصل ہونے والی دولت اپنے ملک میں خرچ نہیں ہوئی اور اپنے عوام کی تقدیر نہیں بدل سکی‘ جس کے باعث ایرانی باشندوں کو باامر مجبوری اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا پڑ رہا ہے۔
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ ایران کی تہذیب دنیا کی قدیم اور امیر ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے اور تقریباً پانچ ہزار سال پر محیط ہے۔ اس میں قدیم فارسی سلطنتیں‘ زرتشتیت جیسے مذاہب اور فنون‘ سائنس‘ ادب وفلسفہ میں نمایاں ترقی شامل ہے‘ جس نے بعد کی تہذیبوں خاص طور پر اسلامی تہذیب پر گہرا اثر ڈالا۔ ایران دنیا میں تہذیب وتمدن کا گہوارہ رہا ہے۔ کسی زمانے میں وہ سپر پاور بھی رہا ہے اور وہاں کے لوگ بہت بیدار مغز‘ تخلیقی اور پڑھے لکھے ہیں۔ اس طرح ایران ایک امیر ملک بھی ہے۔ ایران نے پتھر کے دور سے لے کر آج تک مسلسل تہذیبی سفر طے کیا ہے جس میں سیلک (Sialk) تہذیب جیسی قدیم آبادیاں شامل ہیں۔ ایران کی قدیم ہخامنشی‘ اشکانی اور ساسانی سلطنتوں نے ایک وسیع سلطنت بنائی جس نے فنِ تعمیر‘ انتظامیہ اور ثقافت میں سنگ میل قائم کیے۔ فارسی زبان (قدیم‘ وسطی اور جدید) ایرانی تہذیب کا دل ہے جس نے دنیا بھر میں شاعری اور ادب کو متاثر کیا۔ ایرانیوں نے فلکیات‘ ریاضی‘ طب اور مصوری میں اہم کردار ادا کیا جس کے نمونے پرسیپولیس جیسے مقامات پر ملتے ہیں۔ ایرانی تہذیب نے وسطی ایشیا‘ جنوبی ایشیا اور دیگر علاقوں میں ثقافت‘ زبان اور فن پر دیرپا اثرات چھوڑے ہیں۔ مختصراً یہ کہ ایرانی تہذیب ایک کثیر جہتی‘ پُرجوش اور تاریخی طور پر بہت اہم تہذیب ہے جس کی جڑیں بہت گہری ہیں اور جس نے انسانی تاریخ پر گہرا اثر ڈالا ہے۔
ایران اس وقت اپنی سیاسی تاریخ کے اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ امریکی حمایت سے اگر ایران میں رجیم تبدیل ہوتا ہے تب بھی‘ اور اگر نہیں ہوتا تب بھی‘ نقصان ایران ہی کا ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ا یران اس وقت پھنس چکا ہے جیسا کہ صوفی غلام مصطفی تبسم نے کہا تھا:
ایسا نہ ہو یہ درد بنے دردِ لا دوا
ایسا نہ ہو کہ تم بھی مداوا نہ کر سکو
ایران میں تین ہفتوں سے جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران کم از کم پانچ سو افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ عوامی مسائل حل کرنے کی بجائے ایرانی حکومت کی طرف سے مظاہرین کو پھانسیاں دینے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ بلاشبہ امریکہ اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گا۔ امریکی صدر نے ایرانی مظاہرین کو ہلہ شیری دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے لوگ احتجاج جاری رکھیں‘ اپنے اداروں پر قبضہ کرلیں‘ امریکہ کی مدد پہنچ رہی ہے۔ یہ صورتحال بتانے کا مقصد یہ ہے کہ وطن عزیز پاکستان میں پچیس کروڑ میں سے اٹھارہ کروڑ لوگ مہنگائی اور بیروزگاری کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ بھوک انسان کو کفر تک لے جاتی ہے‘ اس لیے اُس دن سے ڈرنا چاہیے اور اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے‘ ہمارے مقتدر حلقوں کو ملک کے عوام کے بنیادی مسائل پر توجہ دینے کی ناگزیرضرورت ہے۔ اگر فوری طور پر ایسا نہ کیا گیا تو بھوکے ننگے عوام کے سیلاب کے سامنے بند باندھنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو جائے گا۔
ہمیں ایران کے حالات سے سبق سیکھنا ہوگا‘ ورنہ وہی ہوگا جو منظورِ خدا ہو گا۔ پاکستان کو امریکہ سے خطرہ ہے نہ بھارت سے‘ نہ افغانستان سے اور نہ ہی کوئی خطرہ عمران خان سے ہے ۔ اس ملک کو اگر کوئی خطرہ ہے تو وہ صرف مفلوک الحال عوام سے ہے۔ اس لیے حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ ملک کے مقتدر طبقوں کی طرف سے بنیادی عوامی مسائل کے حل پر توجہ دی جائے اور عام آدمی کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔ اگر ایران جیسے تیل کی دولت سے مالامال ملک کی حکومت اپنے عوام کو نہیں سنبھال سکی تو پاکستان جیسے غریب اور مقروض ملک کی حکومت کے لیے یہ صورتحال مزید تشویشناک ہے کیونکہ پاکستان تو پہلے ہی مسائلستان بنا ہوا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں