"IAS" (space) message & send to 7575

مر کے بھی چین نہ پایا تو…

ہمارے ہاں من گھڑت اور فرسودہ رسومات شاید ایسا واحد عمل ہے جو انسان کی پیدائش سے شروع ہو کر اس کی تدفین تک جاری رہتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ انسانی زندگی کی رسومات خواہ خوشی کی ہوں یا غمی کی‘ ہر مذہب‘ معاشرے اور ملک میں الگ الگ ہیں۔ جہاں تک انسان کے سفرِ آخرت کی رسومات کا تعلق ہے تو دنیا بھر کے مختلف مذاہب میں عمومی طور پر دو طرح سے مردوں کی تدفین کی جاتی ہے۔ الہامی مذاہب میں‘ جن میں اسلام‘ یہودیت اور عیسائیت شامل ہیں‘ مردے کے جسم کو زمین میں دفن کیا جاتا ہے جبکہ جین‘ سکھ‘ ہندو اور بدھ مت کے پیروکار مردے کے جسم کو جلاکر اس کی راکھ کو پانی میں بہاتے ہیں۔
ہمارے ہاں شادی بیاہ کے موقع پر طرح طرح کی رسومات پر بے انتہا فضول خرچی تو کی ہی جاتی ہے‘ اب انسان کے سفرِ آخرت کی بھی حیران کن رسومات ایجاد ہو کر جڑ پکڑ چکی ہیں۔ یہ فضول رسومات ہیں جو اسلام اور انسانیت کے لحاظ سے بے فائدہ‘ خرافات پہ مبنی اور میت کے لواحقین پر اضافی بوجھ ثابت ہوتی ہیں۔ ان غیر ضروری رسومات میں مہمانداری‘ قبر پر خرافات اور تعزیت کے نام پر فضول خرچی شامل ہیں۔ ان کے بجائے دین اسلام سادگی‘ سنت کے مطابق صرف ضروری احکامات پر زور دیتا ہے‘ جن میں تکفین‘ نمازِ جنازہ اور تدفین شامل ہیں۔ اسی طرح کے دوسرے مسائل جیسے جہیز اور شادیوں پہ اسراف‘ قوم کا فضول کاموں میں وقت ضائع کرتے رہنا‘ جائز کاموں کے لیے دفاتر کے چکر‘ حقوق العباد پر عمل سے دوری‘ وعدہ خلافی‘ اخوت کا نہ ہونا‘ ہمسائے کی عدم خبر گیری‘ بیمار پرسی نہ کرنا‘ غیبت‘ دولت ہی کو سب کچھ سمجھنا‘ رشوت‘ وراثتی جائیداد میں آپس کی زیادتیاں‘ امدادِ باہمی کے تصور کا خاتمہ‘ جوانوں کی تعلیم وتدریس اور فہم قرآن کی جانب توجہ نہ دینا وغیرہ۔ سوچتے جائیں تو ہمارے مسائل کا لامتناہی سلسلہ ہے جن کے حل کے لیے ہر سطح پر کوشش کی ضرورت ہے۔
بلاشبہ دین نبی کریمﷺ پر مکمل ہو چکا‘ اب اس میں کسی بھی قسم کے اضافے کی گنجائش نہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ برصغیر کے مسلمان ہندوؤں کے ساتھ طویل عرصہ گزارنے کی وجہ سے اُن کی بہت سی رسومات کو اختیار کر چکے ہیں۔ ہمارا نام نہاد مذہبی طبقہ اپنے پیٹ اور پلیٹ کی خاطر ان بدعات کو سندِ جواز عطا کرتے نظر آتا ہے بلکہ انہیں بدعاتِ حسنہ کا نام دے رکھا ہے۔ دراصل کوئی بدعت اچھی نہیں ہوتی‘ ہر بدعت گمراہی ہے۔ پاکستان میں ہمارے مقتدر طبقات نے ایک عام انسان کیلئے زندہ رہنا مشکل بنایا ہی ہے‘ فرسودہ رسومات اور بدعات سے مرنا بھی مشکل بنا دیا گیا ہے۔ بقول ابراہیم ذوق:
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے؍ مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائینگے
آگ دوزخ کی بھی ہو جائے گی پانی پانی؍ جب یہ عاصی عرقِ شرم سے تر جائینگے
ذوقؔ جو مدرسے کے بگڑے ہوئے ہیں ملا ؍ان کو مے خانے میں لے آؤ سنور جائینگے
ہفتہ رفتہ میں ہمارے ایک ڈاکٹر دوست کے والدِ محترم کا انتقال ہو گیا‘ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند کرے‘ بلاشہ انہوں نے ایک اچھی زندگی گزاری اور صدقہ جاریہ کے طور پر نیک اولاد چھوڑی ہے۔ ڈاکٹر صاحب ایک کھاتے پیتے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ میں نے اُن سے ٹیلی فون پر تعزیت کی تو وہ بتا رہے تھے کہ اپنے والد محترم کے انتقال پُرملال کے موقع پر بڑے تلخ تجربات بلکہ زندگی کے پُل صراط سے گزرے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ اب تو لاہورمیں قبر کیلئے جگہ ملنا بھی بہت مشکل ہوگیا ہے بلکہ یہ جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے 1973ء میں لاہور کے علاقے نیو مسلم ٹاؤن میں گھر بنایا تھا لیکن اب اس قبرستان میں تدفین کیلئے جگہ ہی نہیں‘ اور اس کی وجہ زیادہ تر قبروں کا پختہ ہونا ہے۔ڈاکٹر صاحب بتا رہے تھے کہ والدِ محترم کے انتقال پر ہمیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ انہیں دفنانا کہاں اور کدھر ہے۔ پھر ہم نے ایک اعلیٰ افسر کی سفارش کرائی‘ تین پٹواری اور ایک تحصیلدار بیچ میں پڑے اور پھر کہیں جا کر ہمیں جوہر ٹاؤن کے سمسانی قبرستان میں والد مرحوم کی تدفین کیلئے قبر کی دو گز جگہ ملی۔ قبر بھی ہمیں پچپن ہزار روپے میں پڑی اور اس کے علاوہ جو رسم قل‘ سوئم پرکھانے پینے اور دیگر امور پر اخراجات اٹھے وہ دس لاکھ روپے کے قریب تھے۔ میں سوچتا ہوں کہ ہم بھائیوں نے تو مل کر یہ اخراجات برداشت کر لیے لیکن ایک عام آدمی کا جب انتقال ہوتا ہے تو اس کے اہلِ خانہ کے ساتھ کیا بیتتی ہو گی۔ ڈاکٹر صاحب! آپ ایک عام آدمی کا سوچ رہے ہیں‘ یہاں تو بادشاہوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے بھی مرتے وقت اسی بات کا شکوہ کیا بلکہ رونا رویا تھا:
کتنا ہے بدنصیب ظفرؔ دفن کے لیے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
ہمارے ہاں اب حال یہ ہے کہ کسی شخص کے دنیا سے رخصت ہو جانے پر بھی رسومات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ ان رسومات میں سے قل‘ سوئم‘ ساتواں‘ دسواں‘ جمعراتیں‘ چہلم اور پھر برسی وغیرہ شامل ہیں۔ غیر ضروری مہمانداری‘ تعزیت کے نام پر رشتے داروں اور دوستوں کے لیے کھانا پکانا اور کھلانا‘ جس سے غمزدہ خاندان پر مالی بوجھ بڑھتا ہے اور میت کے ورثا کو پریشانی ہوتی ہے۔ قبر کوپختہ بنانا‘ چراغاں کرنا اور میت کی روح کے لیے مخصوص اوقات میں نذر ونیاز کرنا خلافِ شرع ہے۔ سوئم‘ چہلم اور برسی جیسی تقریبات اور ان مخصوص دنوں میں اجتماعی کھانے اور فضول خرچیاں کرنا کہاں کی دانش مندی ہے؟
اسلامی تعلیمات کے مطابق جتنا ممکن ہو فضول رسومات سے بچنا چاہیے۔ میت کو جلدی غسل دے کر‘ کفن پہنا کر‘ نمازِ جنازہ پڑھ کر دفن کر دینا چاہیے۔ تمام رسومات میں سادگی اختیار کرنا اور فضول خرچی سے بچنا چاہیے۔ میت کے ورثا پر کھانے کا بوجھ نہ ڈالا جائے بلکہ ہو سکے تو رشتہ داریا ہمسائے کھانے کا اہتمام کریں۔ خرافات میں پڑنے کے بجائے اپنے پیارے کیلئے دعا اور مغفرت طلب کرنی چاہیے۔ مرنے والے کیلئے صدقہ وخیرات کرنا چاہیے‘ مسکینوں کو کھانا کھلانا بھی بہترین عمل ہے۔ میت کے لیے خوب دعائے مغفرت کرنی چاہیے۔ تعزیت میں سادگی اختیار کرنی چاہیے۔ صرف تسلی اور ہمدردی کا اظہار کرنا چاہیے نہ کہ فضول رسومات میں پڑ جانا چاہیے۔ ایک وقت تھا جب کسی آدمی کے انتقال پر اُس کے ہمسائے تین دن تک کھانے کا اہتمام کرتے تھے کیونکہ متوفی کے اہلِ خانہ سوگ کی کیفیت میں ہوتے تھے لیکن اب تو سارا منظر ہی تبدیل ہو گیا ہے۔
اس روئے زمین پر بدترین کام یہ ہے کہ نئے نئے طریقے دین میں ایجاد کئے جائیں۔ حدیث مبارکہ میں ''بد ترین کام‘‘ کا لفظ آیا ہے۔ اس لیے کہ بدعت ایک ایسی چیز ہے جو ایک لحاظ سے ظاہری گناہوں سے بھی بدتر ہے کہ ظاہری فسق وفجور اورگناہ وہ ہیں کہ جس شخص کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہوگا وہ ان کو برا سمجھے گا اور جب برا سمجھے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو کبھی نہ کبھی توبہ کی توفیق بھی عطا فرما دیں گے۔ لیکن بدعت کی خاصیت یہ ہے کہ حقیقت میں تو وہ گناہ ہوتی ہے لیکن جو شخص یہ کر رہا ہوتا ہے وہ اس کو برا نہیں سمجھتا۔ اسی لیے آپﷺ نے فرمایا کہ ''شر الامور‘‘ جس کے معنی یہ ہیں کہ جتنے برے کام ہیں ان میں سب سے بدتر کام بدعت ہے۔ جو دین میں ایسا نیا طریقہ ایجاد کرے جو رسول اللہﷺ اور صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے طریقے سے مختلف ہو‘ اور پھر آگے اس کی وجہ بھی بتا دی کہ ہر بدعت گمراہی ہے لہٰذا جو شخص کسی بدعت میں مبتلا ہے وہ لازماً گمراہی میں مبتلا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو بدعت سے اجتناب کی توفیق عطا فرمائے اور دین کا صحیح فہم عطا فرمائے‘ آمین!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں