روسی مصنف‘ ناول نگار‘ ڈرامہ نگار‘ مضمون نگار اور فلسفی لیو ٹالسٹائی کہتے ہیں کہ اگر کسی رات اچانک کوئی ایسی وبائے خاص پھیلے کہ جس کے سبب سے دنیا بھر کے تمام بادشاہ‘ نواب‘ مہاراجے‘ رئیس‘ جاگیردار‘ سیٹھ‘ ساہوکار‘ اُمرا‘ سرمایہ دار وغیرہ سب مر جائیں تو نظام عالم میں ذرہ بھر فرق نہ پڑے لیکن اگر اس قسم کی وبا سے کسان‘ جولاہے‘ لوہار‘ بڑھئی‘ دھوبی‘ درزی‘ معمار‘ نائی‘ کوچوان‘ قلی‘ مزدور‘ گاڑی بان وغیرہ مر جائیں تو یہ دنیا کسی کام کی نہ رہے اور بہت بڑا دوزخ بن جائے۔
یہ قول آج کے منظرنامے سے بھرپور مطابقت رکھتا ہے۔ ہمارے ہاں بھی طاقت‘ طبقاتی تفریق اور پالیسیوں کا عوام پر اثر دیکھنے کو ملتا ہے۔ ہمارے ہاں مقتدر طبقات میں شامل اشرافیہ نے عوام کو بَلی کا بکرا بنا کر ان کا جینا محال کر رکھا ہے۔ عوام کے خون پسینے کی کمائی پر یہ تمام طبقات پل رہے ہیں بلکہ موج میلہ اور عیاشی کر رہے ہیں لیکن بے چارے عوام کا کوئی پُرسانِ حال نہیں۔ 78سال گزرنے کے باوجود وطنِ عزیز ایک اسلامی تو کیا فلاحی ریاست بھی نہیں بن سکا۔ عام آدمی اپنے حقوق کے حصول کیلئے دربدر پھر رہا ہے لیکن کوئی محکمہ اس کی داد رسی کیلئے آمادہ وتیار نہیں۔ اسلام کے نام پر حاصل ہونے والے ملک میں ایک عام آدمی کو بنیادی انسانی حقوق میسر نہیں ہیں۔ غریب آدمی صحت‘ تعلیم اور روزگار کی سہولتوں سے محروم ہے جبکہ اشرافیہ میں شامل طبقات عوام کے ٹیکس کے پیسوں پر پل رہے ہیں اور عوام تک کچھ بھی نہیں پہنچ پا رہا۔
ہم اگر دیکھیں کہ ہمارے مقتدر طبقات عوام کیا ڈِلیور کر رہے ہیں تو پہلے عدلیہ کو دیکھ لیں‘ معلوم ہو جائے گا کہ عدالتیں عوام کو انصاف فراہم کر رہی ہیں یا خود انصاف کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ عوام کو انصاف فراہم نہیں کیا جا رہا بلکہ انصاف کو بیچا جا رہا ہے۔ امیر اور بااثر لوگ تو 'انصاف‘ حاصل کر لیتے ہیں لیکن غریب آدمی کیلئے انصاف بہت مہنگا ہو چکا ہے۔ وہ اس کو خریدنے کی سکت بھی نہیں رکھتا۔ وہ وکیل کی فیس ادا کرنے کے قابل نہیں‘ اس لیے اس کی انصاف کے حصول تک رسائی بھی نہیں۔ عوام کے سول عدالتوں میں دائر مقدمات پندرہ پندرہ‘ بیس بیس سال سے زیر التوا ہیں۔ لوگ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتے ہیں اور دادا کی جگہ پوتا کیس لڑ رہا ہوتا ہے لیکن ان کو انصاف نہیں ملتا جبکہ اشرافیہ میں شامل طبقات چوٹی کے وکیل کرکے سرخرو ہو جاتے ہیں۔ عام آدمی کا کوئی پُرسانِ حال نہیں۔
اسی طرح سیاستدان کا کام بھی عوام کیلئے آسانی پیدا کرنا اور خدمت کرنا ہے۔ لوگ انسانیت کی خدمت کیلئے سیاست کا انتخاب کرتے ہیں اور اس کے ذریعے عوامی خدمت کو عبادت سمجھتے جبکہ ہمارے ہاں سیاست کو عوامی خدمت کے بجائے کاروبار بنا لیا گیا ہے۔ لوگوں نے سیاست کو لوٹ مار کرکے مال پانی بنانے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ وہ سیاست میں آتے ہی صرف مال بنانے کیلئے ہیں‘ یوں وہ عوامی ترقی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ سارے سرکاری فنڈز سیاستدان خود ہڑپ کر جاتے ہیں اور عوام تک بہت کم پہنچتے ہیں بلکہ کچھ بھی نہیں پہنچتا۔ یہ حکومت میں آ کر مہنگائی اور لوٹ مار کر کے اپنی تجوریاں تو بھر لیتے ہیں لیکن عوامی مسائل کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے۔ ان کا جینا محال کر دیتے ہیں اور وہ دو وقت کی روٹی کیلئے مارے مارے پھرتے ہیں۔ مہنگائی کے ساتھ بڑھتی ہوئی بیروزگاری کے باعث عام آدمی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور بال بچوں کا پیٹ پالنا مشکل ہو رہا ہے۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی گزشتہ دو سال کی معاشی کارکردگی اور رواں مالی سال کی معاشی پروجیکشنز جاری کی ہیں۔ آئی ایم ایف نے اس امر کا پیشگی انکشاف کیا ہے کہ حکومتی پالیسیوں کے باعث پاکستان میں مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ہے۔ مہنگائی کی شرح 4.5 فیصد سے 6.3 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ آئی ایم ایف نے یہ بھی انتباہ کیا کہ جون 2026ء میں مہنگائی بڑھنے کی شرح 8.9 فیصد تک بھی جا سکتی ہے جبکہ جون 2025ء میں مہنگائی کی شرح 3.2 فیصد تھی۔ حکومتی دعووں کے برعکس پاکستان میں مہنگائی میں اضافے کا رجحان جاری ہے۔ وفاقی ادارۂ شماریات کی رپورٹس کے مطابق اشیائے ضروریہ کی قیمتیں‘ خاص طور پر عام استعمال کی چیزیں مثلاً آٹا‘ چاول‘ چکن‘ انڈوں‘ دالوں‘ چینی اور گھی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے‘ جبکہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح بھی بڑھتی جا رہی ہے۔
ریاستی اداروں کا سیاست میں بھرپور عمل دخل رہا ہے بلکہ آدھے سے زیادہ عرصہ وہی بلاواسطہ یا بالواسطہ حکومت میں رہے ہیں۔ اسی طرح بیورو کریسی کا کام تو عوام کی خدمت اور انہیں سہولتیں فراہم کرنا تھا لیکن یہ عوامی خادم کے بجائے افسر شاہی بنی ہوئی ہے۔ عوام اپنے جائز کاموں کے لیے ان کے دفاتر کے چکر لگا لگا کر تھک جاتے ہیں اور ان کے جائز کام بھی رشوت دیے بغیر نہیں ہوتے۔ عوام کے خون پسینے کی کمائی سے ان کو تنخواہیں دی جاتی ہیں۔ رہائش‘ گاڑیاں اور پٹرول مفت ملتا ہے لیکن یہ لوگ عوام کے جائز کام بھی لٹکائے رکھتے ہیں۔ پاکستان کی بیورو کریسی 60ء کی دہائی میں حکمرانی کا ایک مضبوط ستون تھی‘ جس پر قوم کے مستقبل کی ذمہ داری سونپی گئی۔ آج یہ عمارت بوسیدہ ہو چکی ہے‘ اس کی بنیادیں دہائیوں کی زوال پذیری سے کمزور ہو چکی ہیں۔
ذرائع ابلاغ میں بھی عوام کے مسائل کو کماحقہٗ اجاگر نہیں کیا جا رہا بلکہ بے مقصد سیاسی بحث جاری ہے۔ ایک وقت تھا جب صحافت ایک مشن تھا لیکن اب ایک انڈسٹری بن چکی ہے۔ اسی طرح ہمارا جاگیردار طبقہ عوام کو انسان ہی نہیں سمجھتا بلکہ ان کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا ہے اور ان کے حقوق کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا۔ ان کے ملازم دن رات ان کی خدمت میں مصروف ہیں لیکن وہ اپنے ملازموں کو انسانوں کے بجائے حیوان یا اس سے بھی بدتر خیال کرتے ہیں اور ان کے ساتھ انسانیت سوز ظلم روا رکھتے ہیں۔ ان کی جان‘ مال اور عزت کا کوئی تحفظ نہیں ہے۔ اسی طرح کاروباری طبقہ حکومت سے سبسڈی لے کر کھائے جا رہا ہے اور عوام کو ہر چیز مہنگے داموں فروخت کر رہا ہے۔ کبھی چینی اور کبھی آٹے کے ذریعے مال بنایا جا رہا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے مذہبی رہنماؤں نے بھی نے عوام کی رہنمائی کا حق ادا نہیں کیا جبکہ جعلی پیروں نے عوام میں جہالت پھیلانے اور ان کو لوٹنے کے سوا کوئی کام نہیں کیا۔ پیروں کی اپنی حالت تو بدلی چکی لیکن مریدوں کی حالت بد سے بدتر ہو رہی ہے۔ بقول علامہ اقبال:
ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دِیا بھی
گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن
شہری ہو‘ دیہاتی ہو‘ مسلمان ہے سادہ
مانندِ بُتاں پُجتے ہیں کعبے کے برہمن
ان مقتدر طبقات نے پاکستان کے عوام کا سانس لینا دشوار کیا ہوا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ ان طبقات کو راہ راست پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے تو ہی عوام کی حالت بدل سکتی ہے۔