"IAS" (space) message & send to 7575

اندھیروں کی طرف سفر

پاکستان کے غریب اور مجبور عوام خطے کی سب سے مہنگی بجلی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔اس امر میں اب کوئی شک نہیں رہا کہ بجلی کے بلوں نے عام آدمی کی کمر توڑ کررکھ دی ہے اور لوگوں کی ساری کمائی‘ توانائی اور روشنی کے حصول کیلئے بجلی کا بل اداکرنے پر صرف ہو جاتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کے پچیس کروڑ عوام صرف بجلی کے بل اداکرنے کیلئے زندہ ہیں۔ وہ پورے مہینے میں جو کماتے ہیں بجلی کے بلوں کے ذریعے بٹور لیا جاتا ہے۔ یہ پیسے پاکستان کی اشرافیہ کے بیس سے پچیس خاندانوں کے پاس چلے جاتے ہیں۔ اس طرح پچیس کروڑ عوام پچیس خاندانوں کو پال رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ کیسی روشنی ہے جو پاکستان کو ترقی کے بجائے اندھیروں کی طرف لے کر جا رہی ہے۔ 1947ء میں قیام پاکستان کے وقت ملک میں صرف 60میگاواٹ بجلی دستیاب تھی‘ جو آج کے ایک عام وِنڈ فارم کی پیداوارکے برابر ہے۔ قدرت نے اس ملک کو قابلِ رشک آبی وسائل عطا کیے لیکن آج تک ان وسائل سے کما حقہ فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ اگر درست منصوبہ بندی ہو تو پانچ سو ارب یونٹ سے زائد پن بجلی پیدا کی جا سکتی ہے جو ہماری ضرورت سے کئی گنا زیادہ ہے۔ لیکن سستی‘ صاف اور مستقل پن بجلی کے بجائے ہم مہنگے تھرمل پلانٹس کے اسیر ہو گئے‘ جو نہ صرف خزانے پر بوجھ ہیں بلکہ ماحول دشمن بھی ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ 1994ء کی توانائی پالیسی کے نتیجے میں قائم ہونے والے 19نجی پاور پلانٹ (آئی پی پیز) کئی سال بعد بھی ختم ہونے کے بجائے بڑھ کر 106کیسے ہو گئے؟ یہ سو سے زائد آزاد (آپ ان کو مادر پدر آزاد بھی کہہ سکتے ہیں) پاور پروڈیوسرز ہیں جو پاکستان اور اس کے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر کھا رہے ہیں۔ یہ کمپنیاں بجلی بنائے بغیر ہی ہر سال اربوں روپے حکومت سے بٹور رہی ہیں جو عوام کے خون پسینے کی کمائی ہے۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ایک بہتر‘ سستا اور ماحول دوست حل سامنے موجود ہونے کے باوجود ہم ایسے کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
2002ء میں جنرل پرویز مشرف نے مزید 11آئی پی پیز متعارف کروائے۔ یوں 2002 ء تک کل 30 آئی پی پیز بجلی بنانے بلکہ ڈالرز چھاپنے کے انتہائی نفع بخش دھندے میں شامل ہو گئے۔ 2006ء میں جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز نے 38مزید آئی پی پیز کو ڈالرز چھاپنے کے لائسنس بانٹے اور یوں آئی پی پیز کی تعداد 68 تک جا پہنچی۔ 2015 ء میں مسلم لیگ (ن) نے سات مزید سرمایہ کاروں کو آئی پی پیز کے لائسنس جاری کیے اور تعداد 75ہو گئی۔ اگرچہ (ن) لیگ نے جو پلانٹ لگائے ان میں بعض کوئلے پر ہیں لیکن یہ بھی پن بجلی کی نسبت کافی مہنگے ہیں۔ ان کے ساتھ انہی خطوط پر معاہدہ کیا گیا۔ اب صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ ملک بھر میں ان آئی پی پیز کے علاوہ واپڈا کے اپنے پن بجلی اور نیو کلیئر ذرائع سے بجلی بنانے کی گنجائش تقریباً ہزار میگا واٹ تک پہنچ چکی ہے لیکن پاکستان کی اس وقت کل ضرورت 23یا 24 ہزار میگا واٹ سے زیادہ نہیں۔ واپڈا کی پن بجلی کی لاگت تین روپے 25پیسے فی یونٹ ہے لیکن ان آئی پی پیز سے جو بجلی واپڈا کو موصول ہوتی ہے اس کی قیمت کئی گنا زیادہ ہے۔
ہمارے دوست اصلاحی صاحب بتا رہے تھے کہ تیسری بار برسر اقتدار آنے کے بعد میاں نواز شریف نے دھڑا دھڑ نجی پاور پلانٹس لگوائے۔ اگر وہ تھوڑی بہت تحقیق کرتے تو ان کو معلوم ہوتا کہ یہ فائدہ مند ثابت نہیں ہوں گے کیونکہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے پیسہ ملک سے باہر جا رہا تھا اور پاکستان میں کوئی سرمایہ کاری نہیں ہورہی تھی۔ جس کے نتیجے میں نئے پاور پلانٹس لگوانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اس طرح بی بی صاحبہ کے دور کی جو دو سو ارب کی چوری چکاری تھی‘ وہ بڑھ کر دو ہزار ارب ہو گئی۔ اور اس میں کوئی نئی بات بھی نہیں تھی۔ نئی بات یہ ہے کہ لوگوں نے تنگ آمد بجنگ آمد ایک آرگنائزڈ طریقے سے اپنے گھروں اور دفتروں میں سولر انرجی کی پلیٹس لگوا لیں اور اس سے بجلی پیدا کرنا شروع کردی۔ سولر کا استعمال حکومت کے اندازے سے بھی زیادہ ہو رہا ہے کیونکہ حکومت کے اندازے لائسنس لے کر سولر بجلی پیدا کرنے والوں تک محدود ہیں جبکہ چھوٹے چھوٹے گھروں اور دیہات میں بھی لوگوں سولر انرجی کا استعمال کر رہے ہیں۔ دیہات میں زرعی ٹیوب ویل اب اکثر سولر بجلی پر چل رہے ہیں۔ یہ ایک طرح کا بدلہ ہے جو صارفین تنگ آکر محکمہ بجلی سے لے رہے ہیں‘ اسی طرح کا بدلہ وہ اس سے قبل پی ٹی سی ایل سے بھی لے چکے ہیں۔ ایک وقت تھا جب لوگ ٹیلی فون کی ایک لینڈ لائن لگوانے کیلئے مارے مارے پھرتے تھے اور بہت سی رشوت کے باوجود ٹیلی فون لگوانا کارِ دشوار تھا۔ پی ٹی سی ایل کے محکمے کے لوگ دن رات پیسہ بنا رہے تھے اور پی ٹی سی ایل کو بھی کچھ دے دیتے تھے۔ یہی حال واپڈا کا ہے جس کے تمام چھوٹے بڑے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ دن کبھی نہیں آئے گا جب صارفین بدلہ لینے پر اتر آئیں گے لیکن وہ دن دور نہیں جب محکمہ بجلی کے لوگ گھروں میں مارے مارے پھریں گے اور کہیں گے کہ آپ بجلی کا کنکشن استعمال کریں یا پھر اس کو ختم نہ کروائیں۔ اور یہ وقت بہت زیادہ دور نہیں ہے‘ بلکہ وہ وقت بہت قریب آ پہنچا ہے کیونکہ صارفین کا انتقام بہت زبردست ہوتا ہے۔
2015ء سے2025ء تک 10برسوں میں آئی پی پیز کو تقریباً 20ہزار ارب روپے کی ادائیگیاں ہو چکی ہیں جن میں سے خریدی جانے والے بجلی کی مالیت تقریباً نو ہزار 650ارب روپے ہے جبکہ پیداواری گنجائش کی مد میں ان آئی پی پیز کو تقریباً دس ہزار 350ارب روپے کی ادائیگیاں ڈالرز میں کی جا چکی ہیں۔ جوں ہی ڈالر کی شرح بلند ہوتی ہے‘ بجلی بھی مہنگی ہوجاتی ہے۔ جس کی وجہ سے مالکان کھربوں روپے کما رہے ہیں جبکہ عام اور غریب صارفین کیلئے بجلی کے بل موت کا پروانہ بن گئے ہیں۔
اگر کسی بھی شعبے کی قومی پالیسی پر حکمتِ عملی سے عملدرآمد نہ کیا جائے تو منصوبے کے ثمرات تبدیل ہو کر مضرات بن جاتے ہیں‘ پاکستان میں بھی یہی ہوا۔ اگر پالیسی کے مطابق آئی پی پیز کے ساتھ مقامی وسائل کے حامل کوئلے کے پاور منصوبے بھی مکمل کیے جاتے تو درآمدی ایندھن والے مہنگے پاور پلانٹ سے اگلے دس سال بعد نجات نہیں تو کم از کم اپنی شرائط پر معاہدے ممکن تھے۔ عالمی سیاست‘ ٹوٹتی بنتی اسمبلیوں اور سیاسی عدم استحکام نے ملک کو نقصان اور مافیاز کو فائدہ پہنچایا۔ ناقص منصوبہ بندی کے سبب حکومتوں نے ملک کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے والے مقامی وسائل کے منصوبوں پر وقت صرف کرنے کے بجائے مہنگے درآمدی ایندھن والی آئی پی پیز سے معاہدے کرکے عام آدمی کی زندگی مشکل بلکہ اجیرن کردی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ فوری طور پر ان مہنگے آئی پی پیز معاہدوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے اور عوامی مفاد کے فیصلے کیے جائیں کہ قوم کی بقا اسی طور ممکن ہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ ہم بجلی کے بلوں پرکب تک بلبلاتے رہیں گے‘ یا ان کا محاسبہ بھی کریں گے جنہوں نے بجلی کے پلانٹس لگائے اور اپنی بوٹی کے لیے ملک و قوم کو قربان کیا۔ اللہ تعالیٰ بھی فرماتے ہیں کہ کچھ حاصل کرنے کے لیے حرکت کرنا ضروری ہے۔ مولانا ظفر علی خان نے تو بہت پہلے کہہ دیا تھا۔
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو ہدایت عطا فرمائے اور اس عذاب سے ہماری جان چھڑائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں