فائیو جی لائسنس نیلامی کیلئے فائر وال کو عارضی بند کرنے کا فیصلہ
ٹیلی کام کمپنیاں فائیو جی کے بجائے فور جی سروس آلات ،مشینری ،ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کریں گی فائر وال سے انٹرنیٹ رفتار متاثر، مطلوبہ معیار کی سروس فراہمی ممکن نہیں ہو پارہی ،ٹیلی کام کمپنیوں کا موقف
اسلام آباد (نیوز رپورٹر) وفاقی حکومت نے فائیو جی سپیکٹرم لائسنس نیلامی کو کامیاب بنانے کے لیے فائروال کو عارضی طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق ٹیلی کام کمپنیوں نے وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن اور پی ٹی اے سے مطالبہ کیا تھا کہ فائیو جی سپیکٹرم کے مطابق انٹرنیٹ سپیڈ اور موبائل سروس کو مطلوبہ معیار پر فراہم کرنے کے لیے فائر وال بند کردی جائے کیونکہ فائر وال سے انٹرنیٹ رفتار متاثر، مطلوبہ معیار کی سروس فراہمی ممکن نہیں ہو پارہی، ذرائع کے مطابق ٹیلی کام کمپنیاں پاکستان میں فائیو جی سروس کے بجائے فور جی سروس آلات ،مشینری ،ٹیلی کام انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کریں گی، ٹیلی کام کمپنیاں فائیو جی سروس کے مطابق ٹیلی کام انفراسٹرکچر، نئے آلات و مشینری کی تنصیب نہیں کریں گی۔
ذرائع کے مطابق درحقیقت ملک میں فائیو جی کی بجائے فور جی پلس و اپ گریڈیشن سروس فراہم کی جائے گی، ذرائع کے مطابق فائروال بندش سے قومی خزانے کو تقریباً دس ارب روپے کا نقصان ہو گا ، یہ فائر وال 2024 میں نصب کی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق فائیو جی سروس کے تکنیکی مسائل سے فائر وال ٹیلی کام انفراسٹرکچر سے ہم آہنگ نہیں اور فائر وال سروس برقرار رکھنے سے ملک میں فائیو جی سروس متاثر ہو گی ۔ حکام کے مطابق فائر وال کی وجہ سے انٹرنیٹ سروس سست، فری لانسرز، ہزاروں کمپنیوں کی ڈیجیٹل سروسز متاثر ہو سکتی ہیں اور فائیو جی سپیکٹرم کے مطابق سروسز دستیاب نہیں ہو گی ، وفاقی حکومت نے ملک میں فائیو جی سپیکٹرم کی نیلامی اور سروس کامیاب کرانے کے لیے فائر وال بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی میجر جنرل (ر ) حفیظ الرحمن نے فائر وال کو بند کرنے سے متعلق دنیا کے سوال کا جواب نہیں دیا ، پی ٹی اے ترجمان نے جواب میں کہا کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن اس کا جواب دے سکتی ہے ۔